Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Bilawal, Shazia Marri Aur Darbari Siasat

Bilawal, Shazia Marri Aur Darbari Siasat

بلاول، شازیہ مری اور درباری سیاست

لاہور کی ایک شام کبھی کبھی پورے ملک کی سیاست کا چہرہ دکھا دیتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے مجھے الحمرا کے پلاک لاہور میں ہونے والی سالانہ پنجابی کانفرنس میں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ کانفرنس ہر سال ایک عجیب خوبصورتی کے ساتھ سجتی ہے۔ پاکستانی پنجاب سے سیاستدان، صحافی، ادیب، شاعر، اداکار اور دانشور آتے ہیں جبکہ انڈین پنجاب سے بھی مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات شریک ہوتی ہیں۔ اسٹیج پر اس دن اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان، سابق وفاقی وزیر ندیم افضل چن اور تجزیہ کار و کالم نگار سہیل وڑائچ بیٹھے تھے۔

گفتگو کے دوران ندیم افضل چن صاحب نے ایک جملہ کہا اور پورا ہال چند سیکنڈ کے لیے خاموش ہوگیا۔ انہوں نے کہا: "میں وزیر بھی رہا ہوں، تحریک انصاف میں بھی رہا ہوں اور اب پیپلز پارٹی میں ہوں، لیکن آپ کو ایک حقیقت بتاتا ہوں، ہم کسی بھی جماعت میں ہوں، حقیقت میں درباری ہوتے ہیں۔ بات کرنے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں لیڈر ناراض نہ ہو جائے۔ ساری سیاسی جماعتوں کا یہی حال ہے"۔

میرے ساتھ میرے ایک پروڈیوسر دوست بیٹھے تھے۔ میں نے ان سے کہا، "یار! کم از کم چن صاحب نے سچ بولنے کی ہمت تو کی"۔

یہ جملہ میرے ذہن میں اس وقت دوبارہ زندہ ہوگیا جب میڈیا ٹاک کے دوران بلاول بھٹو زرداری سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بارے میں سوال کیا گیا۔ صحافی نے پوچھا کہ ایک وزیر کہہ رہے ہیں کہ یہ پروگرام صوبوں کے حوالے کر دینا چاہیے، آپ کیا کہتے ہیں؟ بلاول بھٹو نے جواب دیا، "میں اس وزیر صاحب کے بارے میں نہیں جانتا"۔

ساتھ بیٹھی شازیہ مری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "یہ کھیل داس صاحب کی بات ہو رہی ہے، انہوں نے یہ مطالبہ کیا تھا"۔

یہاں سے منظر بدل گیا۔

بلاول بھٹو نے فوراً سخت لہجے میں کہا، "میں نے آپ سے نہیں پوچھا"۔

شازیہ مری نے ہلکے دفاعی انداز میں کہا، "سر، میں تو صرف بتا رہی تھی"۔

اور پھر بلاول بھٹو نے وہ مختصر مگر سخت "شکریہ" کہا جو ہمارے معاشرے میں اکثر "بس اب خاموش ہو جائیں" کے معنی دیتا ہے۔

یہ واقعہ شاید چند سیکنڈ کا تھا، مگر اس نے پاکستانی سیاست کے کئی پردے ہٹا دیے۔

یہاں سوال بلاول بھٹو کے غصے کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں حقیقت میں ہیں کیا؟ کیا یہ واقعی جمہوری ادارے ہیں؟ یا یہ چند خاندانوں، چند شخصیات اور چند طاقتور حلقوں کی ذاتی انڈسٹریاں ہیں جہاں باقی سب لوگ صرف ملازم، درباری یا تالیاں بجانے والے کردار ہوتے ہیں؟

شازیہ مری کوئی نو آموز کارکن نہیں ہیں۔ وہ عمر میں بلاول بھٹو سے تقریباً بیس سال بڑی اور سیاست میں ان سے کہیں زیادہ سینئر ہیں۔ شازیہ مری نے عملی سیاست نوّے کی دہائی میں شروع کی۔ وہ متعدد بار قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں، خواتین کی مخصوص نشستوں پر بھی آئیں، وفاقی وزیر رہیں، اطلاعات، غربت کے خاتمے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے اہم شعبے سنبھالتی رہیں۔ وہ اس پارٹی میں اس وقت سے موجود ہیں جب بلاول بھٹو شاید اسکول میں تھے۔

لیکن مسئلہ یہی ہے۔

پاکستانی سیاست میں عمر، تجربہ، قابلیت یا سینارٹی کی اہمیت نہیں ہوتی۔ اصل چیز صرف ایک ہوتی ہے: "لیڈر کون ہے؟"

اگر لیڈر کا بیٹا ہے تو وہی لیڈر ہے۔ اگر خاندان کا فرد ہے تو وہی مرکز ہے۔ باقی سب لوگ چاہے تیس سال سیاست کر لیں، وہ "سر" ہی کہتے رہتے ہیں۔

یہ صرف پیپلز پارٹی کی کہانی نہیں۔

نواز شریف کے دور میں مسلم لیگ ن کا منظر دیکھ لیں۔ پارٹی کے بڑے بڑے لوگ ایک تقریر سے پہلے بھی سوچتے تھے کہ کہیں قائد ناراض نہ ہو جائیں۔ چوہدری نثار علی خان جیسے سینئر رہنما بھی آخرکار اسی نظام سے تنگ آ کر الگ ہوئے۔ پارٹی میں اختلاف رائے کو اکثر بغاوت سمجھا جاتا تھا۔

پھر عمران خان کی تحریک انصاف کو دیکھ لیجیے، جس نے سب سے زیادہ "انٹرا پارٹی ڈیموکریسی" کے نعرے لگائے۔ لیکن حقیقت کیا نکلی؟ پارٹی کے اندر کئی رہنماؤں نے شکوہ کیا کہ فیصلے چند لوگوں کے ہاتھ میں ہیں۔ جہانگیر ترین اور پرویز خٹک جیسے لوگ وقتاً فوقتاً ناراضی کا اظہار کرتے رہے۔

مجھے ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ ایک مرتبہ تحریک انصاف کے ایک رہنما نے ٹی وی پروگرام میں عمران خان کی موجودگی میں ایک مختلف رائے دینے کی کوشش کی۔ عمران خان نے مسکراتے ہوئے مگر سخت انداز میں کہا، "آپ پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بات نہ کریں"۔ اس کے بعد پورا پروگرام اس رہنما کے چہرے پر پھیلی خاموشی کا گواہ تھا۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں ادارے نہیں بن پاتیں، شخصیت پرست گروہ بن جاتی ہیں۔

تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو درباری سیاست کوئی نئی چیز نہیں۔ مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دربار کا ایک مشہور واقعہ تاریخ میں درج ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ دربار میں ایک امیر نے بادشاہ کے فیصلے سے اختلاف کرنے کی ہلکی سی کوشش کی تو پورا دربار سہم گیا۔ کسی نے اس امیر کی حمایت نہیں کی، کیونکہ سب جانتے تھے کہ بادشاہ کی ناراضی منصب، جاگیر اور عزت سب کچھ چھین سکتی ہے۔ چند دن بعد وہ امیر خاموشی سے دربار سے ہٹا دیا گیا۔ مغل درباروں میں اصل قابلیت سے زیادہ اہم چیز بادشاہ کی خوشنودی سمجھی جاتی تھی۔ آج کے سیاسی درباروں اور اُس زمانے کے شاہی درباروں میں فرق صرف لباس اور زمانے کا ہے، مزاج آج بھی وہی ہے۔

دنیا کی بڑی جمہوریتوں کو دیکھ لیجیے۔

برطانیہ میں مارگریٹ تھیچر جیسی آہنی خاتون کو ان کی اپنی پارٹی نے ہٹا دیا تھا۔ پارٹی نے فیصلہ کیا کہ اب وہ الیکشن نہیں جتوا سکتیں۔ تصور کیجیے، ایک وزیراعظم کو اس کی اپنی جماعت گھر بھیج دیتی ہے۔

امریکہ میں جو بائیڈن کو بھی اپنی جماعت کے اندر شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ وہاں سینیٹرز، گورنرز اور پارٹی ارکان کھل کر اختلاف کرتے ہیں۔ کوئی لیڈر مقدس نہیں ہوتا۔

برطانیہ کی پارلیمنٹ میں کئی بار ایسا ہوا کہ حکومتی اراکین نے اپنی ہی حکومت کے خلاف ووٹ دے دیا۔ کسی کو غدار نہیں کہا گیا، کسی پر پارٹی دشمنی کا فتویٰ نہیں لگا۔

یہ ہوتی ہے سیاسی جمہوریت۔

جمہوریت صرف الیکشن کا نام نہیں۔ جمہوریت یہ ہے کہ پارٹی کے اندر بھی اختلاف کی گنجائش ہو۔ ایک جونیئر رہنما، سینئر کو ڈانٹ نہ سکے۔ ایک کارکن سوال پوچھ سکے۔ ایک وزیر اپنی رائے دے سکے اور اگر لیڈر غلط ہو تو لوگ اس کے سامنے "سر، آپ غلط ہیں" کہہ سکیں۔

لیکن ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں نظریات پر نہیں، شخصیات پر کھڑی ہیں۔

پیپلز پارٹی بھٹو خاندان کے گرد گھومتی ہے۔ مسلم لیگ ن شریف خاندان کے گرد۔ تحریک انصاف عمران خان کے گرد۔

یہاں تک کہ چھوٹی جماعتوں میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔

اسی لیے ہمارے ہاں پارٹی رہنما اکثر "سیاسی کارکن" کم اور "درباری" زیادہ نظر آتے ہیں۔ درباری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ وقت پر تالیاں بجا دے، اختلاف نہ کرے اور لیڈر کے مزاج کو سمجھے۔

مجھے اکثر مغل بادشاہوں کے دربار یاد آتے ہیں۔ وہاں بھی وزیر، مشیر اور جرنیل بیٹھتے تھے مگر سب کی نظریں بادشاہ کے چہرے پر ہوتیں۔ اگر بادشاہ مسکرا دے تو سب مسکرا دیتے، اگر غصہ کر دے تو پورا دربار سہم جاتا۔

فرق صرف لباس کا آیا ہے۔ دربار آج بھی باقی ہے۔

بلاول بھٹو اور شازیہ مری کا واقعہ اسی دربار کی ایک جھلک تھا۔ ایک سینئر سیاستدان صرف وضاحت کرنے کی کوشش کرتی ہیں مگر فوراً خاموش کرا دی جاتی ہیں اور سب جانتے ہیں کہ اس لمحے جواب دینا سیاسی خودکشی بن سکتا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں مضبوط ادارے نہیں بن پاتیں۔ ادارے وہاں بنتے ہیں جہاں افراد سے زیادہ اصول اہم ہوں۔ جہاں سوال پوچھنا جرم نہ ہو۔ جہاں اختلاف غداری نہ سمجھا جائے۔

ورنہ ہوتا یہ ہے کہ ہر جماعت اقتدار میں آ کر جمہوریت کی بات کرتی ہے اور پارٹی کے اندر آمریت چلاتی ہے۔

اور شاید اسی لیے ندیم افضل چن کا وہ جملہ میرے ذہن میں گونجتا رہتا ہے: "ہم کسی بھی جماعت میں ہوں، درباری ہوتے ہیں"۔

سوال صرف یہ ہے کہ پاکستان میں کبھی کوئی ایسی سیاسی جماعت بھی پیدا ہوگی جہاں لوگ درباری نہیں بلکہ واقعی سیاسی کارکن ہوں گے؟

Check Also

Bhool Bhulaiyaa Rastay

By Ashfaq Inayat Kahlon