Hun Tussi Aap Vi Kuj Kar Lao
ہُن تسی آپ وی کُج کرلئیو
تنہائی مدہوشی خاموشی ہنگامے اور سناٹوں کے دو سال جرمنی میں مکمل ہونے کو ہیں۔ کیا سیکھا؟ کیا حاصل ہوا؟ دو یونیورسٹیاں بدلی، تین گھر بدلے، چار شہر نئے کیے، جرمنی کی چار ریاستوں کے پندرہ شہروں کی ٹرینیں پکڑیں، چار غیر ملکی پروازیں لیں، بیسیوں نئے کھانے چکھے، کان نے نجانے کون کون سی زبانوں کو سنا، مہنگی انشورنس بھری سستی ڈرنکس ڈھونڈیں فائر برگیڈ کو فون کرکے جرمن میں پوچھا کہ آگ بجھانے آجائیں گے؟
کتنا آگے بڑھے کتنا پیچھے رہ گئے؟ یہ سوال اٹھتے ہیں حساب کا وقت نہیں رہتا نوکری کھا جاتی ہے جو بچ جاتا ہے وہ تعلیم کو بھیک میں دے دیا جاتا۔ دیکھنے والے دیکھ کر پوچھتے ہیں کہ کیسے آنا ہوا ہمیں اچھا لگتا تمہیں وہاں دیکھ کر کیا ہم بھی آئیں؟ جواب کبھی بن نہیں سکا ماسوائے اس کے کہ خدا پردیس سب کو دکھائے مگر راس کسے آئے یہ خدا بھی نہ جانے۔
ہجرت ضروری نہ بھی ہو تو ہجرت کی خواہش سینے پہ لوٹتی رہتی ہے۔ جانا کہاں ہے اس سوال سے پرے ہر انسان نکلنا چاہتا ہے موجودہ جگہ سے فرار کی نیت لیے ہوٹلوں پر بیٹھے آدمیوں کے پلان میز کپ اور ویٹر سن کر اکتائے رہتے ہیں کہ انہیں پتہ ہے کہ یہ کل بھی یہی ہیں اور پرسوں بھی۔
وطنِ عزیز کے حالات سولی پہ لٹکتے رہتے ہیں کوئی انکی ٹانگیں کھینچ کے مکمل خاتمہ بھی نہیں کرتا کہ تڑپنے سے ہی آزاد کرلیا جائے۔ پلان سرمائے پہ آکے ٹھنڈی سانس لینے لگتا ہے کہ یہ کہاں سے لایا جائے کہ رخت سفر کے پیسے ہیں مگر راستے میں کچھ لے کر کھانے کے نہیں۔ مسئلہ ہر رنگ میں گہرا ہے۔
میں بتا نہیں سکتی مگر کیوں نہیں بتا سکتی بتائے دیتی ہوں کہ کتنے لوگوں نے مجھ سے نہایت معصومانہ سوال کیا کہ کیا بغیر سرمائے کہ آنا ممکن ہے؟ کسی تنگ آئے نے تو یہ بھی پوچھا کہ بغیر سکل کے بھی کسی ویزے کی کیٹگری ہوتی ہے؟ سوال کی نوعیت سمجھ بھی آتی ہے کہ جو یونیورسٹیاں صرف ڈگری تھما دیں اور جاب مارکیٹ کے کنویں میں پھینک دیں وہاں سوائے مایوسی کے کیا میسر ہے! سو آدمی ہر قریب لگتے خدا کو پکارتا ہے کہ پلیز! مجھے نکالو۔
پاکستانی ڈگریوں کا سکوپ یہ ہے کہ وہ آپکو باہر کسی ملک کے رستے پہ ڈال دیتی ہیں باہر کی یونیورسٹیاں نہیں جانتی کہ یہ پورے نمبروں سے لی ڈگریاں کئی استادوں کے چائے کے کپ صاف کرکے کتنی آسانی سے حاصل ہوئی ہیں۔ ان ڈگریوں میں دھوکے کا سکوپ وسیع ہے۔ یہ دھوکہ ہوگیا ہے تو اس سے پھر فائدہ اٹھانے میں ہی بہتری۔
اگر اس طوفانِ انفارمیشن کے دور میں بھی آپ سرچ کرکے باہر نہیں آسکتے اور آنا چاہتے ہیں تو مجھ کو تو گِلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں۔ نیری خواہش کی رسوائی ہے۔ جسے پاکستان میں نوکری نہیں ملی عین ممکن ہے وہ باہر جاکر بھی خالی رہے مگر جاننے کا طریقہ ایک ہی ہے کہ وہاں جاکر دیکھ لیا جائے۔ یورپ لبالب ہورہا ہے کبھی بھی بہہ نکلے گا۔ چائنہ یورپ مڈل ایسٹ حتی کہ لوگ برازیل تک مار کررہے باز آنے والے کہاں باز رہتے ہیں۔
باہر جانے کے لیے ڈاکومنٹس سیدھے ہوں طریقے سے بنے ہوں کہ دیکھنے والے کو ایک نظر میں سمجھ آجائیں تو مہر لگ ہی جاتی ہے۔
میں اس بیچ کیا کر سکتی ہوں!
میں آپکو بتا سکتی ہوں کہ مستحکم ہونے کے لیے یورپ میں جرمنی ٹھیک۔ ویزے کی کیٹگری میں اسٹوڈنٹ ویزا معقول ہے۔
ہُن تسی آپ وی کُج کرلئیو۔

