Tik Tok Ne Aik Aur Masoom Jan Le Li
ٹک ٹاک نے ایک اور معصوم جان لے لی

یہ معصوم اور خوبصورت بچہ، جسے دیکھتے ہی دل محبت سے بھر جاتا ہے، سوشل میڈیا کے جنون کی بھینٹ چڑھ گیا۔ جس کے دن ابھی کھیلنے، سیکھنے، اسکول جانے اور والدین و بہن بھائیوں کی شفقت سمیٹنے کے تھے، وہی معصوم بچہ ایک اندھی دوڑ کا شکار ہو کر اپنی جان گنوا بیٹھا۔ پشاور میں ٹک ٹاک نے ایک اور ننھی جان نگل لی۔ پانچویں جماعت کے طالب علم اویس نے گھر میں شیشے کے سامنے پستول رکھ کر ویڈیو بنانے کی کوشش کی، مگر یہ کھیل اس کی زندگی کا آخری لمحہ ثابت ہوا۔ ویڈیو بناتے ہوئے پستول اچانک چل گیا اور ایک ہنستا کھیلتا بچہ پل بھر میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔
اویس کے خاندان کے لیے یہ لمحہ ناقابلِ برداشت صدمہ بن کر آیا۔ ایک معمولی سی غفلت نے ان کے بیٹے کو ہمیشہ کے لیے ان سے جدا کر دیا اور ایک آباد گھر لمحوں میں اجڑ گیا۔ یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ ایک ایسا بچہ، جس کے ہاتھ میں کتاب اور قلم ہونا چاہیے تھا، وہ موبائل کی اسکرین کے سامنے ویڈیو بنانے میں مصروف تھا۔ چند لمحوں کی ویڈیو نے ایک پوری زندگی چھین لی۔ اس میں اس معصوم بچے کا کوئی قصور نہیں بلکہ اس معاشرے کا قصور ہے جس نے معصوم بچوں کو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے جنون میں مبتلا کردیا ہے۔ وائرل ہونے کے جنون نے نہ صرف نوجوانوں بلکہ کم عمر بچوں کے ذہنوں کو بھی متاثر کر دیا ہے۔ یہ سانحہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا وقتی شہرت ایک انسانی زندگی سے زیادہ قیمتی ہو چکی ہے؟
سوشل میڈیا نے جہاں دنیا کو ایک عالمی گاؤں بنا دیا ہے، وہیں اس نے ایک خطرناک نفسیاتی دوڑ کو بھی جنم دیا ہے، جس میں ہر شخص "وائرل" ہونا چاہتا ہے۔ لائکس، ویوز اور فالوورز اب محض اعداد نہیں رہے بلکہ ایک ایسی خواہش بن چکے ہیں جو خاص طور پر نوجوانوں اور بچوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ یہ خواہش آہستہ آہستہ جنون میں بدل جاتی ہے، جہاں انسان اپنی حدود، اپنی حفاظت، حتیٰ کہ اپنی جان تک کو نظرانداز کر دیتا ہے۔
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ایسے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جہاں نوجوان خطرناک مقامات پر ویڈیوز بناتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ کہیں چلتی ٹرین کے سامنے کھڑے ہو کر ویڈیو بنائی جا رہی ہے، کہیں گہرے پانیوں میں اسٹنٹس کیے جا رہے ہیں اور کہیں اسلحہ محض نمائش کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے منفی استعمال نے کئی گھروں میں جھگڑوں کو جنم دیا، بعض واقعات میں غیرت کے نام پر قتل تک ہوئے اور کئی خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے۔ یہ سب محض اتفاقی حادثات نہیں بلکہ ایک ایسے رجحان کی علامت ہیں جو خاموشی سے ہماری نئی نسل کو خطرے کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اصل مسئلہ صرف ٹک ٹاک یا کسی ایک پلیٹ فارم کا نہیں، بلکہ اس سوچ کا ہے جس نے شہرت کو محنت، کردار اور علم کے بجائے وقتی توجہ سے جوڑ دیا ہے۔ جب معاشرہ خود سنسنی خیز مواد کو پسند کرے، اسے پھیلائے اور اس پر ردعمل دے تو وہ غیر محسوس طریقے سے اس رجحان کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
اس صورتحال میں سب سے بڑی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ بچوں کو موبائل فون دینا اگر وقت کی ضرورت بن چکا ہے تو ان کی رہنمائی کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ صرف ڈیوائس دینا کافی نہیں، بلکہ یہ دیکھنا بھی لازم ہے کہ بچے اسے کس طرح استعمال کر رہے ہیں، وہ کیا دیکھ رہے ہیں اور کس کی نقل کر رہے ہیں۔ اسی طرح اساتذہ کی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ انہیں چاہیے کہ طلبہ کو صرف نصابی تعلیم تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں ڈیجیٹل دنیا کے خطرات، اخلاقی حدود اور ذمہ دارانہ رویوں سے بھی آگاہ کریں۔ اویس کا واقعہ ایک خاندان کا ذاتی سانحہ ضرور ہے، مگر اس کا پیغام پورے معاشرے کے لیے ہے۔ یہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ اگر ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو ایسے واقعات بڑھتے جائیں گے اور ہم ہر بار محض افسوس کے سوا کچھ نہیں کر سکیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو یہ شعور دیں کہ اصل کامیابی "وائرل" ہونا نہیں بلکہ ایک محفوظ، باوقار اور بامقصد زندگی گزارنا ہے۔

