Wo Chiragh Jo Khud Jal Kar Rasta Dikhata Hai
وہ چراغ جو خود جل کر راستہ دکھاتا ہے

ہم سب اپنی زندگی میں کسی نہ کسی موڑ پر یہ جملہ ضرور کہتے ہیں: "اگر وہ استاد نہ ملتا تو شاید میں آج یہاں نہ ہوتا"۔ یہ جملہ اتفاق نہیں، حقیقت ہے۔ استاد صرف سبق نہیں پڑھاتا، وہ تقدیر کا رخ بھی موڑ دیتا ہے۔
اکثر ایک بات دہرائی جاتی ہے کہ "انسان کی زندگی میں چند لوگ ایسے آتے ہیں جو راستہ نہیں دیتے، سمت دیتے ہیں"۔ استاد بھی انہی لوگوں میں شامل ہے۔ والدین زندگی دیتے ہیں، مگر استاد جینے کا شعور دیتا ہے۔
تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ سکندرِ اعظم دنیا فتح کرنے نکلا تو اس کے ہاتھ میں تلوار تھی، مگر اس کے ذہن میں ارسطو کی تربیت تھی۔ ارسطو اس کا استاد تھا۔ اس نے سکندر کو صرف فلسفہ نہیں پڑھایا، اسے سوچنے کا زاویہ دیا۔ یہی زاویہ بعد میں اس کی قیادت کی بنیاد بنا۔
اسلامی تاریخ میں امام شافعیؒ کا واقعہ مشہور ہے۔ وہ امام مالکؒ کے شاگرد تھے۔ امام مالکؒ نے انہیں صرف فقہ نہیں سکھائی، بلکہ علم کے ساتھ وقار، برداشت اور اخلاق بھی سکھائے۔ یہی وجہ ہے کہ امام شافعیؒ خود ایک عظیم استاد بن کر ابھرے۔ یہاں علم کا سلسلہ صرف کتاب سے کتاب تک نہیں، شخصیت سے شخصیت تک منتقل ہوا۔
برصغیر کی تاریخ میں سر سید احمد خان کا ذکر کیجیے۔ انہوں نے علی گڑھ تحریک شروع کی، مگر اس تحریک کی اصل روح استاد تھے۔ ایسے اساتذہ جنہوں نے غلامی کے دور میں بھی نوجوانوں کے ذہن آزاد کیے۔ یہی اساتذہ بعد میں اس خطے کی فکری بنیاد بنے۔
استاد کا کردار صرف نصاب تک محدود نہیں ہوتا۔ وہ طالب علم کی شخصیت کو تراشتا ہے۔ ایک اچھا استاد یہ جان لیتا ہے کہ کون سا بچہ ڈرا ہوا ہے، کون سا الجھا ہوا ہے اور کون سا چھپی ہوئی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ نمبر سے زیادہ انسان پر توجہ دیتا ہے۔
آج کے دور میں مسئلہ یہ نہیں کہ استاد موجود نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ استاد کا مقام کم ہوگیا ہے۔ ہم نے اسے صرف ملازم بنا دیا ہے، رہنما نہیں سمجھا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ استاد قوم کا انجینئر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر جسم ٹھیک کرتا ہے، انجینئر عمارت بناتا ہے، مگر استاد انسان بناتا ہے۔
فن لینڈ جیسے ممالک کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ وہاں استاد بننا آسان نہیں۔ بہترین ذہن اس شعبے میں آتے ہیں اور انہیں معاشرے میں عزت دی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کلاس روم میں بیٹھا استاد دراصل ملک کا مستقبل لکھ رہا ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں بدقسمتی سے استاد کو وہ عزت، وسائل اور اختیار نہیں ملتا جس کا وہ حق دار ہے۔ اس کے باوجود ہزاروں اساتذہ ایسے ہیں جو کم تنخواہ، کم سہولت اور زیادہ مشکلات کے باوجود بچوں کی زندگیاں بدل رہے ہیں۔ وہ صرف سبق نہیں پڑھاتے، حوصلہ بھی دیتے ہیں۔ وہ صرف سوال حل نہیں کراتے، خوف بھی ختم کرتے ہیں۔
اگر درست بات کہی جائے تو استاد دراصل وہ شخص ہے جو بچے کو یہ یقین دلاتا ہے کہ "تم کچھ بن سکتے ہو" اور جس دن بچے کو یہ یقین مل جاتا ہے، اس دن اس کی تقدیر بدلنا شروع ہو جاتی ہے۔
ہر کامیاب شخص کے پیچھے کسی نہ کسی استاد کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔ وہ استاد شاید آج کسی چھوٹے سے اسکول میں پڑھا رہا ہو، مگر اس کا اثر دنیا کے بڑے بڑے اداروں تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔
آخر میں ایک سادہ مگر سچی بات: استاد صرف پیشہ نہیں، مشن ہے اور جس قوم نے اپنے استاد کا احترام کھو دیا، اس نے اپنا مستقبل کمزور کر دیا۔
اگر ہم واقعی بہتر نسل چاہتے ہیں تو ہمیں اسکولوں کی عمارتوں سے پہلے اساتذہ کی عظمت بحال کرنا ہوگی۔ کیونکہ چراغ جتنا روشن ہوگا، راستہ اتنا صاف نظر آئے گا۔

