Marka e Haq Aur Pakistan Ki Difai Hikmat e Amli Kanaya Daur
معرکۂ حق اور پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی کا نیا دور

عصرِ حاضر کی عسکری و سفارتی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں بیانیہ سازی، اسٹریٹیجک ابلاغ اور علامتی خطابت محض ضمنی عوامل نہیں رہے بلکہ ریاستی طاقت کے اظہار کا بنیادی ذریعہ بن چکے ہیں۔ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی حالیہ اعلیٰ سطحی تقاریب، جنہیں "معرکۂ حق" اور "آپریشن بنیان مرصوص" کے تناظر میں ایک سالہ یادگاری تقریب کے طور پر پیش کیا گیا، اسی بدلتی ہوئی عالمی سیاسی حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہیں، جہاں عسکری کامیابی کو صرف میدانِ جنگ تک محدود رکھنے کے بجائے اسے قومی شناخت، نظریاتی استحکام اور سفارتی خود اعتمادی کے استعارے میں ڈھال دیا جاتا ہے۔
اس موقع پر مسلح افواج کے اعلیٰ ترین عسکری کمانڈ کے بیانات میں پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو ایک ناقابلِ تسخیر حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب نہ صرف فوری بلکہ انتہائی شدید اور ہمہ جہتی نوعیت کا ہوگا۔ اس خطابت میں دفاعی خود اعتمادی، تکنیکی برتری اور اسٹریٹیجک تیاری کے تصورات کو ایک مربوط فکری سانچے میں پیش کیا گیا، جس کا مقصد نہ صرف داخلی سطح پر حوصلہ افزائی تھا بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کے حوالے سے ایک واضح پیغام بھی تھا۔
بیانیے کے مطابق، ماضی قریب میں ہونے والی عسکری کشیدگی نے نہ صرف میدانِ جنگ میں ایک فیصلہ کن صورتحال کو جنم دیا بلکہ اس کے نتیجے میں دشمن کے اسٹریٹیجک عزائم کو بھی شدید دھچکا پہنچا۔ اس تناظر میں "معرکۂ حق" کو محض ایک عسکری معرکہ نہیں بلکہ دو متضاد نظریاتی اور جغرافیائی تصورات کے درمیان فیصلہ کن تصادم کے طور پر پیش کیا گیا، جہاں ریاستی خودمختاری، قومی وقار اور عسکری نظم و ضبط کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔
اس خطابت میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ پاکستان کی تینوں مسلح افواج بری، بحری اور فضائی نے ایک مربوط اور ہم آہنگ حکمتِ عملی کے تحت نہ صرف دفاعی ذمہ داریاں انجام دیں بلکہ دشمن کے متعدد عسکری اہداف کو بھی مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ اس نوعیت کے بیانات جدید عسکری نظریات میں "ملٹی ڈومین وارفیئر" کے تصور سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں، جس میں جنگ محض زمینی محاذ تک محدود نہیں رہتی بلکہ فضائی، بحری، سائبر اور خلائی جہتوں تک پھیل جاتی ہے۔
اسی فکری پس منظر میں دفاعی ڈھانچے کی تنظیمِ نو، جدید راکٹ فورس کمانڈ کا قیام اور خلائی و تکنیکی پروگراموں کی توسیع جیسے اقدامات کو مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا گیا۔ یہ تصور اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاستیں اب صرف روایتی عسکری طاقت پر انحصار نہیں کر رہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، ڈرون ٹیکنالوجی اور سائبر جنگی صلاحیتوں کو بھی اپنی دفاعی حکمتِ عملی کا لازمی جزو بنا رہی ہیں۔
خطاب میں بھارت کے ساتھ تعلقات کو ایک مستقل اسٹریٹیجک چیلنج کے طور پر بیان کیا گیا، جہاں اسے خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی خواہش رکھنے والی قوت کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس بیانیے میں یہ بھی کہا گیا کہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کے نتائج نہ صرف فوری بلکہ دور رس اور شدید نوعیت کے ہوں گے۔ اس قسم کی زبان دراصل عسکری ڈیٹرنس (deterrence) کے اس اصول کی عکاس ہے جس کا مقصد مخالف فریق کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رکھنا ہوتا ہے۔
اسی کے ساتھ افغانستان کے حوالے سے یہ توقع ظاہر کی گئی کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی غیر ریاستی مسلح گروہوں کے استعمال سے محفوظ رکھے۔ یہ نقطہ خطے کی مجموعی سیکیورٹی ساخت میں افغانستان کے اسٹریٹیجک کردار کو اجاگر کرتا ہے، جہاں سرحدی استحکام پورے جنوبی ایشیائی امن کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
بیانیے کا ایک اہم پہلو کشمیر کے مسئلے کو "نامکمل قومی داستان" کے طور پر پیش کرنا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ تنازعہ پاکستان کی قومی و سفارتی پالیسی میں مرکزی مقام رکھتا ہے۔ اس تناظر میں کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کو ایک مسلسل پالیسی کے طور پر دہرایا گیا، جو ریاستی مؤقف کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی خطابت میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو بھی نمایاں کیا گیا، خصوصاً بعض اسلامی اور عالمی شراکت دار ممالک کے ساتھ اسٹریٹیجک تعاون اور ثالثی کے کردار کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ امر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جدید ریاستی طاقت صرف عسکری برتری پر نہیں بلکہ سفارتی توازن، اقتصادی روابط اور بین الاقوامی اتحادوں پر بھی منحصر ہے۔
وزیراعظم اور صدر مملکت کے بیانات میں بھی اسی بیانیے کی توسیع نظر آتی ہے، جہاں "معرکۂ حق" کو قومی تاریخ کا ایک سنہری باب قرار دیتے ہوئے اسے اجتماعی فتح، قومی اتحاد اور عسکری پیشہ ورانہ مہارت کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان خطابات میں عوام اور افواج کے درمیان ہم آہنگی کو ریاستی استحکام کی بنیاد کے طور پر بیان کیا گیا، جو جدید سیاسی نظریات میں "civil-military synergy" کے تصور سے ہم آہنگ ہے۔
اگر ان تمام بیانات اور تقاریب کا مجموعی تجزیہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی موجودہ ریاستی بیانیہ حکمتِ عملی تین بنیادی ستونوں پر قائم ہے: دفاعی خود اعتمادی، سفارتی فعّالیت اور داخلی یکجہتی۔ اس بیانیے میں طاقت کو محض عسکری برتری کے طور پر نہیں بلکہ ایک ہمہ جہتی ریاستی صلاحیت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس میں ٹیکنالوجی، سفارت کاری اور نظریاتی استحکام ایک ساتھ کارفرما ہیں۔
تاہم علمی و تجزیاتی سطح پر یہ بھی تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ہر عسکری بیانیہ اپنی فطرت میں نہ صرف دفاعی یا معلوماتی ہوتا ہے بلکہ اس میں ایک علامتی اور نفسیاتی پہلو بھی شامل ہوتا ہے، جو داخلی اعتماد کو مضبوط اور خارجی فریق کے لیے deterrence کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے ایسے بیانات کو مکمل تاریخی حقیقت کے بجائے ریاستی حکمتِ عملی کے ابلاغی اظہار کے طور پر سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ خطے کی صورتحال ایک ایسے دور کی نشاندہی کرتی ہے جہاں جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ بیانیوں، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری کے امتزاج سے لڑی جا رہی ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کا مؤقف ایک فعال دفاعی حکمتِ عملی، سفارتی خود اعتمادی اور تکنیکی جدیدیت کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے، جو آنے والے وقتوں میں خطے کے اسٹریٹیجک توازن کو مزید پیچیدہ اور متحرک بنا سکتا ہے۔

