Sunday, 01 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Tail, Taqat Aur Samundaron Ki Jang

Tail, Taqat Aur Samundaron Ki Jang

تیل، طاقت اور سمندروں کی جنگ

دنیا کی تاریخ میں کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ بدلتے نہیں، صرف ان کے کردار بدل جاتے ہیں۔ طاقت ہمیشہ طاقتور کے پاس رہی ہے اور طاقت کا سب سے بڑا ذریعہ ہمیشہ وسائل رہے ہیں۔ ایک امریکی مفکرنے کہا تھا، "جنگیں نظریات پر نہیں، وسائل پر لڑی جاتی ہیں"۔ آج جب ہم امریکہ اور ایران کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ جملہ محض ایک قول نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت محسوس ہوتا ہے۔

پچھلے کچھ عرصے سے خلیج فارس میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی جا رہی ہے۔ امریکہ نے اپنا جنگی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچا دیا ہے اور دنیا ایک بار پھر اس خطے کی طرف دیکھنے لگی ہے جہاں سے دنیا کی معیشت کی سانسیں جڑی ہوئی ہیں۔ یہ محض فوجی مشق نہیں، یہ محض دھمکی بھی نہیں، یہ دراصل ایک پیغام ہے اور یہ پیغام بہت پرانا ہے: طاقت وہی رکھتا ہے جو تیل کے راستوں پر کھڑا ہو۔

امریکی بحری بیڑے کی قیادت اس وقت ایک ایسا جنگی جہاز کر رہا ہے جسے سمندر کا بادشاہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یو ایس ایس ابراہام لنکن۔ یہ جہاز صرف لوہے، اسٹیل اور الیکٹرانکس کا مجموعہ نہیں بلکہ امریکی طاقت، ٹیکنالوجی اور عالمی برتری کی علامت ہے۔ یہ نیمٹز کلاس کا ایئرکرافٹ کیریئر ہے جسے 1988ء میں بنایا گیا اور 1989ء میں امریکی بحریہ میں شامل کیا گیا۔ اس کی لمبائی تین سو میٹر سے زیادہ ہے اور جب یہ مکمل لوڈ کے ساتھ سمندر میں اترتا ہے تو اس کا وزن ایک لاکھ ٹن سے تجاوز کر جاتا ہے۔

یہ جہاز روایتی ڈیزل یا پیٹرول سے نہیں چلتا بلکہ دو ایٹمی ری ایکٹرز اس کے دل میں دھڑکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بیس سے پچیس سال تک ایندھن بھرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ سمندر میں یہ جہاز ایک چلتا پھرتا شہر ہے جو چھپن کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کر سکتا ہے۔ اس پر پانچ سے چھ ہزار کے قریب بحری اور فضائی اہلکار موجود ہوتے ہیں۔ ساٹھ سے نوے تک جدید جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر اس کے ڈیک پر ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ یہ جہاز ایک وقت میں کئی محاذ کھولنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا دفاعی نظام اسے دشمن کے میزائلوں اور فضائی حملوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ کو اس قدر طاقت یہاں لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس سوال کا جواب ہمیں نقشے پر ایک تنگ مگر انتہائی اہم نیلی لکیر میں ملتا ہے جسے آبنائے ہرمز کہا جاتا ہے۔ یہ وہ سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کا تقریباً بیس فیصد تیل گزرتا ہے۔ روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل کے ٹینکر یہاں سے گزرتے ہیں۔ یہ راستہ بند ہو جائے تو دنیا کی تیل منڈیاں لرز اٹھیں، قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور یورپ سے ایشیا تک فیکٹریوں کے پہیے رک جائیں۔

اس آبنائے کا شمالی کنارہ ایران کے پاس ہے۔ یعنی ایران کے پاس ایک ایسا قدرتی ہتھیار موجود ہے جو بغیر گولی چلائے دنیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران بار بار یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر اسے دیوار سے لگایا گیا تو وہ آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ بنا سکتا ہے۔ امریکہ اس خطرے کو کبھی نظر انداز نہیں کرتا، اسی لیے اس کے بحری جہاز یہاں مستقل موجود رہتے ہیں۔

ایران خود تیل کے سمندر پر بیٹھا ہے۔ اس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر میں سے ایک ہے۔ دو سو ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ ذخائر۔ یہ وہ خزانہ ہے جو ایران کو معاشی طور پر مضبوط بنا سکتا تھا، لیکن یہی خزانہ اس کی آزمائش بھی بن گیا۔ امریکہ نے ایران پر برسوں سے سخت پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایران کھلے عام اپنا تیل فروخت نہیں کر سکتا۔ یورپ ایرانی تیل نہیں خریدتا، امریکہ خود بھی نہیں خریدتا۔ صرف چین ہے جو مختلف راستوں اور رعایتی قیمتوں پر ایرانی تیل لیتا ہے۔ بھارت بھی ایک وقت میں خریدار تھا مگر امریکی دباؤ کے بعد پیچھے ہٹ گیا۔

تیل کے بغیر کوئی ملک اپنی صنعت نہیں چلا سکتا، اپنی فوج نہیں چلا سکتا، نہ ہی ترقی کا خواب دیکھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ پچھلی کئی دہائیوں سے دنیا کے ہر اس خطے میں موجود ہے جہاں تیل نکلتا ہے۔ مشرق وسطیٰ، افریقہ، لاطینی امریکہ، ہر جگہ ایک ہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ وینزویلا اس کی تازہ مثال ہے جہاں تیل موجود ہے مگر سیاست اور پابندیوں نے ملک کو مفلوج کر دیا۔

چین اس وقت دنیا کے سب سے بڑے توانائی صارف میں سے ایک ہے۔ اس کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیل نہیں۔ یورپ کا بھی یہی حال ہے۔ امریکہ خود تیل پیدا کرتا ہے مگر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ عالمی طاقت صرف پیداوار سے نہیں بلکہ کنٹرول سے آتی ہے۔ جو راستوں پر قابض ہو، وہی فیصلے کرتا ہے۔

اصل خوف چین ہے۔ چین خود کو مستقبل کی سپر پاور سمجھتا ہے۔ اس کی فیکٹریاں دنیا کو سامان فراہم کر رہی ہیں۔ اس کی معیشت کا پہیہ تیل سے چلتا ہے۔ اگر چین کو سستا اور مسلسل تیل ملتا رہا تو وہ امریکہ کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ امریکہ یہی نہیں چاہتا۔ اسی لیے ایران پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ بحری بیڑے بھیجے جا رہے ہیں۔ پابندیاں سخت کی جا رہی ہیں۔ پیغام صاف ہے: توانائی کے نلکے ہمارے ہاتھ میں رہیں گے۔

روس اس کھیل کا ایک اور کردار ہے۔ اس کے پاس تیل اور گیس دونوں ہیں، مگر وہ ایک طاقتور ملک ہے، اس لیے امریکہ براہ راست اس پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ یوکرین کی جنگ نے روس کو کمزور ضرور کیا ہے اور امریکہ یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ عالمی سیاست میں ڈیلیں ہمیشہ بند کمروں میں ہوتی ہیں اور ممکن ہے آنے والے وقت میں روس اور امریکہ کے درمیان کوئی ایسا سمجھوتہ ہو جائے جس کا مقصد بھی بالآخر چین کو محدود کرنا ہو۔

یہی وجہ ہے کہ ایران کے گرد یہ سارا شور ہے۔ یہ جنگ فی الحال توپوں اور میزائلوں کی نہیں، یہ جنگ دباؤ، پابندیوں اور طاقت کے مظاہرے کی ہے۔ یو ایس ایس ابراہام لنکن صرف ایک جہاز نہیں، یہ ایک پیغام ہے۔ یہ پیغام ایران کے لیے بھی ہے، چین کے لیے بھی اور باقی دنیا کے لیے بھی کہ سمندروں پر اب بھی امریکی جھنڈا لہرا رہا ہے۔

آخر میں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ لڑائی کسی ایک ملک کے خلاف نہیں، یہ ایک نظام کے تحفظ کی جنگ ہے۔ سپر پاور کا سٹیٹس برقرار رکھنے کی جنگ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاقت کو خطرہ محسوس ہوا، سمندر میں بیڑے اترے، تیل کے کنوؤں پر نظریں جمی رہیں اور دنیا کو ایک بار پھر یہ یاد دلایا گیا کہ طاقت کہاں ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ یہ کھیل کب تک چلے گا اور اس کی قیمت کون ادا کرے گا۔

یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہمیشہ عوام دیتے ہیں، مگر فیصلے ہمیشہ کہیں اور ہوتے ہیں۔

Check Also

Tail, Taqat Aur Samundaron Ki Jang

By Muhammad Umar Shahzad