Monday, 26 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Hamza Ali
  4. Bebasi Ka Zehr Aur Umeed Ki Kiran

Bebasi Ka Zehr Aur Umeed Ki Kiran

بے بسی کا زہر اور امید کی کرن

بے بسی ایک ایسا احساس ہے جس کا سامنا ہر انسان کو زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر کرنا پڑتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جب انسان اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود حالات کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا اور اس کا دل ہار کر خاموشی میں ڈوب جاتا ہے۔ بے بسی کا عالم انسان کو اپنی کمزوریوں کا شدت سے احساس دلاتا ہے اور یہ احساس اسے ایک بند گلی میں دھکیل دیتا ہے جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں دکھائی دیتا۔

زندگی میں بے بسی کا سامنا ہر شخص کو کسی نہ کسی وقت ہوتا ہے، چاہے وہ ذاتی سطح پر ہو یا سماجی۔ جب انسان اپنے مسائل کا حل نہ پائے، جب اس کے ہاتھ میں کچھ نہ ہو، یا جب وہ کسی بڑی قدرتی آفات یا اجتماعی مسائل کا شکار ہو، تو یہ بے بسی کا احساس شدید ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو معاشرتی طور پر کمزور ہوتے ہیں، انہیں یہ احساس بہت گہرا ہوتا ہے۔

بے بسی کا عالم دراصل ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جب انسان احساس کمتری اور مایوسی میں ڈوب جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح اس کے حالات بہتر ہوں، مگر وہ یہ نہیں جان پاتا کہ حالات کس طرح بدلے جائیں گے۔ انسان کی یہی صورتحال اس کے جذباتی اور ذہنی سکون کو برباد کر دیتی ہے۔ بے بسی کا یہ عالم انسان کو اندر سے ٹوٹنے کا احساس دلاتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ شاید اس کی کوششیں ناکامی کی طرف ہی جا رہی ہیں۔

معاشرتی سطح پر بھی بے بسی کا عالم ایک بہت سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ جب لوگ غربت، بے روزگاری اور صحت کے مسائل میں پھنس جاتے ہیں اور ان کے پاس ان مسائل کا حل نہیں ہوتا، تو یہ انہیں اس عالم میں دھکیل دیتا ہے جہاں وہ خود کو بے اختیار اور بے بس محسوس کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض لوگ اپنی زندگیوں کا مفہوم ہی کھو بیٹھتے ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کے حالات میں کوئی بہتری نہیں آ سکتی۔

اس بے بسی کی حالت میں، انسان مختلف قسم کے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔ اضطراب، ڈپریشن اور غصہ ایسے احساسات ہیں جو بے بسی کا سامنا کرنے والے افراد کے اندر جڑ پکڑ لیتے ہیں۔ انسان اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر جب وہ ان میں کامیاب نہیں ہو پاتا، تو وہ خود کو ناکام اور ہارے ہوئے محسوس کرتا ہے۔ اس بے بسی کا اثر اس کی جسمانی صحت پر بھی پڑ سکتا ہے، کیونکہ ذہنی دباؤ اور پریشانی کے اثرات جسم پر بھی ظاہر ہونے لگتے ہیں۔

بے بسی کا عالم صرف فرد کی سطح تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ یہ سماج میں بھی پھیل جاتا ہے۔ جب ایک فرد یا گروہ سماجی اور سیاسی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کے پاس ان مسائل کا حل نہیں ہوتا، تو وہ پورے معاشرے میں بے بسی کا ماحول پیدا کر دیتا ہے۔ ایسی صورتحال میں، لوگ ایک دوسرے سے مایوس ہو جاتے ہیں اور ایک قسم کا اجتماعی بے حسی پیدا ہو جاتی ہے۔

مگر، بے بسی کا عالم ہمیشہ کے لیے نہیں رہتا۔ اس سے نکلنے کا ایک راستہ ہے اور وہ ہے امید کا دامن تھامنا۔ جب انسان اپنی مشکلات کا سامنا کرتا ہے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اسے کبھی نہ کبھی کامیابی ضرور ملتی ہے۔ ہر تاریک رات کے بعد ایک روشن صبح آتی ہے۔ بے بسی کے عالم میں بھی انسان کو امید کی کرن ضرور ملتی ہے، جو اسے زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

لہٰذا، بے بسی کا عالم دراصل ایک عارضی مرحلہ ہے جو کسی نہ کسی وقت ختم ہو جاتا ہے۔ انسان جب تک اپنی مشکلات کا مقابلہ کرتا رہتا ہے اور خود پر یقین رکھتا ہے، وہ اس عالم سے باہر نکل آتا ہے۔ اس دوران، انسان کی کامیابی صرف اس کی ذاتی قوت ارادی پر منحصر ہوتی ہے کہ وہ حالات کو کیسے اپنے حق میں بدل سکتا ہے۔ بے بسی کا عالم انسان کو سیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور اسے یہ سکھاتا ہے کہ زندگی میں کبھی بھی ہار نہیں مانی جانی چاہیے، کیونکہ ہر مشکل کا حل ہوتا ہے، بس ہمیں وہ حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

بے بسی کو کم کرنے کے لئے ہمیں ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب معاشرتی سطح پر افراد ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور مل کر مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، تو اس سے بے بسی کے عالم میں کمی آتی ہے۔ یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے ارد گرد کے لوگوں کے دکھ درد کو سمجھیں اور ان کی مدد کریں تاکہ وہ اس بے بسی سے نکل کر ایک نئی امید کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

نتیجتاً، بے بسی کا عالم ایک موقع ہوتا ہے، جو انسان کو خود میں بہت کچھ سیکھنے کی طاقت فراہم کرتا ہے۔ اس عالم میں گزارا ہوا وقت انسان کو ذہنی اور جذباتی طور پر مضبوط بناتا ہے اور اسے سکھاتا ہے کہ ہر مشکل کا ایک حل ہے اور اس حل کو تلاش کرنے کی جستجو انسان کو اس کی منزل تک پہنچاتی ہے۔

Check Also

Kya Hum Waqai Riyasat e Madina Chahte Hain?

By Saleem Zaman