Saturday, 04 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Tayyab Ilyas
  4. Gujrat Se Goddard Tak

Gujrat Se Goddard Tak

گجرات سے گوڈارڈ تک

فروری 2003 کا ایک عام سا دن تھا۔ آسمان معمول کے مطابق تھا۔ زمین بھی ویسی ہی تھی۔ لیکن چند لمحوں میں سب کچھ بدل گیا۔ امریکہ کا خلائی جہاز کولمبیا زمین کی فضا میں داخل ہوا اور پھر اچانک آگ کا گولہ بن گیا۔ سات خلاباز جل کر بکھر گئے۔ پوری دنیا نے سانحہ دیکھا۔ ٹیلی ویژن اسکرینوں پر شعلے تھے۔ خبروں میں خاموشی تھی۔ انسان کی طاقت بھی سامنے تھی اور اس کی بے بسی بھی۔

اسی روز پاکستان کے ضلع گجرات کے ایک چھوٹے سے گاؤں کڑیانوالہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے یہ خبر سنی۔ اس نوجوان کا نام یاسر طفیل تھا۔ اس گاؤں میں بجلی کم تھی۔ راتیں گہری تھیں۔ آسمان صاف تھا اور صاف آسمان اکثر بڑے خواب پیدا کرتا ہے۔ دیہات کے بچوں کے پاس آج کی طرح ہزار اسکرینیں نہیں ہوتیں، ان کے پاس ایک ہی اسکرین ہوتی ہے، آسمان۔ وہ ستاروں، سیاروں کے درمیان انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کو گھومتے ہوئے دیکھتا تھا۔ وہ نویں کلاس میں تھا کہ اس کی فیملی امریکہ ہجرت کر گئی تھی۔ ہجرت انسان کو دو چیزیں دیتی ہے، تنہائی اور ہدف۔ کوئی کہیں بھی رہتا ہو، جس نے ان دونوں کو سنبھال لیا وہ آگے نکل جاتا ہے۔

کولمبیا کے سانحے نے اسے ہلا دیا۔ اس نے ایروناٹیکل انجینئرنگ پڑھی۔ ایک استاد ملا جس نے ناسا کے اسپیس آپریشنز انسٹیٹیوٹ میں کام کا موقع دیا۔ یہیں سے سفر شروع ہوا اور پھر وہ سفر لیبارٹریوں، خلائی منصوبوں اور آزمائش گاہوں سے گزرتا ہوا کہکشاؤں تک جا پہنچا۔

یاسر طفیل نے ناسا میں جن منصوبوں پر کام کیا وہ معمولی نہیں۔ اس نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ پروجیکٹ لانچ کے وقت مشن سسٹم انجینئر کے طور پر اہم کردار ادا کیا۔ لینڈ سیٹ 8، ٹی آر ایم ایم، ایکوا، ٹیرا اور اورا جیسے سیٹلائٹ منصوبوں سے وابستہ رہا اور اب وہ ٹائگرِس منصوبے پر کام کر رہا ہے جو سن 2027 میں خلائی اسٹیشن پر نصب ہوگا۔ اسے ناسا کے تین بڑے اعزازات بھی مل چکے ہیں۔

ذرا رکیے۔ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کیا ہے؟ یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی دوربین ہے۔ اس پر دس ارب ڈالر لاگت آئی۔ اس نے چودہ ارب سال پرانی کہکشاؤں کی جھلک دکھائی۔ یعنی انسان نے پہلی بار وقت کے تقریباً ابتدائی دریچوں میں جھانکا اور اس عظیم دوربین کے حساس حصوں کی آزمائش میں ایک گجراتی لڑکے کے ہاتھ تھے۔ اقبال نے کہا تھا، ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو ستاروں کی طرف دیکھنا سکھانا چھوڑ دیا ہے۔

آج ناسا کا آرٹیمس 2 مشن چاند کی طرف روانہ ہے۔ سن 1972 کے بعد پہلی بار انسان چاند کے قریب جا رہے ہیں۔ یہ صرف چاند کا سفر نہیں۔ یہ مریخ کی طرف پہلا باقاعدہ قدم ہے۔ قومیں ایسے ہی ادوار میں تاریخ کے اگلے دروازے میں داخل ہوتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اور آج کے طالب علم کو اس مشن میں دلچسپی کیوں لینی چاہیئے؟

جنہوں نے کچھ کرنا ان کے لئے آج بھی مواقع بہت ہیں۔ اس مشن نے بھی ہر ایک کے لئے ایک نیا دروازہ کھولا ہے، ناسا اپنا بیشتر معلوماتی خزانہ اوپن سورس رکھتا ہے۔ جس کو دنیا میں کوئی بھی انٹرنیٹ سے ڈونلوڈ کرسکتا ہے اور خلا میں جائے بغیر تجربات کرکے علم کی نئی جہتیں تلاش کر سکتا ہے۔ آرٹیمس 2 کے ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے ہمارے طلبہ پائتھن اور مشین لرننگ کی مدد سے چاند کی سطح اور موسم کے اعداد و شمار کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں انسٹیٹوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی عالمی معیار کی تعلیم دے رہا ہے۔ ناسا اسپیس ایپس چیلنج میں پاکستانی طلبہ ہر سال حصہ لیتے ہیں۔ سپارکو موجود ہے اور آرٹیمس کے اس نئے دور میں سیٹلائٹ صنعت مزید پھیلے گی۔

بطور ایجوکیشنیسٹ میرا تجربہ ہے، کہ اصل مسئلہ صلاحیت نہیں۔ ہمارے بچے ذہین ہیں۔ بہت ذہین ہیں۔ اصل مسئلہ سمت ہے۔ مثال کے طور پر ہم نے ان کو سمجھائے بغیر کہ موبائل کیسے استعمال کرنا ہے ان کے ہاتھ میں موبائل پکڑا دیا ہے۔ حالانکہ یہی موبائل، یہی انٹرنیٹ انہیں ناسا تک لے جا سکتا ہے۔ ایک بچہ اسکرین پر ڈوپامین سکرولنگ کرتا ہے۔ دوسرا اسی اسکرین پر کائنات پڑھتا ہے اور رات میں آئی ایس ایس کی ایپ سے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کو ٹریک کرتا ہے۔ پہلا وقت گزارتا ہے۔ دوسرا تاریخ بدل دیتا ہے۔

یاسر طفیل گجرات کے اندھیرے گاؤں میں ستارے دیکھا کرتا تھا۔ آج وہ ستارے ناپتا ہے۔ یہ کوئی کرامت نہیں ہے۔ یہ فیصلہ تھا۔ محنت تھی اور ایک خواب تھا جسے اس نے مرنے نہیں دیا۔

گجرات سے گوڈارڈ (دنیا کا سب سے بڑا خلائی تحقیقی مرکز) تک کا راستہ آج بھی کھلا ہے۔ مگر بھیڑ سے الگ ہو کر، چلنے والے کم ہیں۔

Check Also

Khamosh Aziyat

By Syed Mehdi Bukhari