Tuesday, 21 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Azmi
  4. Ye Maa Har Ghar Mein Dekhi

Ye Maa Har Ghar Mein Dekhi

یہ ماں ہر گھر میں دیکھی

جب میں بچہ تھا تو میں نے ہر گھر میں یہی عورت دیکھی۔ نام تو مختلف تھے مگر کام ایک جیسے تھے۔ محبت کے ب کو ساری زندگی ن (محنت) کرتی یہ مائیں جواب میں بھی آپ کی صحت و سلامتی مانگتی ہیں۔ آپ کو دیکھ کر خوش ہونا چاہتی ہیں۔ کچھ دیر باتیں کرنا چاہتی ہیں۔ بیٹھ جایا کریں۔ تازہ دم ہو کر اٹھیں گے۔ جب ہر طرف منافقت، نفرت اور مطلب پرستی کی کاربن ڈائی آکسائیڈ آپ کے جسم و روح کو اندر ہی اندر آلودہ کر رہی ہو تو آزردہ نہ یوں۔ ماں سے ملنا تازہ آکسیجن سے بھی بڑھ کر ہے۔

میں نے تو اسے اپنے سے پہلے ہی اٹھا دیکھا۔ اٹھتے ہی سیدھے باورچی خانے میں جاتی۔ چولھا جلاتی، آٹا گوندھنی، پراٹھے بناتی، اس دوران کسی بچے کو اسکول کی پینٹ شرٹ پہنا رہی ہوتی تو چند ماہ کے شیر خوار بچے کی آواز پر دوڑتی، جلدی جلدی اس کا نہالچہ تبدیل کرتی اور پھر اسکول جانے والے بچے کو کپڑے پہنانے لگتی۔ ابھی بچے اسکول گئے ہی ہوتے کہ شوہر کی آواز آتی: چائے۔ اس میں تاخیر کی کوئی صورت نہ ہوتی کیونکہ صاحب اخبار کی سرخیاں چائے کی چسکیوں کے ساتھ پڑھا کرتے۔ ناشتے سے پہلے ہی کپڑے استری کر دیا کرتی، جوتے پالش کر دیتی۔ اگر کبھی کچھ انیس بیس ہوتا تو سننے کو بھی مل جاتا۔

اس نے ابھی تک منہ بھی نہ دھویا ہوتا، چائے پینا تو بہت دور کی بات ہے۔ اس نے تو بس صبح ہوتے ہی مشین کی طرح کام میں لگ جانا تھا جس کی طبیعت خراب ہوتی ہے اور نہ موڈ۔ وہ ایک ایسی مشین تھی کہ جو سب کا موڈ دیکھتی اور سمجھتی لیکن کوئی اس کے لیے یہ سب نہ سوچتا۔

سب چلے جاتے تو پھر وہ دانت مانجھتی، منہ دھوتی اور رات کی روٹی سے ہی دو لقمے اتار لیا کرتی۔ اس دوران شیر خوار بچے کو بھی بار بار دیکھتی رہتی۔ دودھ پلاتی، اسے دیوانہ وار پیار کرتی تو لگتا کہ وہ مشین نہیں ایک جیتا جاگتا، جذبات سے لبریز انسان ہے۔ دوپہر ہونے سے پہلے وہ کھانے کی فکر میں لگ جاتی۔ گلی میں سبزی والا آ جاتا تو سبزی خریدتی، اس سے بھاو کرتی۔ سبزی لیتے ہی اسے چھیلنے کاٹنے لگ جاتی۔ اس کے ہاتھ میں گھڑی نہ ہوتی مگر اسے ایک ایک گھڑی کا پتہ ہوتا۔

بہت جلدی میں ہوتی کہ بچے آتے ہی کھانے مانگیں گے۔ ابھی سبزی کٹی ہی ہوتی کہ Stove والے چولھے کی طرف بھاگتی۔ مٹی کا تیل چیک کرتی۔ دو تین بار ماچس جلاتی تو وہ پرانا Stove جل اٹھتا گویا اس کی من کی مراد بر آتی۔ وہ انہی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں زندہ رہنے کی عادی تھی۔ ہانڈی چڑھتی تو پھر آٹا گوندھنے بیٹھ جاتی۔ گرمی تو اسے لگتی ہی نہ تھی۔ بیچ میں بچہ اٹھتا تو اسے تھپکی دے کر سلا آتی۔

بچے اسکول سے گھر آتے تو ایسا لگتا کہ اس پر احسان کرکے آئے ہیں جو پڑھا لکھا ہے وہ سب اسے دے دیں گے۔ کوئی یونیفارم کہیں اتارتا تو کہیں۔ جوتے اور جرابیں گھر میں کہیں بھی اتارے جا سکتے تھے۔ وہ سب کو سمیٹتی۔ چھوٹے بچے کا یونیفارم اتارتی تو وہ اس کے ہاتھ ہی نہ آتا۔ بڑی مشکل سے یہ مرحلہ بھی طے ہوتا۔ ہاتھ منہ دھونے کا کہتی تو سب ٹال مٹول سے کام لیتے۔ پھر کسی نہ کسی طرح وہ یہ کام بھی کر لیا کرتی۔ کسی بچے کے یونیفارم کو بہت گندا دیکھتی تو تلملا جاتی مگر پھر فوراََ یہ سوچ کر کہ بچے گرمی میں اسکول سے آئے ہیں، خاموش ہو جاتی۔ بچوں میں تو جیسے پارہ بھرا ہوتا۔ ایک کو سنبھالے تو دوسرا نکلا جائے۔ بہت تنگ آتی اور کچھ نہ بن پڑتا، غصہ آتا لیکن اس کا اظہار بھی آنکھوں کی نمی سے کرتی۔

ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے

اب سب کھانے کی رٹ لگائے۔ وہ کھانا لگاتی تو کسی نہ کسی بچے کا موڈ آف ہے جاتا کہ میں یہ نہیں کھاتا، بہت سمجھاتی، بڑی مشکل سے راضی کرتی۔ بچے کھا پی کر بستروں پر لیٹ جاتے تو وہ بھی ایک دو لقمے کھا لیتی۔

اب اسے کپڑے دھونے ہوتے۔ کپڑے دھونے کی اس مشین کے دو ہاتھ تھے جو بہت دکھ رہے ہوتے مگر اسے یونیفارم تو کل کے لیے دھونے ہی تھے۔ رگڑ رگڑ کر دھوتی کہیں کوئی داغ دھبہ نہ رہ جائے۔ کپڑوں کو دھوتی تو اس کے چہرے سے ٹپکا پسینہ بھی کپڑوں میں گرتا رہتا۔

گھر میں سب سے زیادہ صحت مند اسے ہی مانا جاتا۔ یہ تھکتی نہ رکتی۔ بخار آتا تو ایک خوراک کھانے کے بعد پھر کام میں جٹ جاتی۔ کوئی سوچتا بھی نہیں کہ کچھ دیر پہلے تو یہ بخار میں پھک رہی تھی۔ اگر کوئی پوچھ لیتا تو اتنا سرسری سا جواب دیتی: ارے کچھ نہیں ہلکا سا بخار تھا۔ اب ٹھیک ہوں۔ گھر میں کسی بچے کی طبیعت خراب ہو تو روز کے کاموں کے علاوہ اب اس کی ڈیوٹی میں مزید اضافہ ہو جاتا۔ ڈاکٹر کے بھاگے چلی جس رہی ہے۔ بخار ہے تو ماتھے پر کبھی لقلقے رکھ رہی ہے تو کبھی گرم دودھ لے کر آ رہی ہے۔ وہ اپنی ساری محنت کا پسینہ اپنے دوپٹے کے پہلو سے پونچھ لیا کرتی۔

دھونی آٹا تو کپڑے گنتی اور ایک کٹی پٹی پینسل سے ایک پرانی ڈائری میں لکھتی۔ کوئی کپڑا کم ہوتا تو اس سے بحث کرتی تو پتہ چلتا کہ یہ بولتی بھی ہے۔ کچھ دیر کے لیے کمر بستر سے ٹکاتی تو چھوٹا والا روتا یا پھر کلکاریاں مارتا ہے تو یہ اس میں لگ جاتی۔ بچے کے ایک نام کے کئی کئی نام بنا لیا کرتی۔ کبھی اس کے ماتھے کو تو کبھی ہاتھوں اور پیروں کو چومتی اور اگر اس پیار میں وہ ہلکا سا منہ بناتا تو سینے سے چمٹا لیتی۔

شام ہوتے ہوتے پھر باورچی خانے میں ہوتی لگتا کہ پورے گھر میں اس کی اصل جگہ یہی ہے۔ چائے بناتی، بچے آٹھ جاتے، کوئی چائے کے ساتھ کچھ کھانے کی ضد کرتا تو اسے کچھ پیسے دیتی اور تاکید سے کہتی کہ چیز لے کر سیدھے گھر آنا۔ اگر اسے دو ایک منٹ بھی دیر ہوتی تو دروازے پر آ کر کھڑی ہو جاتی۔ چیز آ جاتی تو دوسرا بچہ بھی ضد کرتا پھر وہ دونوں کو سمجھاتی اور دوسرے بچے کو کچھ نہ کچھ دلا ہی دیتی۔ کبھی چائے پیتے تو کبھی نہ پیٹی۔ بچے شام کو باہر کھیلنے جاتے تو انہیں صاف ستھرا کپڑے پہناتی، خوب سارا پاوڈر منہ پر تھوپ دیتی۔ کیوں کہ محلے میں جتنی عورتیں اتنی باتیں: پیدا کر لیا مگر خیال بالکل نہیں۔ نہ جانے کیسی ماں ہے؟

بچے جاتے تو پھر وہ رات کے کھانے میں لگ جاتی۔ اب وہ پکے گا جو پیا من بھائے۔ مغرب ہوتے ہی دروازے پر آکر بچوں کو اندر آنے کا کہتی۔ بچے ٹی وی کے آگے تو یہ چولھے کے آگے۔ ایک طرف سالن چڑھا ہے تو دوسری طرف آٹا گوندھا جا رہا ہے۔ اسی دوران بچوں کے جھگڑے بھی نمٹا رہی ہے۔ شوہر گھر آتے تو بچوں کو اشارے سے خاموش رہنے کا کہتی۔ وہ سمجھتی کہ دنیا کا سب سے محنتی شخص اس کا شوہر ہے۔ چائے دیتی، پاس کھڑی رہتی، سالن لگنے کی بو آتی تو فوراََ باورچی خانے کی طرف دوڑتی۔ شوہر پوچھتا کہ کیا پکا ہے؟ تو تذبذب کا شکار ہو جاتی کہ بتانے پر اللہ جانے کیا جواب آئے۔ بتا دیتی، شوہر کچھ نہ کہتا تو دل ہی دل میں ایسے شکر ادا کرتی جیسے شوہر نے سونے کی چین دلوا دی ہو۔

رات جب شوہر کھانا کھاتا تو اس کی ساری خوشی کا انحصار شوہر کے پہلا نوالہ لینے کے بعد اس کے چہرے کے تاثرات سے جڑا ہوتا۔ سب ساتھ کھانا کھاتے لیکن اس کی نظریں سالن کے ڈونگے پر ہوتیں کہ کب سالن کم ہونے پر وہ باورچی خانے کی طرف دوڑی جائے۔ کھانے کے نام پر جو وہ کھاتی ہے اس سے تو کسی چھوٹے بچے کا پیٹ بھی نہیں بھر سکتا۔ کھانا ختم ہوتا تو سب آٹھ جاتے۔ اب وہ سب کچھ سمیٹے گی۔

شوہر بچے جب سو جاتے تو اب اس نے برتن دھونے ہوتے۔ رات کو اب وہ ہوتی اور اس کا شیر خوار، اس سے باتیں کرتی، دودھ پلاتی، اپنا آپ اسے دے دیتی۔ رات میں بیچ بیچ میں اٹھتی، اس کی ہلکے سے رونے پر پوری طرح بیدار ہو جاتی۔ دنیا رابطے کی جتنی جدید ٹیکنالوجی لے آئے مگر ماں اور بچے کے کنکشن تک نہیں پہنچ سکتی کیونکہ یہ ٹیکنالوجی اسے قدرت نے بطور ماں روز اول سے عطا کی ہے۔ رات سب سے دیر میں سونے والی، بیچ بیچ میں اٹھنے والی اور صبح سب سے پلے بیدار ہونے والی ماں ہوتی ہے۔ تو پھر ماں کی خدمت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں، اس کی کوئی بات نہ ٹالیں۔ ماں کو ماں مانیں گے تو دنیا میں کامیاب اور آخرت میں سرخ رو ہوں گے۔

About Azhar Hussain Azmi

Azhar Azmi is associated with advertising by profession. Azhar Azmi, who has a vast experience, has produced several popular TV campaigns. In the 90s, he used to write in newspapers on politics and other topics. Dramas for TV channels have also been written by him. For the last 7 years, he is very popular among readers for his humorous articles on social media. In this regard, Azhar Azmi's first book is being published soon.

Check Also

Aik He Unwan Par Teen Column Kyun?

By Ayesha Batool