1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Saqib
  4. Muhammad Ali Kallay, Pakistani Nojawan Aur Goldilock Principle (1)

Muhammad Ali Kallay, Pakistani Nojawan Aur Goldilock Principle (1)

محمد علی کلے، پاکستانی نوجوان اور گولڈی لاک پرنسپل (1)

عظیم باکسر محمد علی کلےکا نام دنیا کا ہر سپورٹ لور جانتا ہے اور جب ججز کے سامنے انتخاب کا مرحلہ آیا کہ لاسٹ سینچری کے سب سے بہترین سپورٹس مین کا نام ڈیکلیئر کیا جائے اور آخر میں قرّا فال محمد علی کے نام پہ نکلا تو اس بات پہ سپورٹس کے شائقین کو کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔

محمد علی اور جارج فور مین کی ایک تاریخی فائٹ کا تذکرہ انہوں نے اپنی کتاب آئی ایم دی گریٹسٹ میں کیا ہے۔ یہ فائٹ 30 اکتوبر 1974 کو کونگو میں لڑی گئی اور ان دونوں ایتھلیٹس نے فائٹ سے کئی مہینے پہلے اس کی تیاری شروع کر دی۔ جارج فور مین ورلڈچیمپین تھا اور اس فائٹ کے لیے اس کو فیورٹ سمجھا جا رہا تھا۔

محمد علی نے اس فائٹ کی تیاری کے لیے امریکہ کی ایک سٹیٹ کے پاس ایک بہت بڑے ایریا میں اپنی پریکٹس شروع کی اور پوری ٹیم اس کے ساتھ تھی۔ جارج فور مین کی ٹریننگ کو نظر میں رکھنے کے لیے اس نے اپنا ایک شخص اس کے کیمپ میں داخل کر دیا کہ اپ دیکھیں جارج فور مین کیسے ٹریننگ کرتا ہے۔

اب کچھ دنوں کے بعد وہ شخص محمد علی سے ملنے آتا ہے تو محمد علی اپنی پوری ٹیم کو لے کے ایک ہال نماں کمرے میں بیٹھ جاتا ہے اور اس شخص سے جوکہ بیسکلی جاسوس ہوتا ہے۔

اس سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ بتائیں چارج فور مین کیسے ٹریننگ کر رہا ہے؟ تو وہ شخص کہتا ہے کہ پہلے آپ بتائیں اپ کا شیڈول کیا ہے؟

محمد علی کہتا ہے کہ میں صبح صبح فجر سے بھی پہلے 10 کلو میٹر سے بھی زیادہ جاگنگ کرتا ہوں اور وہ زور سے کہتا ہے کہ میری یہ جاگنگ جو ہے کراس کنٹری ہوتی ہے۔

یعنی میں پہاڑ کے اوپر بھاگتا ہوں، کبھی اوپر جاتا ہوں کبھی نیچے آتا ہوں اس طرح میں 10 کلو میٹر سے بھی زیادہ جوگنگ کرتا ہوں وہ شخص انسپائر ہوتا ہے اور پوچھتا ہے کہ اس کے بعد پھر آپ کیا کرتے ہیں؟

وہ کہتا ہے پھر ناشتے کے بعد میں رنگ میں آجاتا ہوں اور 15 راؤنڈ ڈفرنٹ باکسر سے لڑتا ہوں، ہر راؤنڈ میں باکسر چینج ہو جاتا ہے اور یہ جو باکسر اس کی ٹیم میں تھے یہ بھی ڈفرنٹ سٹیٹس کے چیمپین تھے۔ تو وہ باکسر چینج ہوتے رہتے ہیں اور محمد علی 15 کے 15 راؤنڈ لڑتا ہے۔ رنگ سے باہر نکلنے کے بعد محمد علی نے لکھا اپنی کتاب میں لکھا کہ میں شام میں جنگل میں چلا جاتا ہوں اور اپنے ہاتھوں سے کلہاڑے سے رات کو لکڑیاں کاٹتا ہوں تاکہ مسلز مضبوط ہوں۔

اس کے بعد وہ پوچھتا ہے زور دے کے۔۔ اپنے ساتھی سے۔۔ جو جارج فور مین کے کیمپ سے آیا ہوتا ہے کہ اب آپ بتاؤ کہ یہ فائٹ کون جیتے گا؟

وہ شخص مسکرائے کہتا ہے جارج فور مین اور اس پر محمد علی کی پوری کی پوری ٹیم غصے میں آ جاتی ہے محمد علی کلے اُنکو ٹھنڈا کرتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ آپ نے یہ بات کیوں کہی؟

تو وہ محمد علی کو کہتا ہے کہ آپ اپنے دن کا آغاز کرتے ہو صبح صبح فجر سے بھی پہلے 10 کلومیٹر کی جاگنگ سے جو آپ پہاڑ پہ اوپر نیچے بھاگتے ہوئے کرتے ہو اس وقت جارج فور مین بھی صبح صبح 10 کلو میٹر جاگنگ کرتا ہے لیکن جب وہ پہاڑ کے اوپر جاتا ہے وہ فاصلہ کاؤنٹ کرتا ہے اور جب نیچے آتا ہے تو اس فاصلے کو وہ کاؤنٹ نہیں کرتا یعنی پہاڑ کے اوپر اوپر جانے میں 10 کلو میٹر کرتا ہے۔

لیسن (LESSON) وہاں سے کیا ملا؟ کہ آپ کی لمٹ جو ہے وہ آسمانوں کی طرح بلند ہونی چاہیے۔

اب سوال یہ ہے کہ فائٹ کون جیتا؟

یہ فائٹ محمد علی جیت گیا۔ بہت سارے ریزنزہیں اس کے۔ نفسیاتی کھیل کھیلتا ہے وہ ڈفرنٹ ٹیکنیکس نکالتا ہے جس ٹائم وہ فائٹ لڑی جاتی ہے کئی مہینے پہلے وہ اس ٹائم رنگ میں رہنا سیکھتا ہے۔ جارج فارمین کو غصہ دلاتا ہے فائٹ کے دوران اور اس کو ناک آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ افسانوی کہانی جو غیر حقیقی لگتی ہے اصل میں بالکل حقیقی ہے۔

اس کہانی سے ایک پاکستانی نوجوان کیا سیکھ سکتا ہے؟

یہ کہانی میں نے سنی ایک ٹرینر کی زبان سے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں۔ میں سیلز کی ٹریننگ لے رہا تھا وہاں پر ایک سینیئر مینیجر نے ہمیں یہ داستان سنائی۔ بڑی موٹیویشنل، لیکن کیا یہ پریکٹیکل بھی ہے؟

کیا ایک پاکستانی نوجوان محمد علی بن سکتا ہے؟ یا اسے گولڈی لاک پرنسپل اپنی ذات پہ آپلائی کرنا چاہیے، گولڈی لاک (Goldilocks Principal) پرنسپل کیا ہے؟

یہ ہم سمجھیں گے ایک اور حقیقی سٹوری کی مدد سے اور اس کو پڑھنے کے لیے اپ کو اس کالم کے اگلے حصے کا انتظار کرنا پڑے گا۔

(جاری ہے)

Check Also

Out Of The Box

By Javed Chaudhry