Safarat Kari Ki Bareekiyan
سفارت کاری کی باریکیاں

دنیا کی سیاست میں سب سے بڑا فریب یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ نظر آ رہا ہوتا ہے، لوگ اسے ہی حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن حقیقت اکثر اس کے الٹ ہوتی ہے۔ ٹی وی سکرینوں پر سخت بیانات چل رہے ہوتے ہیں، ایک دوسرے کو دھمکیاں دی جا رہی ہوتی ہیں، جنگ کے نقوش ابھر رہے ہوتے ہیں، مگر انہی لمحوں میں کہیں دور، کسی محفوظ اور خاموش کمرے میں وہی مخالف فریق ایک میز کے گرد بیٹھ کر ایسے الفاظ تلاش کر رہے ہوتے ہیں جو جنگ کو روک سکیں۔ یہی سفارت کاری ہے، ایک ایسا فن جس میں جنگ نہیں ہوتی مگر جنگ کے فیصلے ہوتے ہیں۔
یہ وہ دنیا ہے جہاں ایک ہی ملک بیک وقت دو زبانیں بولتا ہے۔ ایک زبان عوام کے لیے، دوسری پسِ پردہ مذاکرات کے لیے۔ عوام کے لیے بیانیہ سخت ہوتا ہے، نعرہ ہوتا ہے، دبنگ مؤقف ہوتا ہے۔ لیکن اصل کام ان جملوں کے پیچھے ہوتا ہے جنہیں کوئی کیمرہ نہیں دیکھتا۔
سفارت کاری دراصل ریاستوں کے درمیان تعلقات کو اس انداز میں چلانے کا فن ہے جس میں تصادم کم سے کم ہو اور مفاد زیادہ سے زیادہ حاصل ہو۔ یہ صرف ملاقاتوں، مصافحوں یا مشترکہ اعلامیوں کا نام نہیں بلکہ وقت کے انتخاب، لفظوں کے وزن، خاموشیوں کے مفہوم اور انسانی نفسیات کی گہری سمجھ کا نام ہے۔
یہاں ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہمیشہ موجود رہتی ہے، جنگیں دراصل اس بات کا اعلان ہوتی ہیں کہ سفارت کاری ناکام ہوگئی ہے۔ جب بات چیت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں تو پھر بندوقیں بولتی ہیں اور تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا، صرف نقصان کا فرق ہوتا ہے۔
سفارت کاری کی سب سے بڑی باریکی اس کا دوہرا وجود ہے۔ ایک عوامی، ایک حقیقی۔ عوامی وجود سخت، جذباتی اور سیاسی ہوتا ہے جبکہ حقیقی وجود نرم، محتاط اور حکمت عملی پر مبنی ہوتا ہے۔
اگر آج دنیا کو دیکھا جائے، خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی، تو یہی دوہرا کھیل جاری ہے۔ امریکہ کھلے عام کہتا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم نہیں کرے گا، جبکہ ایران اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہ بیانات عوامی سطح پر طاقت دکھانے کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ اصل سفارت کاری کہیں اور چل رہی ہوتی ہے۔
سفارت کاری کی دنیا میں ایک اصطلاح بہت اہم ہے "بیک چینل ڈپلومیسی" یعنی خفیہ مذاکرات۔ یہی وہ راستہ ہے جہاں اصل فیصلے ہوتے ہیں، بغیر میڈیا، بغیر دباؤ، بغیر سیاسی نعرے۔
دنیا کی تاریخ میں اس کی سب سے بڑی مثال امریکہ اور چین کے تعلقات کی بحالی ہے۔ 1970ء کی دہائی میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے سخت دشمن تھے۔ براہ راست رابطہ ممکن ہی نہیں تھا۔ ایسے میں پاکستان نے ایک تاریخی کردار ادا کیا۔
یہ وہ دور تھا جب امریکی سفارت کار ہنری کسنجر کو چین پہنچانے کا خفیہ منصوبہ بنایا گیا۔ یہ عام سفارتی دورہ نہیں تھا بلکہ دنیا کی سب سے حساس خفیہ سفارتی مہم تھی۔
اس عمل میں اس وقت کے صدر جنرل یحییٰ خان کا کردار مرکزی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یحییٰ خان پیغامات اپنے ہاتھ سے لکھ کر خود بند کرتے تھے، تاکہ سٹاف میں سے بھی کسی کو بھنک تک نا لگے۔ پھر وہ لمحہ آیا جب کسنجر پاکستان میں "طبیعت خراب ہونے" کے بہانے خفیہ طور پر چین منتقل کیے گئے اور سب کو یہی بتایا گیا کہ وہ آرام کر رہے ہیں۔ دنیا کو علم تک نہ تھا کہ عالمی سیاست کا نقشہ بدلنے جا رہا ہے۔
یہی وہ لمحہ تھا جس نے امریکہ اور چین کے تعلقات کو نئی سمت دی اور عالمی طاقتوں کا توازن بدل دیا۔
خفیہ سفارت کاری کی ایک اور مثال اوسلو معاہدہ ہے، جہاں اسرائیل اور فلسطین کے نمائندے ناروے میں ملے۔ کوئی میڈیا نہیں، کوئی شور نہیں، کوئی دباؤ نہیں اور پھر اچانک دنیا کے سامنے ایک معاہدہ آ گیا۔ اگر یہ مذاکرات کھلے ہوتے تو شاید کبھی کامیاب نہ ہوتے۔
اب اگر پاکستان کی بات کی جائے تو اس نے ہمیشہ عالمی سفارت کاری میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ جغرافیہ بھی اور سیاست بھی اسے ایک قدرتی پل بناتے ہیں۔
اور یہاں سب سے اہم مثال آتی ہے پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سفارت کاری۔
1971ء کی جنگ کے بعد پاکستان ایک تباہ حال ملک تھا۔ مشرقی پاکستان الگ ہو چکا تھا، فوجی قیدی بھارت کی تحویل میں تھے اور پاکستان عالمی سطح پر کمزور ترین پوزیشن میں تھا۔ ایسے وقت میں بھٹو نے جنگ کے بجائے سفارت کاری کا راستہ چنا۔
1972ء میں انہوں نے بھارت کا تاریخی دورہ کیا اور شملہ مذاکرات میں شرکت کی۔ یہ کوئی عام ملاقات نہیں تھی بلکہ ایک انتہائی حساس اور فیصلہ کن سفارتی موڑ تھا۔ مذاکرات کا مقصد جنگ کے بعد پیدا ہونے والے بحران کو ختم کرنا تھا۔
ان مذاکرات کے نتیجے میں شملہ معاہدہ طے پایا، جس نے نہ صرف جنگ بندی کو مضبوط کیا بلکہ لائن آف کنٹرول کو عملی حقیقت کے طور پر تسلیم کیا۔
اسی سفارتی عمل کا سب سے بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ تقریباً نوے ہزار پاکستانی جنگی قیدی بھارت سے واپس آئے۔ یہ کوئی فوجی فتح نہیں تھی بلکہ خالصتاً سفارتی کامیابی تھی۔
یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض اوقات جنگ کے بعد سب سے بڑی جیت میدان میں نہیں بلکہ میز پر حاصل ہوتی ہے۔
بھٹو کی یہ سفارت کاری اس بات کی مثال ہے کہ کمزور پوزیشن میں بھی اگر حکمت عملی درست ہو تو بڑے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
اگر ہم آج کے حالات کو دیکھیں تو امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بھی اسی نہج پر ہے۔ بظاہر دونوں سخت بیانات دے رہے ہیں، لیکن پسِ پردہ رابطے ہمیشہ جاری رہتے ہیں اور یہی وہ جگہ ہے جہاں سفارت کاری اپنا اصل کردار ادا کرتی ہے۔
کئی سفارتی حلقوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ ابتدائی غیر رسمی رابطے ہو چکے ہیں اور اگر ماحول سازگار رہا تو پاکستان میں ایک بار پھر اہم ملاقاتیں ہو سکتی ہیں۔
یہی سفارت کاری کا اصل حسن ہے، یہ شور نہیں کرتی، لیکن فیصلے بدل دیتی ہے۔
اس پورے نظام کا مرکز وزارت خارجہ ہوتی ہے۔ یہی ادارہ خارجہ پالیسی بناتا ہے، سفارت خانوں کو چلاتا ہے اور عالمی تعلقات کو سمت دیتا ہے۔
پاکستان میں فارن سروس کے افسران CSS کے سخت امتحان کے بعد منتخب ہوتے ہیں۔ پھر انہیں تربیت دی جاتی ہے، زبانیں سکھائی جاتی ہیں اور مختلف ممالک میں تعینات کیا جاتا ہے۔ وہ تھرڈ سیکرٹری سے شروع کرکے ایمبیسیڈر تک پہنچتے ہیں۔
یہ ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مکمل تربیتی اور ذہنی سفر ہے۔
دنیا کی تاریخ میں کئی رہنما ایسے گزرے ہیں جنہوں نے سفارت کاری سے تاریخ بدل دی۔ نیلسن منڈیلا نے نفرت کے بجائے مفاہمت کو اپنایا۔
پاکستان میں بھٹو کی سفارت کاری آج بھی ایک اہم مثال ہے کہ کس طرح جنگ کے بعد ایک کمزور ملک نے سفارتی راستے سے اپنے قیدی واپس حاصل کیے اور عالمی سطح پر اپنی جگہ دوبارہ بنائی۔
آخر میں اصل سوال یہی رہ جاتا ہے کہ سفارت کاری ہو کیا رہی ہے اور کہاں ہو رہی ہے؟ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جب دنیا کے سامنے دروازے بند ہوتے ہیں تو اصل فیصلے انہی بند دروازوں کے پیچھے ہوتے ہیں اور جب کبھی امریکہ اور ایران کسی معاہدے پر پہنچیں گے تو دنیا حیران ہوگی، مگر حقیقت یہ ہوگی کہ یہ برسوں کی خاموش، غیر مرئی اور پیچیدہ سفارت کاری کا نتیجہ ہوگا۔
سفارت کاری وہ فن ہے جو جنگ کو روکتا ہے، دشمنی کو نرم کرتا ہے اور دنیا کو تباہی سے بچاتا ہے، بغیر شور کے، بغیر اعلان کے اور اکثر بغیر کریڈٹ کے۔

