Halaat e Hazra Par Aik Nazar
حالاتِ حاضرہ پہ ایک نظر

پاکستان اس وقت ایک ایسے سیاسی اور سماجی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سمت کا تعین مشکل اور اعتماد کا فقدان نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی منظرنامہ تیزی سے بدلتا ہے، مگر عوام کی زندگی میں مثبت تبدیلی کی رفتار سست تر ہوتی جا رہی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی کشمکش، بیانات کی گھن گرج اور ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ نے عام آدمی کو اس سوال پر لا کھڑا کیا ہے کہ آخر اس سب کا حاصل کیا ہے؟
ملک کی سیاست اس وقت شدید قطبیت (polarization) کا شکار ہے۔ ایک طرف حکومت کو درپیش معاشی دباؤ، عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط اور اندرونی انتظامی مسائل ہیں، تو دوسری طرف اپوزیشن کی جانب سے احتجاجی سیاست، عدم اعتماد اور قبل از وقت انتخابات کے مطالبات۔ اس سیاسی کشمکش میں پالیسی سازی پس منظر میں چلی گئی ہے اور روزمرہ کے مسائل مہنگائی، بے روزگاری، توانائی بحران اور امن و امان عوام کے لیے آزمائش بنے ہوئے ہیں۔
مہنگائی اس پورے منظرنامے کا سب سے تلخ پہلو ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں ہوں یا بجلی و گیس کے بل، ہر شے عام شہری کی قوتِ خرید کو چیلنج کر رہی ہے۔ تنخواہ دار طبقہ ہو یا دیہاڑی دار مزدور، سب ایک ہی سوال پوچھتے نظر آتے ہیں کہ کیا آنے والا کل آج سے بہتر ہوگا؟ بدقسمتی سے سیاسی بیان بازی میں اس سوال کا واضح جواب کہیں نظر نہیں آتا۔
سیاسی قیادت کی ذمہ داری محض اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کی حفاظت بھی ہے۔ مگر موجودہ حالات میں سیاست ایک ایسے کھیل میں بدل چکی ہے جہاں جیت ہار کا معیار عوامی فلاح نہیں بلکہ مخالف کو نیچا دکھانا بن گیا ہے۔ پارلیمان، جو مسائل کے حل کا مرکز ہونی چاہیے، اکثر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی نذر ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً قانون سازی کا عمل سست اور غیر مؤثر دکھائی دیتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا نے اس فضا کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اطلاعات کی بھرمار، آدھی سچائیاں اور جذباتی بیانیے عوام کے ذہنوں میں بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ خبر اور رائے کے درمیان فرق مٹتا جا رہا ہے، جس سے معاشرے میں اضطراب اور عدم برداشت بڑھ رہی ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر نفرت اور تقسیم اس کی روح کو مجروح کرتی ہے۔
ان حالات میں عوام کی کیفیت کو نظر انداز کرنا سب سے بڑی کوتاہی ہوگی۔ لوگ تھکن، مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک سے باہر دیکھ رہے ہیں، جبکہ بزرگ ایک مستحکم ماضی کو یاد کرکے حال پر افسوس کرتے ہیں۔ اس اجتماعی کیفیت میں سب سے خطرناک عنصر بے حسی ہے جب شہری یہ مان لیں کہ ان کی آواز بے اثر ہے۔
تاہم تصویر کا ایک روشن رخ بھی ہے۔ پاکستانی عوام نے تاریخ میں بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ مشکل حالات میں غیر معمولی حوصلہ رکھتے ہیں۔ سول سوسائٹی، فلاحی تنظیمیں اور عام شہری ایک دوسرے کا سہارا بن رہے ہیں۔ یہ اجتماعی قوت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ریاست محض اداروں کا نام نہیں بلکہ عوام سے بنتی ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست کو ذاتی مفادات سے نکال کر قومی ترجیحات سے جوڑا جائے۔ معیشت کی بحالی، ادارہ جاتی استحکام اور سماجی ہم آہنگی وہ ستون ہیں جن پر مستقبل کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔ سیاسی مکالمہ الزام تراشی کے بجائے حل پر مبنی ہو اور اختلاف کو دشمنی نہ بنایا جائے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حالاتِ حاضرہ ہمیں ایک کڑا امتحان دے رہے ہیں۔ یہ امتحان صرف حکومت یا اپوزیشن کا نہیں بلکہ پوری قوم کا ہے۔ اگر ہم اجتماعی دانش، برداشت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو یہی بحران ایک نئے آغاز کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ مواقع ہاتھ سے نکلتے دیر نہیں لگتی۔

