Tuesday, 14 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Siasi Hukumat Aur Pasdaran Mein Kashmakash

Siasi Hukumat Aur Pasdaran Mein Kashmakash

سیاسی حکومت اور پاسداران میں کشمکش

ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد کی پیشرفت کو صرف قیادت کی تبدیلی نہیں بلکہ پورے ایرانی نظام کی تشکیل نو کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کو اندرونی جانشینی، پاسداران انقلاب کے مستقبل اور خطے میں اپنے اثر و رسوخ کے سکڑنے جیسے بڑے چیلنجوں کا بیک وقت سامنا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کا جنازہ خود ایک بڑا سیاسی مظاہرہ تھا۔ المجلہ کے مطابق یہ صرف سوگ کی تقریب نہیں بلکہ اس بات کا اعلان تھا کہ ریاست اپنے سب سے طاقتور رہنما کے بغیر بھی قائم رہے گی۔ حکومت نے لاکھوں افراد کی شرکت، وسیع سکیورٹی انتظامات اور غیر ملکی وفود کی موجودگی کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ نظام میں کوئی خلا پیدا نہیں ہوا۔ لیکن اسی تقریب میں ایک بڑا سوال بھی پیدا ہوا کہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای خود منظر عام پر کیوں نہیں آئے؟

المجلہ کے تجزیہ نگاروں کے مطابق یہی غیر حاضری تقریب کا سب سے معنی خیز پہلو تھی۔ اگرچہ ریاست نے بیعت، تسلسل اور استحکام کا تاثر دیا، لیکن مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی نے یہ تاثر بھی پیدا کیا کہ اقتدار کی منتقلی مکمل طور پر ہموار نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ عہدہ تو فوراً منتقل ہوسکتا ہے، لیکن وہ شخصی اختیار اور سیاسی وزن منتقل نہیں ہوسکتا جو علی خامنہ ای نے چار دہائیوں میں حاصل کیا تھا۔

آیت اللہ خمینی نے انقلاب برپا کیا تھا، لیکن علی خامنہ ای نے اس انقلاب کو ایک "سکیورٹی اسٹیٹ" میں تبدیل کیا۔ ان کے دور میں سپریم لیڈر کا دفتر ایک متوازی حکومت کی شکل اختیار کر گیا۔ پاسداران انقلاب صرف فوجی تنظیم نہ رہے بلکہ سیاست، معیشت، انٹیلی جنس اور صنعت تک ہر شعبے میں ان کا اثر بڑھ گیا۔ گارڈین کونسل نے انتخابی عمل پر اپنی گرفت مضبوط کی، کئی انٹیلی جنس ادارے وجود میں آئے اور ریاستی طاقت زیادہ ادارہ جاتی شکل اختیار کرتی گئی۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق خامنہ ای کی اصل کامیابی نظریاتی نہیں بلکہ انتظامی تھی۔ وہ خمینی کی طرح کرشماتی مذہبی شخصیت نہیں تھے، اس لیے انھوں نے وفادار اداروں اور افراد کا ایسا جال تیار کیا جو ان کی ذاتی کمزوری کو ریاستی طاقت میں بدل دے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا ایرانی نظام ایک فرد سے زیادہ اداروں پر انحصار کرتا ہے، اگرچہ ان اداروں کی وفاداری اب بھی سپریم لیڈر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

یہ ادارہ جاتی طاقت اب اپنے اندر تضادات بھی پیدا کر رہی ہے۔ ایران کے اندر پہلی بار کھل کر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا ملک کو واقعی دو فوجوں کی ضرورت ہے؟ ایک طرف روایتی فوج ہے اور دوسری طرف پاسداران انقلاب، جو انقلاب کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تھی لیکن اب ایک سیاسی، فوجی اور معاشی طاقت بن چکی ہے۔ سرکاری اخبار جمہوری اسلامی میں اس موضوع پر بحث کو خود اس بات کی علامت قرار دیا گیا کہ ایرانی قیادت کے اندر بھی موجودہ ڈھانچے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

پاسداران انقلاب کی حیثیت اب صرف ایک تنظیم کی نہیں رہی بلکہ وہ "ریاست کے اندر ریاست" بن گئی ہے۔ اس کی تین شناختیں ہیں، نظریاتی محافظ، طاقتور فوجی قوت اور وسیع معاشی سلطنت۔ لیکن ان تین کرداروں کے درمیان کشمکش بھی پیدا ہورہی ہے۔ بعض حلقے فوج اور پاسداران کو ضم کرنے کی بات کررہے ہیں، جبکہ سخت گیر عناصر اسے انقلاب کے خاتمے کی سازش قرار دیتے ہیں۔ اگر انضمام ہوا تو قدس فورس اور بسیج جیسے اداروں کی موجودہ شکل برقرار رکھنا تقریباً ناممکن ہوگا، کیونکہ ان کی سرگرمیاں رسمی ریاستی فوج کے دائرے سے باہر رہی ہیں۔

ایران کے داخلی مسائل کے ساتھ اس کے علاقائی اثر و رسوخ میں بھی نمایاں تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ وہ "ایرانی ہلال" جسے قاسم سلیمانی نے بغداد، دمشق، بیروت اور صنعا تک پھیلایا تھا، اب پہلے جیسا مضبوط نہیں رہا۔ شام پہلے ہی ایران کے ہاتھ سے نکل چکا تھا، جبکہ حالیہ پیشرفت میں لبنان اور عراق دونوں نے ایسے فیصلے کیے ہیں جنھیں تہران کے لیے دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔

لبنان میں نئی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ ایک فریم ورک معاہدے کے تحت حزب اللہ کو مرحلہ وار غیر مسلح کرنے کا منصوبہ منظور کیا ہے۔ عراق میں نئی حکومت نے ایران نواز مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیاں شروع کی ہیں، درجنوں بااثر افراد کو گرفتار کیا ہے اور ریاست سے باہر موجود تمام مسلح تنظیموں کو ہتھیار ڈالنے کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ یہ تبدیلی کسی امریکی یا اسرائیلی حملے کے نتیجے میں نہیں بلکہ خود عراقی اور لبنانی ریاستوں کے فیصلوں سے آئی ہے، جو ایران کے علاقائی منصوبے کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

المجلہ کا ایک دلچسپ مشاہدہ یہ بھی ہے کہ علی خامنہ ای کے بعد ایرانی حکومت اپنی نظریاتی زبان تبدیل کرتی دکھائی دیتی ہے۔ پہلے انقلاب اسلامی اور عالمی مزاحمت کو مرکزی حیثیت حاصل تھی، لیکن اب سرکاری بیانیہ زیادہ تر قومی خودمختاری، بقا اور بیرونی طاقتوں کے مقابلے میں ایران کے استحکام پر زور دیتا ہے۔ یعنی انقلاب کی جگہ بتدریج قوم پرستی کو سیاسی جواز کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران فوری طور پر منہدم ہونے والا نہیں، کیونکہ علی خامنہ ای نے مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچہ چھوڑا ہے، لیکن وہ دور بھی ختم ہوگیا ہے جس میں ایک شخصیت پورے نظام کو اپنی اتھارٹی کے ذریعے متحد رکھ سکتی تھی۔ اب مجتبیٰ خامنہ ای کو نہ صرف اپنے والد کی سیاسی میراث سنبھالنی ہوگی بلکہ پاسداران انقلاب، ریاستی اداروں، معاشی بحران اور کمزور ہوتے علاقائی اتحادوں کے درمیان نیا توازن بھی پیدا کرنا ہوگا۔ اگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوئے تو ایران کے اندر طاقت کی نئی کشمکش اور خطے میں اس کے کردار میں مزید تبدیلیاں آنے کا امکان بڑھ جائے گا۔

Check Also

Maseeha Sirf Ilm Se Nahi, Ikhlaq Se Banta Hai

By Iqbal Bijar