Tuesday, 03 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Epstein Files: Taaqat, Paisa Aur Khamoshi

Epstein Files: Taaqat, Paisa Aur Khamoshi

ایپسٹین فائلز: طاقت، پیسہ اور خاموشی

امریکہ میں ایک کہاوت ہے:

"If you want to know how power really works, dont look at the laws, look at the exceptions. "

اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ طاقت حقیقت میں کیسے کام کرتی ہے تو قوانین مت دیکھیں، استثناؤں کو دیکھیں۔

جیفری ایپسٹین شاید اسی استثنا کی سب سے خوفناک مثال تھا۔

جیفری ایڈورڈ ایپسٹین کوئی صدر نہیں تھا، کوئی وزیر اعظم نہیں تھا، کوئی عالمی ادارے کا سربراہ بھی نہیں تھا، مگر اس کے رابطے وائٹ ہاؤس سے بکنگھم پیلس تک پھیلے ہوئے تھے۔ وہ ایک ایسا شخص تھا جو بظاہر مالیاتی دنیا کا ایک خاموش کھلاڑی تھا، مگر پس پردہ طاقت کے ان ایوانوں میں آزادانہ آ جا رہا تھا جہاں عام آدمی کا داخلہ خواب بھی نہیں ہوتا۔

ایپسٹین 20 جنوری 1953ء کو نیویارک کے علاقے بروکلین میں پیدا ہوا۔ اس کا خاندان متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس نے کبھی کسی بڑی یونیورسٹی سے ڈگری حاصل نہیں کی، مگر غیر معمولی ذہانت اور خود اعتمادی نے اسے بہت جلد اشرافیہ کے قریب پہنچا دیا۔

ستر کی دہائی میں اس نے ایک پرائیویٹ اسکول میں ریاضی اور فزکس پڑھانا شروع کیا۔ سوال یہ ہے کہ بغیر ڈگری کے وہ استاد کیسے بنا؟ یہی وہ پہلا سوال ہے جو ایپسٹین کے گرد بننے والی دھند کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

بعد میں وہ وال اسٹریٹ پہنچا، وہاں اس نے ایک سرمایہ کاری فرم میں کام شروع کیا، پھر اپنی ہی مالیاتی سروس کمپنی بنا لی۔ اس کمپنی کے کلائنٹس کون تھے؟ یہ آج تک مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکا۔ مگر اتنا ضرور معلوم ہے کہ ایپسٹین ارب پتی بن گیا، اس کے پاس نیویارک میں لگژری مینشن، فلوریڈا میں وسیع جائیداد، پیرس میں اپارٹمنٹ اور کیریبین میں ایک نجی جزیرہ تھا، لٹل سینٹ جیمز، جسے بعد میں "پیڈوفائل آئی لینڈ" کہا گیا۔

اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔

2005ء میں فلوریڈا پولیس کو اطلاع ملی کہ ایپسٹین کم عمر لڑکیوں کو پیسے دے کر اپنے گھر بلاتا ہے اور ان کا جنسی استحصال کرتا ہے۔ تفتیش ہوئی، شواہد اکٹھے ہوئے، درجنوں متاثرہ لڑکیوں کے بیانات سامنے آئے۔

2008ء میں ایپسٹین نے ایک خفیہ پلی بارگین ڈیل کے تحت اعتراف جرم کیا۔ مگر سزا؟ صرف 13 ماہ قید، وہ بھی ایسی جیل میں جہاں اسے دن میں 12 گھنٹے باہر کام کرنے کی اجازت تھی۔

یہ امریکہ کی تاریخ کی سب سے متنازع عدالتی ڈیلز میں سے ایک تھی۔

یہاں سوال اٹھتا ہے: کون تھا جو ایپسٹین کو بچا رہا تھا؟

وقت گزرتا رہا، ایپسٹین خاموش رہا، مگر اس کے اردگرد آنے جانے والے ناموں کی فہرست لمبی ہوتی گئی۔

سابق امریکی صدر بل کلنٹن، موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ہیلری کلنٹن، بل گیٹس، ایلون مسک، مائیکل جیکسن، برطانوی شہزادہ پرنس اینڈریو، سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود باراک، طاقتور بزنس مین، ہالی ووڈ کے بڑے اداکار، میڈیا ٹائیکونز، یہ سب نام کسی نہ کسی شکل میں ایپسٹین کے ساتھ جوڑے گئے۔

کچھ نے تعلقات تسلیم کیے، کچھ نے انکار کیا، کچھ مکمل خاموشی اختیار کر گئے۔ 2019ء میں اچانک حالات بدلے۔ نیویارک کے فیڈرل پراسیکیوٹرز نے ایپسٹین کو دوبارہ گرفتار کر لیا۔ اس بار الزام انسانی اسمگلنگ اور کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کا تھا۔

اس بار کوئی ڈیل نہیں تھی، کوئی رعایت نہیں تھی۔ ایپسٹین کو میٹروپولیٹن کریکشنل سینٹر نیویارک میں رکھا گیا، جو امریکہ کی سخت ترین جیلوں میں شمار ہوتی ہے۔ 23 جولائی 2019ء کو ایپسٹین نے مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کی۔ اسے زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، بچا لیا گیا۔

اس واقعے کے بعد اسے خودکشی واچ پر ہونا چاہیے تھا، مگر چند دن بعد یہ نگرانی ہٹا لی گئی۔

کیوں؟ آج تک کوئی واضح جواب نہیں۔

10 اگست 2019ء کی صبح جیفری ایپسٹین اپنی کوٹھڑی میں مردہ پایا گیا۔ سرکاری بیان آیا: خودکشی۔

مگر سوالات کی بارش شروع ہوگئی۔

جس جیل میں وہ تھا، وہاں دو کیمرے اس کی کوٹھڑی کے باہر لگے تھے۔ کہا گیا کہ دونوں کیمرے خراب تھے۔ اس رات جو دو گارڈز ڈیوٹی پر تھے، انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ سو گئے تھے اور مقررہ وقفے پر چیک نہیں کیا۔

ایپسٹین کا سیل میٹ چند گھنٹے پہلے ہی کیوں ہٹا لیا گیا؟ پوسٹ مارٹم میں گردن کی ہڈیوں کے فریکچر خودکشی سے زیادہ قتل سے مشابہ کیوں تھے؟ یہ سب محض اتفاقات تھے؟ یا کسی نے بہت مہارت سے ایک کہانی کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا؟

ایپسٹین کی موت کے ساتھ ہی ایک پورا نیٹ ورک خاموش ہوگیا۔ وہ شخص جو اگر عدالت میں بولتا تو شاید دنیا کی طاقتور ترین شخصیات کے چہرے بے نقاب ہو جاتے، اچانک خاموش ہوگیا، ہمیشہ کے لیے۔

یہی وجہ ہے کہ آج بھی یہ سوال زندہ ہے: کیا جیفری ایپسٹین نے واقعی خودکشی کی؟ یا اسے اس لیے مار دیا گیا کہ وہ بہت کچھ جانتا تھا؟

ایپسٹین کی کہانی دراصل ایک فرد کی کہانی نہیں، یہ ایک پورے نظام کا پوسٹ مارٹم ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ جب دولت، سیاست، انٹیلی جنس ادارے اور سماجی حیثیت ایک جگہ جمع ہو جائیں تو انصاف کس طرح اندھا، بہرا اور گونگا بنا دیا جاتا ہے۔

یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ ایپسٹین اکیلا تھا یا وہ صرف ایک مہرہ تھا؟ ایسے نیٹ ورکس کبھی ایک شخص تک محدود نہیں ہوتے۔ ان کے پیچھے سہولت کار، خاموش شراکت دار اور طاقت فراہم کرنے والے موجود ہوتے ہیں۔

ایپسٹین فائلز کا اصل خوف یہی ہے۔ یہ فائلز محض ناموں کی فہرست نہیں بلکہ طاقت کے ان رشتوں کا ریکارڈ ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کیس میں سچائی تک پہنچنے کی ہر کوشش یا تو آدھے راستے میں رک گئی یا کسی نئے تنازع میں الجھا دی گئی۔

میڈیا کا کردار بھی یہاں سوالیہ نشان بنتا ہے۔ کچھ رپورٹس دبائی گئیں، کچھ صحافیوں کو روکا گیا اور کچھ تحقیقات کو قومی مفاد کے نام پر محدود کر دیا گیا۔ ایپسٹین کی موت کے بعد متاثرہ لڑکیوں کے لیے انصاف کی امید تقریباً ختم ہوگئی۔ ایک زندہ ملزم عدالت میں کھڑا ہو کر جو کچھ بتا سکتا تھا، وہ اب قبر میں خاموش تھا۔

دنیا کی طاقتور ریاستیں ہمیں بتاتی ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، مگر ایپسٹین کا کیس ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل دنیا میں قانون کی ایک قیمت ہوتی ہے اور کچھ لوگ وہ قیمت ادا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جیفری ایپسٹین آج بھی ایک نام نہیں، ایک سوال ہے۔

ایک ایسا سوال جو طاقت کے ایوانوں میں گونجتا ہے، مگر جس کا جواب دینے کی ہمت بہت کم لوگ رکھتے ہیں اور شاید اصل خوف بھی یہی ہے۔

Check Also

Gama Goon

By Ashfaq Inayat Kahlon