Shikarpur Ka Taleemi Zawal Aur Qabaili Khoon Ki Holi
شکارپور کا تعلیمی زوال اور قبائلی خون کی ھولی

"سچ وڏو ڏوهاري آ" (سچ بڑا گناہگار ہے)، یہ صرف ایک مقولہ نہیں بلکہ آج کے شکارپور کی تلخ حقیقت بن چکا ہے۔ ماضی کا "پیرس" کہلانے والا شہر، جہاں کی گلیوں سے علم کی خوشبو آتی تھی، آج وہاں بے گناہ ماروئڑوں کے خون کی بو پھیلی ہوئی ہے۔ سندھ کا یہ تاریخی ضلع، جو ڈیڑھ صدی سے تعلیم کا مرکز رہا، آج جاگیردارانہ انا اور قبائلی دشمنیوں کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔
شکارپور کی تعلیمی تاریخ انتہائی تابناک رہی ہے۔ چانڈکا سے لے کر خانگڑھ (جیکب آباد) تک کے طلبہ یہاں کے ہاسٹلوں میں رہ کر علم کی پیاس بجھاتے تھے، لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ اسکولوں کو تالے لگ چکے ہیں۔ جاگیردار شاید نوجوانوں کو پڑھا لکھا دیکھنے کے روادار نہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ شعور ان کے تسلط کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ مہر-جتوئی تنازع ہو یا شیخ-بروہی، تیغانی-بجارانی ہو یا ابڑو-ڈاہانی، ان خونی جھگڑوں نے اب براہِ راست تعلیم یافتہ طبقے کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
رواں برس کے واقعات دل دہلا دینے والے ہیں۔ ایک پرائمری ٹیچر صدام مہر کا قتل ہو یا تعلیمی مصروفیت کے دوران جاوید مہر کا گولیوں کا نشانہ بننا، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب جنگ کے اصول بدل چکے ہیں۔ 2024 سے 2025 کے اختتام تک، ایاز جتوئی جیسے بارہویں جماعت کے طالب علم اور غلام رسول مہر جیسے گریجویٹ نوجوانوں کے جنازے اٹھنا ریاست کے منہ پر طمانچہ ہے۔ نائنتھ کلاس کے بچوں کے ہاتھوں میں قلم کے بجائے کلاشنکوف تھما دی گئی ہے، جو ایک نسل کشی کے مترادف ہے۔
شکارپور میں ڈی سی آفس، ایس ایس پی آفس اور رینجرز سیل کی موجودگی کے باوجود شہر کے عین وسط میں دن دیہاڑے قتل و غارت گری ہونا انتظامیہ کی نااہلی یا ملی بھگت کی عکاسی کرتا ہے۔ جب ریاست تماشائی بن جائے، تو جنگل کا قانون نافذ ہو جاتا ہے۔ خانپور اور رستم کی یونین کونسلز آج بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہیں اور SRSO، TCF اور سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن جیسے تعلیمی اداروں کے اسکول ویران ہو چکے ہیں۔
اگر یہ خون کی ھولی مزید ایک سال جاری رہی، تو خانپور اور شکارپور کے اسکول مویشیوں کے باڑے بن جائیں گے اور جہالت کا رقص نسلوں کو نگل جائے گا۔ ریاست کو اب اپنی "ماں" جیسی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ امن اور تعلیم انسان کی بنیادی ضرورت ہیں اور ان کا تحفظ کسی بھی سیاسی یا قبائلی مصلحت سے مقدم ہونا چاہیے۔ وقت آ گیا ہے کہ قلم کو گولی پر فوقیت دی جائے، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

