Chor
چور
ہر انسان میں میں اللہ تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی ایسی خوبی رکھی ہے، جو اس کی شخصیت میں وقت کے ساتھ ساتھ نکھار پیدا کرتی ہے اور آخر کار انجام بخیر ہو جاتا ہے۔ کوہ ہمالیہ کے جنوبی دامن سے لے کر جنوب میں بحیرہ عرب کے شمال تک ایک خطہ ہے جس کو دنیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے پہچانتی ہے۔
اس ملک پاکستان کی اکثریت آبادی مسلمان ہے اور ان میں سے اکثریت قرآن کو پابندی سے پڑھے بغیر اونچی جگہوں پر اور قیمتی کپڑوں میں لپیٹ لپیٹ کر رکھتی ہے۔
اس قرآن میں ایک آیت ہے "وَقُلُ جَاءَ الُحَقُّ وَزَهَقَ الُبَاطِلُ ۚ إِنَّ الُبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا"
And say, "Truth has come and falsehood has vanished. Falsehood is surely bound to vanish."
,T. Usmani
اس آیت کی وضاحت اور تفسیر میں پاکستان کے عالمی مشہور اور عالمی مستند فقیہہ تقی عثمانی (peace be upon him) نے کہیں لکھا ہے کہ "اگر آپ دیکھیں کوئی بظاہر برا شخص یا نظام ترقی کر رہا ہے اور مقبول عام ہے، تو اس میں چھپی ہوئی خوبی تلاش کرو، کیونکہ خداوند تعالیٰ نے بہر حال طے کر رکھا ہے کہ باطل یا برا یا برائی کبھی ترقی نہیں کر سکتی ہے"۔
امام احمد ابن حنبلؒ فقہ حنبلی کے بانی ہیں عمر کے آخری حصے میں کبھی کبھی یوں ہی آہ بھرتے اور بے اختیار ایک دعا کرتے۔
"غفر لك الله ابن الهيثم"
بیٹے عبداللہ نے ایک بار تجسّس کیا اور پوچھا کہ ابنِ الہیثم کون ہے جس کو آپ اس قدر درد سے یاد کرتے ہیں اور اس کی مغفرت کی دُعا کرتے ہیں؟
امامؒ نے پھر اپنے بیٹے کو قصہ سنایا جس نے ایک چور کو بعد میں آنے والے مسلمانوں کے لیے رول ماڈل بنادیا۔ اس قصے سے پہلے ایک مسئلہ یا فتنہ سمجھ لیں، جس کو "فتنہ خلق قرآن" کہا جاتا ہے۔
تیسری صدی ہجری میں ایک مسئلہ پیدا ہوا جسے خلق قرآن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بنو عباس یعنی عبداللہ ابن عباسؓ کی اولاد میں سے تین بادشاہ ماموں ابن ہارونؒ، معتصم ابن ہارونؒ اور واثقؒ اس کا سبب اور شکار بنے۔
خلق قرآن کے نظریہ یہ تھا کہ قرآن اللہ کی مخلوق ہے نہ کہ صفت، امام احمدؒ اور کچھ اور فقہاء نے کہا کہ نہیں، قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس کی صفت ہے، نہ کہ مخلوق، کیوں کہ قرآن اللہ کا اپنے رسول ﷺ سے گفتگو اور خطاب ہے۔
بادشاہ مامون الرشیدؒ کا وقت گزرا اور معتصمؒ کا وقت شروع ہوا۔ معتصمؒ نے امام احمدؒ کو طلب کیا، خلق قرآن کو قبول کرنے کا کہا، امام نے انکار کیا۔ معتصمؒ نے سختی کی اور سزا کا حکم دیا، دربار عام میں فوجی امام احمدؒ کو escort کرکے لے جا رہے تھے۔
انسان کمزور ہے، سو امام احمدؒ کے دل میں لمحے کے لیے اضطراب ہوا، اتنے میں کسی نے نرمی سے کرتا کا دامن کھینچ کر ذرا قریب کیا اور سرگوشی کی، "میں بغداد کا بدنام چور، کتنی ہی بار گرفتار ہوا اور سزا یافتہ ہوا لیکن چوری سے باز نہ آیا، آپ حق پر ہیں اور استقامت کے ساتھ رہیں"۔
اتنی گفتگو کے بعد امام احمدؒ نے اپنے بیٹے کو کہا کہ میری کمزوری دور ہوگئی اور میں نے پوری جرأت کے ساتھ سزا کا سامنا کیا اور اللہ نے اس فتنہ کو آخرکار ختم کر دیا۔
تو جناب براؤن براؤن جنوبی ایشیائی مسلمانو! یہ ہے ایک چور جس کی ایک چھوٹی سی خوبی اور سادہ گفتگو نے ایک فقیہہ کو استقامت دی اور انجام کار چور کا اپنا نام صلحاء، صدیقیین اور فقہاء کے ساتھ لکھنا اور یاد رکھنا شروع ہوا ہے۔
اب آپ بھی پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس نیک چور کو دعا دیں، "غفر لك الله ابن الهيثم" اللہ تعالیٰ ابن الہیثمؒ کی مغفرت کرے، کیا ہی نیک بخت چور تھا۔
امام احمد ابنِ حنبلؒ اور چور ابن الہیثمؒ، دونوں کی بیک وقت یاد آئی، دونوں کے لیے ہی لکھا اور دونوں کو ہی dedicate کرتا ہوں۔

