Wednesday, 24 July 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Saleem
  4. Hamare Nikkay Nikkay Gham

Hamare Nikkay Nikkay Gham

ہمارے نکے نکے غم

عین وقت سکول پیٹ میں درد ہوجانا۔۔ ہر کوئی اس تکلیف سے گزرتا ہے لیکن اس تکلیف سے فائدہ کوئی کوئی اٹھاتا ہے۔

جب والدین کو سمجھایا جاتا ہے کہ نظرانداز کر دیا کریں۔ یہ سکول ٹراما سنڈروم کی علامات میں سے ایک ہیں تو جواب ملتا ہے۔ بچہ بہت لائق ہے بھلا اسے سکول سے کیا تکلیف ہو سکتی تو جوابا عرض کرتا ہوں کہ آپ کا میرے بارےکیا خیال ہے کہ میں نالائق طالب علم رھا ہوں گا بھلا؟

ہنس کر بولتے ہیں۔ یقینا نہیں تو جواب دیتا ہوں تو پھر مجھ سے زیادہ ان بچوں کی سائیکی کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔

سکول داخل ہوئے ابھی تیسرا دن تھا اور عین وقت سکول پیٹ میں مروڑ اٹھا۔ اور بستہ چھوڑ کر سیدھا ٹائلٹ کی طرف بھاگا۔ فری تو دو منٹ میں ہوگیا لیکن نگاہوں کے سامنے مس کا چہرہ آگیا۔ پتا نہیں کیوں پہلے ہی دن سے مجھے اچھی نہیں لگی تھی۔ اور اس ناشکری پر پھر دوسری مس ساری عمر پڑھانے کیلئے نصیب میں نہیں ملی۔ دو دونی چار چار دونی اٹھ والے ماسٹروں نے سارا سکول کا گلیمر، ناسٹیلجیا کسی نائٹ میئر میں بدل ڈالا۔

ٹائلٹ سے نکلا تو ابا جی بڑے بھائی کو سکول چھوڑنے کیلئے جا چکے تھے۔

یہ تھی پہلی کامیابی۔ انسانی نفسیات اور رویوں کو جانچنے کی فطری صلاحیت کے استعمال کا پہلا موقع اور پہلی کامیابی اور اسی نشے میں اگلے دن اسی بہانے کو دوبارہ استعمال کرڈالا۔

اور ہماری اماں بھی نفسیات کی استاد نکلیں اور ٹائلٹ کا دروازہ کھلا رکھنے کا حکم سنا کر کھڑی ہوگئیں۔ ناچار دو منٹ بعد ہتھیار گرانے پڑے اور بوجھل دل کے ساتھ مس کا سامنا کرنے کیلئے خود کو تیار کرنا پڑا۔۔

لیکن اس ناکامی نے مایوسی نہیں دی بلکہ آنے والے وقت کے ساتھ ساتھ پیٹ درد کھانسی نزلہ کو بروقت استعمال کا ہنر ایسا سیکھا کہ گھر بھر کو پتا نہیں لگنے دیا۔

یہ پانچویں جماعت کا ذکر ہے جب گرمیوں کی چھٹیوں میں چھت پر ایک پینگ کے چکر میں بازو تڑوا بیٹھے۔ امی نے چھترول کے بعد جب میری چیخوں کی وجہ دریافت کی تو دکھ اس بے وقت کی مار سے زیادہ چھٹیوں میں پیش آنے والے اس حادثے کا غم تھا۔

لیکن کوئی دو سال بعد سردیوں کے آغاز پر گھر آئی ایک مہمان خاتون سے علم ہوا کہ سردیوں میں پرانی چوٹیں بیدار ہوجایا کرتی ہیں۔

فجر کے وقت اگرچہ سخت سردی میں ڈرامہ کا آغاز کرنا خاصا مشکل کام تھا لیکن پرانی چوٹ کا درد جگانے کا اس سے اچھا وقت نہیں ہو سکتا تھا۔۔

تو جناب جیسے چوری کی وردات کو سمجھنے کیلئے چور کی نفسیات کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے اسی طرح پیپر کے سامنے آنے پر بچے کو اگر نظر آنا بند ہوجائے تو اس کیلئے بچوں کی نفسیات کو سمجھنا ضروری ہوجاتا ہے۔۔ اور اس نفسیات کے پیچھے ضروری نہیں بچے کا نالائق ہونا شامل ہو وہ میم سین بھی ہوسکتا جس کو اپنی سکول لائف سے اتنی ہی چڑ تھی جتنی عمران خان کو میاں صاحب کو دیکھ کر ہوتی ہے۔۔

Check Also

Amaal Nama

By Mubashir Saleem