Tuesday, 21 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayesha Batool
  4. Aik He Unwan Par Teen Column Kyun?

Aik He Unwan Par Teen Column Kyun?

ایک ہی عنوان پر تین کالم کیوں؟

کچھ خیالات اتنے سادہ نہیں ہوتے کہ انہیں ایک ہی زاویے میں سمیٹ لیا جائے اور کچھ موضوعات اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ وہ ایک بار پڑھنے سے مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آتے۔ "میری زندگی میری مرضی" بھی ایسا ہی ایک تصور ہے جو سننے میں آسان لگتا ہے۔ مگر اندر سے بہت سی تہوں پر مشتمل ہے۔

"میری زندگی میری مرضی" آج کے دور کا ایک عام مگر نہایت گہرا جملہ ہے، جو اکثر آزادی کے نام پر دہرایا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ آزادی واقعی بے حد و حساب ہے؟ یا اس کے ساتھ کوئی اخلاقی، سماجی اور دینی حدود بھی جڑی ہوئی ہیں؟

اسی حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہ کالم تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، تاکہ ہم آزادی کو صرف ایک نعرے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار سوچ کے طور پر سمجھ سکے۔

اس کالم کا مقصد کسی سوچ کو رد کرنا نہیں بلکہ اسے بہتر انداز میں سمجھنا ہے، تاکہ "میری مرضی" ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔

پہلا حصہ: آزادی کا بنیادی تصور

انسان کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ یہ حق اس کی فطرت میں رکھا گیا ہے کہ وہ سوچے، سمجھے اور اپنے راستے کا انتخاب کرے۔

انسان کی ذاتی آزادی ایک فطری اور عطا کردہ حق ہے۔

یہ حصہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ "میری مرضی" کا آغاز انسان کی بنیادی آزادی سے ہوتا ہے، جو اسے سوچنے اور انتخاب کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔

دوسرا حصہ: آزادی کی حدود

آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر وہ کام کرے جو وہ چاہے۔ ہر انتخاب کے ساتھ ایک نتیجہ جڑا ہوتا ہے اور بعض اوقات یہی نتائج انسان کو اس کی غلطیوں کا احساس دلاتے ہیں۔

ہر مرضی کے ساتھ ایک نتیجہ ضرور جڑا ہوتا ہے

آزادی شعور اور سمجھداری کے بغیر نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

یہ حصہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ آزادی تب ہی خوبصورت بنتی ہے جب اس کے ساتھ عقل اور توازن موجود ہو۔

تیسرا حصہ: ذمہ داری اور اثرات

انسان کے فیصلے صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتے۔ نوجوانی کے فیصلے خاص طور پر خاندان، معاشرے اور آنے والی نسلوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔

ذاتی فیصلے اجتماعی اثر رکھتے ہیں "میری مرضی" یہ صرف ایک جملہ ہی نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔

یہ حصہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ آزادی صرف حق نہیں بلکہ ایک امانت بھی ہے۔

انسان کا نفس اکثر اسے اس کے حال پر چھوڑنے کی طرف مائل کرتا ہے، مگر اصل سکون اسی میں ہے کہ انسان اپنے رب سے جڑا رہے۔ زندگی میں کوشش کریں کہ اور کچھ کمائیں نہ کمائیں لیکن اللہ کی ذات پر اتنا یقین ضرور کمائیں کہ آپ کو پتہ ہو آپ جب بھی اسے پکاریں گے وہاں آپ کو سن رہا ہے اور اب جو اس سے مانگیں گے وہ آپ کو دے گا اور جو نہیں دے گا وہ آپ کے حق میں بہتر ہوگا کیونکہ اللہ وہ بھی جانتا ہے جو ہم نہیں جانتے وہ بھی سنتا ہے جو ہم نہیں سنتے وہ بھی دیکھتا ہے جو ہم نہیں دیکھ سکتے اس لیے۔ میں اپنی ذات کے لیے خاص ایک دعا مانگتی ہوں اور میں آپ لوگوں کو مجبور نہیں کرتی کہ آپ بھی وہ دعا مانگے ہاں میں وہ دعا ضرور آپ کے ساتھ شیئر کروں گی اگر آپ کو اچھی لگے تو اس سے اپنی دعاؤں میں شامل ضرور کریں۔ وہ دعا کچھ اس طرح ہے۔

"یا اللہ! مجھے میرے حال پر مت چھوڑنا اور میرے لیے وہ کرنا جو میرے حق میں بہتر سے بہتر ہو، چاہے میں اسے سمجھ سکوں یا نہ سمجھ سکوں"۔ مگر آپ ہی کرنا جو بہتر سے بہترین ہے اور مجھے تخفیق دینا کہ میں آپ کی حکمت کو سمجھ سکوں۔

Check Also

Tik Tok Ne Aik Aur Masoom Jan Le Li

By Abid Mehmood Azaam