AI Sarif Ya Takhleeq Kar
AI صارف یا تخلیق کار؟
پاکستان نے کبھی لینڈ لائن کا دور پوری طرح گزارا ہی نہیں۔ ہم نے سیدھا موبائل فون اٹھا لیا۔ پاکستان میں سال 2005 میں پانچ فیصد آبادی کے گھروں میں ٹیلی فون کی سہولت موجود تھی اور آج چھیانے فیصد آبادی موبائل فون تک رسائی رکھتی ہے۔ یہ ایک چھلانگ تھی۔ خاموش مگر فیصلہ کن۔ آج تاریخ نے ہمارے دروازے پر پھر دستک دی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار جیب میں رکھا جانے والا آلہ نہیں، ذہن میں بسا دیا جانے والا نظام موضوع ہے۔ اس بار سوال رابطے کا نہیں، برتری کا ہے۔ اس بار داؤ آنے والی نسلوں کا ہے۔
دنیا میں مصنوعی ذہانت آج پیدا نہیں ہوئی۔ یہ ریسرچز کی چالیس برس کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ایم آئی ٹی، آکسفوڈ اور سٹینفورڈ جیسے اداروں میں انیس سو اسی کی دہائی سے اس پر کام ہو رہا ہے۔ وہاں بنیاد پہلے رکھی گئی، عمارت بعد میں اٹھی۔ ہم نے دو ہزار بیس کے بعد اس لفظ کو سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔ یعنی جب ہم نے دروازہ کھولا، دنیا سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جا چکی تھی۔ یہ حقیقت تلخ ہے مگر اب ادراق ضروری ہے۔ ترقی ہمیشہ سچ بولنے سے شروع ہوتی ہے۔
یورپ میں مصنوعی ذہانت پر شور کم سنائی دیتا ہے۔ وجہ سادہ ہے۔ وہاں میڈیا نسبتاً ذمہ دار ہے۔ ہر نئی ایجاد کو قیامت یا انقلاب قرار نہیں دیا جاتا۔ لیکن خاموشی کو غفلت نہ سمجھئے۔ اصل کام شور سے نہیں، تعلیمی نصاب سے ظاہر ہوتا ہے۔ یورپ کی بڑی یونیورسٹیوں کی غالب اکثریت میں مصنوعی ذہانت لازمی یا اختیاری مضمون کے طور پر داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے بحث سے آگے بڑھ کر اداراتی استعمال کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ہم اب بھی سوال کر رہے ہیں کہ یہ چیز اچھی ہے یا بری۔ دنیا یہ مرحلہ عبور کر چکی ہے۔ وہ اب یہ طے کر رہی ہے کہ کون سا بچہ صرف استعمال کرے گا اور کون سا بچہ تخلیق کرے گا۔
پاکستان کا اصل مسئلہ بھی سمجھنا ہوگا۔ ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم میں داخلوں کی گرتی شرح کی وجہ مصنوعی ذہانت کا خوف نہیں۔ اصل سبب معیشت ہے۔ مہنگائی ہے۔ بے یقینی ہے۔ روایتی ڈگریوں کی کمزور مارکیٹ ہے۔ ایک باپ جب فیس، ہاسٹل اور کتابوں کا خرچ جوڑتا ہے تو وہ خواب نہیں، حساب کرتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے چار سال بعد کیا ملے گا؟ اگر جواب دھندلا ہو تو وہ بچے کو چھ ماہ کے ہنر کی طرف دھکیل دیتا ہے جس سے فوری آمدنی شروع ہو جائے۔ یہ غلطی نہیں۔ یہ مجبوری ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہماری مجبوری بصیرت کے بغیر ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کچھ شعبے سکڑ رہے ہیں۔ جنرل آرٹس، فلسفہ، ریاضی جیسے مضامین دباؤ میں ہیں۔ (اے آئی کی بنیاد ریاضی کے بغیر ادھوری ہے) دوسری طرف ڈیٹا سائنس، مشین لرننگ اور سائبر سکیورٹی کے نئے شعبے کھل رہے ہیں۔ داخلے بڑھ رہے ہیں۔ اس تبدیلی کو تباہی کہنا غلط ہوگا۔ یہ عبوری دور ہے۔ سوال یہ نہیں کہ تبدیلی آ رہی ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس تبدیلی کے مصنف ہوں گے یا صرف اس کے متاثرین۔
پاکستان کے پاس ایک فائدہ بھی ہے۔ ہمارے پاس پرانے نظاموں میں اتنی بڑی سرمایہ کاری نہیں کہ ہم انہی سے چمٹے رہیں۔ ہم چھلانگ لگا سکتے ہیں۔ جیسے ہم نے لینڈ لائن کے طویل مرحلے کے بغیر موبائل اپنا لیا تھا، ویسے ہی ہم روایتی جامد نصاب سے نکل کر سیدھا جدید اور مصنوعی ذہانت سے جڑے تعلیمی ڈھانچے کی طرف جا سکتے ہیں۔ اسکول میں بنیادی منطق اور ڈیجیٹل فہم۔ کالج میں مسئلہ حل کرنے کی تربیت۔ یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت کو مکمل مضمون اور مکمل شعبہ۔
یہاں اصل نکتہ سب سے اہم ہے۔ سب سے خطرناک منظر یہ ہوگا کہ ہمارے بچے مصنوعی ذہانت کے صرف صارف بن جائیں۔ وہ سوال لکھیں، جواب لیں، خوش ہو جائیں۔ یہ تعلیم نہیں، سہولت ہے اور سہولت اگر تخلیق میں نہ بدلے تو قوم کو آہستہ آہستہ ذہنی کرائے دار بنا دیتی ہے۔ دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو رہی ہے۔ ایک وہ جو نظام بنا رہی ہے۔ دوسری وہ جو بٹن دبا رہی ہے۔ پہلی قومیں قواعد لکھتی ہیں۔ دوسری قومیں شرائط مانتی ہیں۔
اس لیے مصنوعی ذہانت کو شوق، فیشن یا مختصر تربیت تک محدود رکھنا خطرناک ہوگا۔ اسے باقاعدہ علم بنانا ہوگا۔ بالکل ویسے جیسے کمپیوٹر سائنس ایک مستقل شعبہ ہے۔ ہمارے نصاب میں پروگرامنگ ہو، الگورتھم ہو، مقامی زبانوں پر تحقیق ہو۔ ہمیں صرف سافٹ ویئر استعمال کرنے والے نوجوان نہیں چاہییں۔ ہمیں وہ نوجوان چاہییں جو اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، دری، بلتی، ہند کو اور سرائیکی کے لیے اے آئی ماڈل بنائیں، مقامی مسائل کے لیے حل نکالیں اور دنیا کو بتائیں کہ ہم منڈی بھی ہیں اور ذہن بھی۔
موبائل فون نے ہمیں ایک دوسرے سے جوڑا تھا۔ مصنوعی ذہانت ہمیں یا تو بااختیار بنائے گی یا محتاج۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ لیکن فیصلوں کی تاریخ میں ایک اصول ہمیشہ سچا رہتا ہے۔ موقع دروازہ کھٹکھٹاتا ضرور ہے، ٹھہرتا نہیں۔

