Wednesday, 01 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Wo Novel Jo Main Parhna Chahoon Ga

Wo Novel Jo Main Parhna Chahoon Ga

وہ ناول جو میں پڑھنا چاہوں گا

گزشتہ سال میں نے ایک ناول پڑھا جس میں مجھے اپنی زندگی اور اپنے خاندان کی جھلک نظر آئی۔ میں، میری بیوی، بیٹی اور بیٹا آٹھ سال پہلے پاکستان سے امریکا منتقل ہوئے اور ہم چاروں پر اس ہجرت کے اثرات مختلف ہیں۔ اس ناول میں ہمارے جیسا چار افراد کا کنبہ ایران سے جرمنی منتقل ہوتا ہے اور ویسی ہی کشمکش سے گزرتا ہے۔ ناول کے چار باب ہیں اور چاروں الگ کرداروں نے بیان کیے ہیں۔

پہلا باب بہزاد کا ہے جو انقلاب ایران کے موقع پر ایک سوشلسٹ ایکٹوسٹ تھا جو مذہبی قیادت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے خوابوں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھتا ہے۔ دوسرا باب اس کی بیوی ناہید نے سنایا ہے جو 1989 میں جرمنی میں جلاوطنی کی زندگی شروع ہونے کے بعد کا حال سناتی ہے۔ محفوظ زندگی اچھی ہے لیکن وطن کی یاد ستاتی ہے۔ تیسرا حصہ ان کی بیٹی لالہ کا ہے جو جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1999 میں ایران کا دورہ کرتی ہے۔ وہ شناختی بحران کا شکار ہے۔ چوتھا باب اس کے بھائی مو نے بیان کیا ہے جو جرمنی میں رہتے ہوئے 2009 میں ایران کی گرین موومنٹ کے بارے میں جانتا ہے اور اس سے اپنا جذباتی تعلق محسوس کرتا ہے۔

ادیب وہی لکھتا ہے جو اس پر گزرتی ہے۔ وہ اپنے تجربات کو فکشن کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ یہ ناول شیدا بازیار نے لکھا ہے جو ایرانی جرمن ہیں۔ یہ ناول انھوں نے جرمن زبان ہی میں لکھا ہے لیکن اس کا فارسی سمیت کئی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے اور کئی ادبی انعامات جیت چکا ہے۔ میں نے رتھ مارٹن کا انگریزی ترجمہ "دا نائٹس آر کوائٹ ان تہران" پڑھا تھا جو آج بکر انٹرنیشنل انعام کے لیے نامزد ہوا ہے۔

نوبیل اور پلٹزر انعام کے بعد سب سے زیادہ انتظار مجھے بکر انٹرنیشنل کے نامزد ناولوں کا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ کہ عالمی ادب کے تازہ اور بہترین فکشن کی نشاندہی ہوتی ہے۔ میں باقاعدگی سے نیویارک ٹائمز، نیویارک ریویو آف بکس اور نیویارکر میں کتابوں پر تبصرے دیکھتا ہوں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ نامزد ناولوں پر تبصرے ان میں چھپ چکے ہوتے ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ان اداروں میں ادب کے سچے پارکھ بیٹھے ہیں۔

بکر انٹرنیشنل کے لیے نامزد دیگر پانچ ناولوں میں میری این ڈیائے کا فرانسیسی ناول دا وچ، ڈینیئل کیلمین کا جرمن ناول دا ڈائریکٹر، یان شوانگ زی کا چینی ناول تائیوان ٹریولاگ، آنا پاولا مائیا کا پرتگیزی ناول آن ارتھ ایز اٹ از بینیتھ اور رینے کاراباش کا بلغارین ناول شی ہو ریمینز شامل ہیں۔

میری این ڈیائے پہلے بھی بکر انٹرنیشنل کے لیے نامزد کی جاچکی ہیں۔ اس ناول دا وچ کی کی مرکزی کردار لوسی ایک عام دکھائی دینے والی عورت ہے لیکن حقیقت میں وہ ایک چڑیل ہے۔ سادہ سی گھریلو زندگی میں وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہتی ہے لیکن اس کے اندر ایک غیر معمولی طاقت موجود ہے۔ کہانی میں اہم موڑ اس وقت آتا ہے جب لوسی کی بیٹیاں بھی چڑیل ہونے کی خصوصیات ظاہر کرنا شروع کرتی ہیں لیکن وہ اپنی ماں سے مختلف رویہ اختیار کرتی ہیں۔ وہ اپنی طاقت کو زیادہ اعتماد کے ساتھ قبول کرتی ہیں اور ان میں ایک طرح کی خودمختاری نظر آتی ہے جو لوسی میں نہیں ہے۔ یہ ناول کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوجاتا ہے۔ یہ درحقیقت کوئی جادوئی نہیں بلکہ علامتی کہانی ہے جس میں چڑیل وہ عورت ہے جو اپنی پہچان کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔

اگلا ناول جو میں پڑھنا چاہتا ہوں، وہ دا ڈائریکٹر ہے۔ یہ ایک بوڑھے فلم ڈائریکٹر کی کہانی ہے جس کی یادداشت متاثر ہوچکی ہے۔ اسے ایک ٹی وی پروگرام میں بلایا جاتا ہے جہاں وہ اپنے ماضی کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اس کی یادیں ٹوٹی پھوٹی واضح ہیں۔ وہ نازی دور میں جرمنی چھوڑ کر ہالی ووڈ چلا گیا تھا لیکن وہاں ایڈجسٹ نہیں ہوپاتا۔ واپس جرمنی آیا تو نازی حکومت کے آئی ایس پی آر نے اس سے فلمیں بنوائیں۔ وہ اس کام سے مطمئن نہیں لیکن کرنے پر مجبور تھا۔ انٹرویو کے دوران ایک پراسرار فلم کا ذکر آتا ہے، جس کے بارے میں وہ کبھی کہتا ہے کہ یہ بنی ہی نہیں اور کبھی اس کے مناظر یاد کرنے لگتا ہے۔ شاید یہ ناول سوال اٹھاتا ہے کہ تاریخ کے مشکل وقت میں فنکار کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے۔

شی ہو ریمینز میں البانیہ کے پہاڑی اور قبائلی معاشرے کی عکاسی کی گئی ہے۔ یہ ایسا ماحول ہے جو پاکستانی قارئین کو اپنا اپنا لگے گا کیونکہ وہاں لڑکی کی پیدائش کو ناپسند کیا جاتا ہے اور بیٹے کی خواہش غالب ہوتی ہے۔ مرکزی کردار ایک لڑکی ہے جو باپ کے قتل کے بعد حالات کے جبر پر مرد بننے پر مجبور ہوجاتی ہے۔

آن ارتھ ایز اٹ از بینیتھ ایک دور دراز کے قیدخانے کی کہانی ہے جہاں قیدی اور محافظ ایک جیسی بے بسی، تنہائی اور خوف کا شکار ہیں۔ ان کا باہر کی دنیا سے رابطہ منقطع ہوچکا ہے، فون لائنیں بند ہیں اور ایک سرکاری افسر کا انتظار کیا جا رہا ہے جو انھیں یہاں سے منتقل کرے گا۔ لیکن اس افسر کی آمد میں تاخیر ہوتی جارہی ہے اور غیر یقینی صورتحال بڑھتی جاتی ہے۔

تائیوان ٹریولاگ ایک جاپانی مصنفہ کی کہانی بیان کرتا ہے جو 1930 کی دہائی میں جاپان کے زیر تسلط تائیوان کا سفر کرتی ہے۔ بظاہر یہ سفری روداد ہے لیکن جلد ہی احساس ہوتا ہے کہ یہ ایسے سماج کی تصویر ہے جہاں جاپانی حکمران اور تائیوانی باشندے ایک غیر مساوی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے، جاپانی مصنفہ کو احساس ہوتا ہے کہ اس کا نقطہ نظر محدود ہے اور وہ تائیوان کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتی۔

بکر انٹرنیشنل انعام کے فاتح کا اعلان 19 مئی کو لندن میں کیا جائے گا۔ عالمی حالات کے پیش نظر شیدا بازیار کے ناول کو زیادہ توجہ حاصل رہے گی البتہ اگر پلاٹ اور کہانی کی بات کی جائے تو میرا ووٹ دا ڈائریکٹر کے لیے ہوگا۔

Check Also

Rafi Sahab

By Rauf Klasra