Sunday, 01 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Hamza Ali
  4. Gul Plaza Karachi, Riyasat, Qanoon Aur Shehri Zindagi Ka Noha

Gul Plaza Karachi, Riyasat, Qanoon Aur Shehri Zindagi Ka Noha

گل پلازہ کراچی، ریاست، قانون اور شہری زندگی کا نوحہ

کراچی ایک بار پھر لہو میں نہا گیا۔ گل پلازہ کا واقعہ محض ایک عمارت، ایک جھگڑے یا ایک لمحاتی اشتعال کی کہانی نہیں بلکہ یہ اس اجتماعی زوال کی علامت ہے جس میں ریاستی رٹ، قانون کی عمل داری اور انسانی جان کی حرمت سب کچھ داؤ پر لگ چکا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں، کیا کراچی واقعی پاکستان کا معاشی دارالحکومت ہے یا پھر ایک ایسا جنگل جہاں طاقتور ہی قانون ہے؟

گل پلازہ کا واقعہ بظاہر ایک معمولی تنازعے سے شروع ہوا، لیکن اس کا انجام خونریز ثابت ہوا۔ دن دہاڑے فائرنگ، خوف و ہراس، چیخ و پکار اور پھر لاشیں، یہ سب کچھ کسی دور دراز قبائلی علاقے میں نہیں بلکہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے ایک تجارتی مرکز میں ہوا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ حقیقت عیاں کر دی کہ کراچی میں جان لینا کتنا آسان اور انصاف حاصل کرنا کتنا مشکل ہو چکا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ کراچی نے ایسا سانحہ دیکھا ہو۔ کبھی بلدیہ فیکٹری، کبھی لیاری، کبھی اورنگی، کبھی شاہراہِ فیصل اور اب گل پلازہ۔ ہر واقعے کے بعد وہی بیانات، وہی مذمتی قراردادیں، وہی جوڈیشل انکوائریوں کے اعلانات اور پھر خاموشی۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟

گل پلازہ کے واقعے میں سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس میں اسلحہ کا کھلے عام استعمال ہوا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شہر میں غیر قانونی اسلحہ کس قدر عام ہو چکا ہے۔ اگر ایک تجارتی پلازہ میں لوگ ہتھیار لے کر گھوم سکتے ہیں تو عام شہری کہاں محفوظ ہے؟ کیا ریاست نے اسلحہ مافیا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں؟

دوسرا اہم پہلو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی ہے۔ واقعے کے بعد پولیس پہنچی، بیانات دیے گئے، ایف آئی آر درج ہوئی، لیکن عوام کا اعتماد بحال نہ ہو سکا۔ وجہ صاف ہے: ماضی کے تجربات۔ کراچی کے شہری جانتے ہیں کہ اکثر کیسز فائلوں میں دفن ہو جاتے ہیں، طاقتور بچ نکلتے ہیں اور کمزور انصاف کے انتظار میں بوڑھے ہو جاتے ہیں۔

یہ واقعہ عدالتی نظام پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر مجرموں کو بروقت اور عبرتناک سزا ملتی تو شاید ایسے واقعات بار بار پیش نہ آتے۔ تاخیر کا شکار انصاف دراصل انصاف نہیں ہوتا، بلکہ مزید جرائم کو دعوت دیتا ہے۔

گل پلازہ کا واقعہ ہمیں شہری نظم و ضبط کی تباہی کی بھی یاد دہانی کراتا ہے۔ پلازے، مارکیٹس اور تجارتی مراکز بغیر کسی موثر سکیورٹی پلان کے چل رہے ہیں۔ سی سی ٹی وی محض دکھاوے کے لیے لگے ہیں، فائر سیفٹی کا کوئی انتظام نہیں اور انتظامیہ صرف کرایہ وصول کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ انسانی جان کی قیمت شاید چند ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ نہیں سمجھی جاتی۔

یہ سانحہ میڈیا کے کردار پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ کچھ چینلز نے اسے بریکنگ نیوز بنا کر پیش کیا، مگر چند دن بعد نئی خبر نے پرانی کو دبا دیا۔ سنجیدہ فالو اپ، تحقیقاتی صحافت اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ ناپید دکھائی دی۔ جب میڈیا خود یادداشت کھو بیٹھے تو معاشرہ کیسے سیکھے گا؟

سیاسی قیادت کی خاموشی یا رسمی بیانات بھی کم افسوس ناک نہیں۔ کراچی کے نام پر سیاست تو بہت کی جاتی ہے، مگر کراچی کے شہری کے لیے عملی اقدامات کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ گل پلازہ کے متاثرین کے لواحقین کو محض تعزیتی پیغامات نہیں، بلکہ انصاف، تحفظ اور اعتماد درکار ہے۔

اصل مسئلہ صرف گل پلازہ نہیں، بلکہ وہ نظام ہے جو ایسے واقعات کو جنم دیتا ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں قانون کمزور اور تعلقات مضبوط ہوں، جہاں سفارش جرم سے زیادہ طاقتور ہو اور جہاں ریاست ماں کی طرح تحفظ دینے کے بجائے ایک بے حس تماشائی بن جائے۔

ہمیں بطور قوم یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی انسانی جان کو مقدس سمجھتے ہیں یا نہیں۔ کیا ہم ہر واقعے کو قسمت، اتفاق یا وقتی اشتعال کہہ کر آگے بڑھتے رہیں گے، یا پھر کسی دن اجتماعی طور پر یہ مطالبہ کریں گے کہ بس اب بہت ہو چکا؟

گل پلازہ کا واقعہ ایک انتباہ ہے۔ اگر آج ہم نے آنکھیں بند رکھیں تو کل کوئی اور پلازہ، کوئی اور بازار، کوئی اور گلی خون سے رنگی ہوگی۔ سوال یہ نہیں کہ اگلا واقعہ کہاں ہوگا، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے روکنے کے لیے کچھ کریں گے بھی یا نہیں؟

یہ کالم کسی ایک واقعے کا ماتم نہیں، بلکہ اس نظام پر فردِ جرم ہے جو شہری کو غیر محفوظ، مجرم کو بااثر اور انصاف کو بے زبان بنا چکا ہے۔ اگر گل پلازہ کے بعد بھی ہم نہ جاگے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

Check Also

Jab Qaumen Sawal Karna Chor Dein

By Nusrat Abbas Dassu