Sifarat Kari Bhi Networking Hai
سفارت کاری بھی نیٹ ورکنگ ہے

امریکا میں پروفیشنلز کے لیے نیٹ ورکنگ کے بہت مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ جاب فئیر، پروفیشنل ڈویلپمنٹ، سیمنار اور مختلف دوسرے ایونٹس میں اپنے جیسے پیشہ ور افراد، سینئر ایگزیکٹوز اور ہائیرنگ اتھارٹیز سے ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں۔ جانتے پہچانتے ہیں۔ راہ و رسم بڑھتی ہے۔ اپنے تجربات شئیر کیے جاتے ہیں۔ اعتماد قائم ہوتا ہے۔ پھر ایک دوسرے کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔
سفارت کاری بھی نیٹ ورکنگ ہوتی ہے۔ دو دشمن ملکوں کے سفارت کار ملتے ہیں تو پستول لے کر نہیں آتے۔ اس کا مقصد متعارف ہونا، راہ و رسم بڑھانا، اعتماد قائم کرنا ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کے خیالات سے آگاہی ہوتی ہے۔ کچھ وقت ساتھ گزارنے سے بے تکلفی پیدا ہوجاتی ہے۔ ایک ساتھ کھانے پینے سے قربت بڑھتی ہے۔
مذاکرات کبھی ناکام نہیں ہوتے۔ وہ ایک اور ملاقات کا بہانہ بنتے ہیں۔ ایک دوسرے کو سمجھنے کا ایک اور موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایسا موقع جس میں مسئلے کو حل کرنے کے طریقے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ مسئلہ ضروری نہیں کہ وہ ہو، جو عوام کے سامنے ہوتا ہے۔ بعض اوقات مسئلہ کچھ اور ہوتا ہے، جسے حل کرنے کے لیے حریفوں کا تعاون ضروری ہوجاتا ہے۔
ایران کا اصل مسئلہ ایٹمی پروگرام نہیں، سخت گیر پاسداران انقلاب ہیں۔ پاسداران نہ ہوتے تو عین ممکن تھا کہ امریکا خود ایران کو علاقائی طاقت بننے میں مدد دیتا۔ ممکن ہے کہ خود ایٹمی ری ایکٹر لگا دیتا۔
ایران میں دو طاقتیں ہیں، اصلاح پسند سیاسی لوگ جن کی طاقت پارلیمان ہے اور شدت پسند پاسداران جو سیاسی لوگوں کو کمزور رکھنا چاہتے ہیں۔
پاسداران کی گرفت کمزور ہوجائے یا اس ادارے کا خاتمہ ہوجائے تو ایران میں سیاسی لوگ آزاد ہوجائیں گے۔ وہ اپنے فیصلے خود کرسکیں گے۔ ملک میں اصلاحات لائی جاسکیں گی۔ مغرب سے بہتر تعلقات قائم ہوں گے۔ معیشت تیزی سے ترقی کرے گی۔ عوام کی زندگی ہزار گنا بہتر ہوجائے گی۔
آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ اسرائیل نے سیکڑوں ایرانی حکام کو قتل کیا لیکن اصلاح پسند سیاسی لوگوں کو نشانہ نہیں بنایا۔ صدر پر حملہ نہیں کیا۔ یہ ایک اشارہ ہے۔
پاکستان کی مدد سے ہونے والے مذاکرات میں امریکا کا فائدہ ہے تو ایرانی سیاست دانوں کے پاس بھی موقع ہے۔ میڈیا اور عوام کے سامنے ایٹمی پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملات رہیں گے لیکن پس پردہ اعتماد قائم ہونے کے بعد مسئلے کی جڑ پر بات ہوگی۔
مذاکرات تب کامیاب ہوتے ہیں جب دونوں فریقوں کو کچھ کامیابی ملے۔ نہ امریکا فوجی کارروائی سے پاسداران کو ختم کرسکتا ہے اور نہ ایرانی سیاست دان ان سے لڑ کے ملک چھین سکتے ہیں۔ لیکن دونوں مل کر حکمت عملی بنائیں تو کامیابی مل سکتی ہے۔ یہ امکان ون ون سچویشن بن سکتا ہے۔

