Sunday, 01 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Hamza Ali
  4. Main Aur Aap Khule Manhole Mein

Main Aur Aap Khule Manhole Mein

میں اور آپ کھلے مین ہول میں

ہم سب اس دن بھاٹی گیٹ کے قریب تھے۔ کوئی وہاں موجود تھا، کوئی خبر کی صورت میں اور کوئی محض ایک عدد بن کر۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کھلے مین ہول میں صرف ایک دس ماہ کی ردا فاطمہ یا اس کی ماں سعدیہ نہیں گریں۔ ہم سب گرے ہیں۔ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا۔ یہ برسوں کی غفلت، جھوٹ، نمائشی بیانات اور مردہ نظام کا منطقی انجام تھا۔

بھاٹی گیٹ، جو کبھی لاہور کی تہذیبی پہچان ہوا کرتا تھا، آج انتظامی لاپرواہی کی ایک کھلی فائل ہے۔ ایک ایسا مین ہول جو دنوں، ہفتوں، بلکہ مہینوں سے کھلا تھا۔ نہ کسی کو دکھائی دیا، نہ کسی کو یاد رہا اور نہ کسی کی ترجیح بنا۔ یہی تو اصل مسئلہ ہے۔ ہماری ترجیحات۔

حادثے کے فوراً بعد بیانات کی بارش شروع ہوگئی۔

کسی نے کہا: "تحقیقات ہوں گی"۔

کسی نے کہا: "ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی"۔

اور کسی نے ہمیشہ کی طرح کہا: "یہ ہماری ذمہ داری نہیں تھی"۔

یہ وہی پرانے جملے ہیں جو ہر لاش کے ساتھ دہرائے جاتے ہیں۔

اور ہر بار سچ کو دفن کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر مین ہول کھلا تھا تو وہ کسی ایک محکمے کی ناکامی نہیں، بلکہ پورے نظام کی اجتماعی موت ہے۔ واسا، میونسپل کارپوریشن، ضلعی انتظامیہ، پولیس سب اپنی اپنی حدود میں مکمل تھے، مگر عوام کے تحفظ میں سب ناکام۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ مین ہول کیوں کھلا تھا، اصل سوال یہ ہے کہ

وہ اتنی دیر تک کھلا کیسے رہا؟

کیا وہاں سے کوئی افسر نہیں گزرا؟

کیا کسی اہلکار نے نہیں دیکھا؟

کیا کسی فائل میں یہ نکتہ شامل نہیں تھا؟

یا پھر یہ شہر صرف فائلوں میں آباد ہے، سڑکوں پر نہیں؟

جب حادثہ ہوگیا، تو کیمرے پہنچ گئے۔ مائیک آن ہو گئے۔ چہرے سنجیدہ ہو گئے۔ لیکن چند گھنٹوں بعد سب کچھ ویسا ہی ہوگیا۔ بس دو جانیں کم ہوگئیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں زندگی کی قیمت حادثے کے بعد لگتی ہے، پہلے نہیں۔ حکومتی غلط بیانی اس سانحے کا دوسرا پہلو ہے۔ کبھی کہا گیا کہ مین ہول ڈھکا ہوا تھا، کبھی کہا گیا ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا شوہر جھوٹ بول رہا ہے۔ پھر شوہر کو پولیس نے گرفتار بھی کر لیا تفتیش بھی شروع کر دی مار پیٹ بھی کی گئی جس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ مدد مانگ رہا تھا اس حکومت وقت کی لاڈلی انتظامیہ سے اور محافظین سے کے میری بیٹی اور بیوی اس گڑھے میں گر گئیں ہیں۔

اور کبھی یہ مؤقف اپنایا گیا کہ عوام نے خود رکاوٹیں ہٹائیں۔

سوال یہ ہے: اگر عوام نے ہٹائے تو نگرانی کہاں تھی؟

اور اگر سب جھوٹ ہے تو سچ بولنے کی ہمت کیوں نہیں؟ سچ بولنے سے کرسی ہلتی ہے اور ہمارے ہاں کرسی، انسان سے زیادہ قیمتی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے۔ ہم سب اس آئینے سے نظریں چرا لیتے ہیں، کیونکہ اس میں ہمیں اپنا عکس نظر آتا ہے۔ خاموش، بے حس اور وقتی غصے کا عادی۔ ہم چند دن شور مچاتے ہیں، سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگاتے ہیں اور پھر اگلے واقعے کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ یوں ہر نیا مین ہول۔

پچھلے حادثے کی قبر پر کھلتا ہے۔ بھاٹی گیٹ کا مین ہول بند ہو جائے گا، شاید سڑک بھی بن جائے، شاید کسی افسر کا تبادلہ بھی ہو جائے، لیکن سوال یہ ہے کیا ہم بند ہوں گے؟ کیا ہماری بے حسی بند ہوگی؟ کیا ہماری ترجیحات بدلیں گی؟ کیونکہ جب تک ایسا نہیں ہوتا، ہر شہری ایک ممکنہ شکار ہے اور ہر گلی ایک کھلا مین ہول۔ یہ کالم کسی ایک فرد کے لیے نہیں، یہ ہم سب کے نام ایک نوٹس ہے۔ ہم یا تو نظام کو ٹھیک کریں گے، یا پھر اگلی باری کسی اور کی ہوگی اور یاد رکھیے اس بار دس ماہ کی ردا فاطمہ اور اس کی ماہ سعدیہ تھیں۔ اگلی بار میں اور آپ یا ہماری بہن، بیٹی، بیوی بھی ہو سکتی ہے۔

Check Also

Murree Ki Gen Z, Sundar Pichai Ban Sakti Hai?

By Muhammad Idrees Abbasi