Pakistan Aur Bharat Ki Agli Jang Ziada Khatarnak Hogi
پاکستان اور بھارت کی اگلی جنگ زیادہ خطرناک ہوگی

عالمی جریدے اور تھنک ٹینک خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کی اگلی جنگ پہلے سے زیادہ خطرناک ہوگی۔ دنوں ملک وار ٹیکنالوجی کو تیزی سے آپ گریڈ کررہے ہیں۔ حریفوں کے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد بھی کم از کم چھ بار جھڑپیں ہوچکی ہیں جس کا مطلب ہے کہ ایٹمی ہتھیار انھیں جنگ سے باز نہیں رکھ پائے۔
فارن افیئرز میگزین کے مطابق 2025 میں جنگ سے دونوں ممالک نے سیکھا ہے کہ وہ مستقبل میں زیادہ تیزی اور زیادہ طاقت سے حملہ کرسکتے ہیں۔ اسی مقصد سے بھارت نئے ڈرون، سیٹلائٹ اور دفاعی نظام بنارہا ہے۔ پاکستان اپنی فضائی اور میزائل صلاحیت کو چین اور ترکی کی مدد سے بڑھا رہا ہے۔
امریکی جریدے کے مطابق یہ سوچ نیو نارمل بن گئی ہے، جس میں بھارت زیادہ جارحانہ کارروائیوں کے لیے تیار نظر آتا ہے جبکہ پاکستان جواب میں بڑا خطرہ مول لینے کا اشارہ دیتا ہے۔ دونوں ممالک اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ روایتی جنگ کو زیادہ شدت سے لڑ سکتے ہیں۔
کارنیگی انڈوومنٹ فور انٹرنیشنل پیس کی رپورٹ ایک اہم پس منظر فراہم کرتی ہے۔ اس کے مطابق 1998 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد فل اسکیل جنگ نہیں ہوئی لیکن چھوٹے پیمانے کی جھڑپوں اور بحرانوں کا سلسلہ جاری رہا۔ 1999، 2001، 2008، 2016، 2019 اور 2025 جیسے بحران اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک ایٹمی سائے میں رہتے ہوئے بھی بار بار تصادم کی طرف جاتے ہیں۔ یعنی ایٹمی ہتھیاروں نے جنگ کو نہیں روکا بلکہ اس کی شکل بدل دی۔
کارنیگی رپورٹ کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیان بنیادی عدم توازن موجود ہے۔ بھارت ایٹمی حملے میں پہل نہ کرنے کی پالیسی رکھتا ہے لیکن وہ روایتی فوجی طاقت میں مضبوط ہے۔ پاکستان اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ایٹمی ہتھیاروں پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ پاکستان نے فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس کی پالیسی اپنائی ہے، جس میں چھوٹے، درمیانے اور بڑے، ہر سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کا امکان رکھا گیا ہے۔ یہ فرق آئندہ جنگ کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔
جدید جنگی ٹیکنالوجی، مثلاََ سائبر حملے، ڈرونز اور طویل فاصلے کے میزائل نئی پیچیدگیاں پیدا کررہے ہیں۔ ان نئی صلاحیتوں کی وجہ سے مس کیلکولیشن یعنی غلط فہمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی فوجی اڈے پر حملہ کیا جائے جو ایٹمی ہتھیاروں سے بھی متعلق ہو، تو حریف اسے ایٹمی حملے کی تیاری سمجھ سکتا ہے۔
ایک اہم نکتہ عالمی طاقتوں کا کردار ہے۔ فارن افیئرز کے مطابق ماضی میں امریکا نے اکثر ایسے بحرانوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا لیکن آئندہ یہ کام زیادہ مشکل ہوگا۔ اگر جنگ زیادہ تیز اور پیچیدہ ہو تو بیرونی طاقتوں کے پاس مداخلت کا وقت کم ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں جنگ کا خطرہ صرف اس لیے نہیں بڑھ رہا کہ دونوں ممالک دشمن ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ وہ اب خود کو زیادہ طاقتور سمجھتے ہیں۔ یہ خیال کہ جنگ کو قابو میں رکھا جاسکتا ہے، اصل میں سب سے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

