Sunday, 01 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Hashir Masood
  4. Neuralink: Insani Dimagh Aur Machine Ka Milap

Neuralink: Insani Dimagh Aur Machine Ka Milap

نیورالنک: انسانی دماغ اور مشین کا ملاپ‎

نیورالنک (Neuralink)، جسے 2016 میں ایلون مسک نے دیگر نیورو سائنسدانوں کے ساتھ مل کر قائم کیا، نیورو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک انقلابی قدم ہے۔ یہ کمپنی برین مشین انٹرفیس کی تکنیک پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد انسانی دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان براہ راست رابطہ قائم کرنا ہے۔ نیورالنک کی بنیادی پیداوار ایک جدید امپلانٹ (Implant) ہے جو کھوپڑی کے اندر نصب کیا جاتا ہے اور دماغی سرگرمیوں کو ریکارڈ کرتا ہے۔ اس ڈیوائس میں ہزاروں انتہائی باریک الیکٹروڈز شامل ہیں جو دماغی خلیوں کے برقی سگنلز کو پڑھتے ہیں۔ جنوری 2024 میں پہلی بار انسانی مریض پر کلینیکل ٹرائل شروع ہوا، جس نے اس تکنیک کو تجرباتی مرحلے سے عملی استعمال کی جانب منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ پیش رفت نیورو سائنس اور بائیو میڈیکل انجینیئرنگ کے شعبوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

اس ٹیکنالوجی کی بنیادی افادیت طبی میدان میں ہے، خاص طور پر نیورولوجیکل عوارض اور جسمانی معذوری کا شکار افراد کے لیے۔ پیرالائسز مریضوں، ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ کے شکار افراد اور موٹر نیوران ڈیزیز جیسے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے یہ تکنیک نئی امیدیں لے کر آئی ہے۔ نیورالنک کے پہلے انسانی شرکت کار نولینڈ آرباؤ (Noland Arbaugh) نے، جو گردن سے نیچے مفلوج ہیں، صرف اپنی دماغی سرگرمیوں کے ذریعے کمپیوٹر کو کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے ڈیجیٹل آلات استعمال کیے، ای میلز تحریر کیں اور ویڈیو گیمز کھیلے۔ اس کے علاوہ، بصارت کی بحالی، سماعت کی بہتری اور ڈپریشن، مرگی، پارکنسنز اور الزائمر جیسے دماغی امراض کے علاج میں بھی اس تکنیک کی صلاحیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ تمام امکانات دماغ کے مخصوص علاقوں کو برقی طور پر متحرک کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہیں۔

نیورالنک امپلانٹ کی تنصیب ایک پیچیدہ لیکن منظم جراحی عمل ہے۔ کمپنی نے اس مقصد کے لیے خصوصی سرجیکل روبوٹ تیار کیا ہے جو انسانی بال سے بھی باریک الیکٹروڈز(electrodes) کو انتہائی درستگی کے ساتھ دماغ میں داخل کرتا ہے۔ یہ طریقہ کار تقریباً ساٹھ منٹ میں مکمل ہوتا ہے اور اسے آؤٹ پیشنٹ سرجری کے طور پر انجام دیا جا سکتا ہے۔ امپلانٹ کا قطر ایک سکے کے برابر ہے اور یہ کھوپڑی میں سمو جاتا ہے، جس سے یہ بیرونی طور پر نظر نہیں آتا۔ ڈیوائس میں شامل بیٹری وائرلیس چارجنگ کے ذریعے توانائی حاصل کرتی ہے۔ روبوٹک سسٹم کا استعمال اس لیے ناگزیر ہے کیونکہ دماغی بافتوں (Brain Tissues) میں پائی جانے والی خون کی باریک نالیوں سے بچنا اور درست جگہ پر الیکٹروڈز لگانا انسانی ہاتھ سے ممکن نہیں۔ یہ تکنیکی درستگی سرجری کے خطرات کو کم کرتی ہے اور نتائج کی بہتری کو یقینی بناتی ہے۔

تاہم، اس ٹیکنالوجی کے ساتھ متعدد سنجیدہ سوالات اور خدشات بھی وابستہ ہیں۔ حفاظت کا مسئلہ سب سے اہم ہے۔ جانوروں پر ابتدائی تجربات کے دوران کچھ پیچیدگیاں سامنے آئیں، جن پر تنقید بھی ہوئی۔ انسانی آزمائشوں میں بھی چیلنجز موجود ہیں۔ پہلے مریض کے معاملے میں کچھ الیکٹروڈز اپنی جگہ سے منتقل ہو گئے، جس سے ڈیوائس کی کارکردگی میں کمی واقع ہوئی۔ ڈیٹا سیکیورٹی اور پرائیویسی کے مسائل بھی انتہائی اہم ہیں۔ چونکہ یہ ڈیوائس دماغی سرگرمیوں کو پڑھتی ہے، لہذا یہ معلومات انتہائی حساس نوعیت کی ہیں۔ سائبر حملوں، غیر مجاز رسائی اور ڈیٹا کے غلط استعمال کے امکانات سے متعلق واضح ضوابط اور حفاظتی پروٹوکول ابھی تک مکمل طور پر وضع نہیں ہوئے۔ یہ تشویشات نہ صرف تکنیکی بلکہ قانونی اور سماجی سطح پر بھی توجہ کی متقاضی ہیں۔

اخلاقیات اور سماجی مساوات کے حوالے سے بھی کئی اہم سوالات زیر بحث ہیں۔ کیا صحت مند افراد کو علمی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے یہ تکنیک استعمال کرنی چاہیے؟ اگر یہ ٹیکنالوجی عام ہو جائے تو کیا معاشرے میں ایک نئی تقسیم پیدا نہیں ہوگی، جہاں صرف امیر طبقہ اس سے فائدہ اٹھا سکے؟ کیا "کوگنیٹو اینہانسمنٹ" (cognitive enhancement) انسانی فطرت اور شناخت کی تعریف کو متاثر کرے گی؟ بہت سے ماہرین اخلاقیات کا خیال ہے کہ اس قسم کی تبدیلیوں کو سماجی اتفاق رائے اور واضح ضوابط کے تحت لایا جانا چاہیے۔ دوسری طرف، حامیوں کا استدلال ہے کہ یہ محض طبی معاونت کا ایک جدید ذریعہ ہے، جیسے عینک یا سماعت کا آلہ۔ یہ بحث صرف نیورالنک تک محدود نہیں بلکہ وسیع تر بائیو ٹیکنالوجی اور ہیومن اینہانسمنٹ کی بحث کا بھی حصہ ہے۔

نیورالنک کا طویل المیعاد وژن انتہائی عظیم الشان ہے۔ ایلون مسک کا اعلان کردہ ہدف ایک ایسا مستقبل ہے جہاں انسان اپنی دماغی سرگرمیوں کے ذریعے الیکٹرانک آلات کو کنٹرول کر سکیں، ٹیلی پیتھک انداز میں بات چیت کر سکیں اور مصنوعی ذہانت کے مقابلے میں اپنی صلاحیتوں کو برقرار رکھ سکیں۔ ان کا موقف ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی تیز رفتار ترقی کے پیش نظر انسانی دماغ کو بھی ارتقا کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ خواب حقیقت بننے میں ابھی کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ موجودہ وقت میں نیورالنک کی ترجیح طبی استعمال پر مرکوز ہے۔ 2024 میں دوسرے انسانی مریض پر کلینیکل ٹرائل شروع ہوا اور آنے والے برسوں میں مزید شرکا کو شامل کیا جائے گا۔ اگر یہ تجربات کامیاب رہے تو یہ طبی سائنس میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہوگی، تاہم اس کے ساتھ ریگولیٹری نگرانی، اخلاقی رہنما خطوط اور سماجی مباحثے بھی لازمی ہیں تاکہ اس تکنیک کا ذمہ دارانہ اور محفوظ استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

Check Also

Great Game Ka Chotha Daur

By Imtiaz Ahmad