Thursday, 19 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Mujhe Zaroor Batayen

Mujhe Zaroor Batayen

مجھے ضرور بتائیں

میری کلاس میں ایسے بچے بھی ہیں جن کی مادری زبان انگریزی نہیں ہے۔ ان میں سے بیشتر ہسپانک ہوتے ہیں اور گھر میں اسپینش بولتے ہیں۔ بعضے چند دن یا چند ہفتے پہلے امریکا آئے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے ملکوں میں پاکستان کی طرح انگریزی اسکول کے نصاب میں شامل نہیں۔ وہ ایسے کورے ہوتے ہیں کہ انگریزی کا ایک لفظ نہیں جانتے۔

میں پہلے پوری کلاس کو لیکچر دیتا ہوں اور کونسیپٹس سمجھاتا ہوں۔ پھر ورک شیٹ دینے کے بعد ان بچوں کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کیونکہ اس سے پہلے وہ میری گفتگو سن تو رہے ہوتے ہیں لیکن انھیں سمجھ کچھ نہیں آیا ہوتا۔

سوشل میڈیا پر بھی یہی صورت دیکھنے کو ملتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ آپ کی زبان سمجھنے والے بھی آپ کی بات نہیں سمجھتے۔ خاص سانچے کے مذہبی یا نظریاتی ذہن، نصاب تعلیم، میڈیا پروپیگنڈے اور ذاتی تعصبات ایک ایسا فلٹر بن جاتے ہیں جس سے نکلنے والی ہر بات کو لوگ اپنے معنی دیتے ہیں، اصل معانی سمجھنے کے قابل نہیں رہتے۔ مجھے تقریباََ ہر روز اس کا تجربہ ہوتا ہے۔ شاید آپ کو بھی ہوتا ہو۔ پہلے مجھے ہر تحریر کے بعد وضاحتیں کرنی پڑتی تھیں۔ اب نہیں کرتا کیونکہ لوگ ہی سمجھتے ہیں جو وہ سمجھنا چاہتے ہیں۔ حقائق سے آگاہ ہونا، مخالف رائے کو سننا سمجھنا اور غیر جانب داری سے تجزیہ کرنا مشکل کام ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ ہر شخص ایسا نہیں کرسکتا۔

بہرحال یہاں ایک دو باتیں دوستوں سے کہنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ ہزار میں کوئی دو چار سمجھ جائیں۔

میں نے کل ایک اسرائیلی دوست کا موقف پیش کیا۔ میرا خیال تھا کہ اسرائیل جنگ کا فریق ہے تو لوگ وہاں کے حالات اور عوام کا موقف جاننا چاہتے ہوں گے۔ سوشل میڈیا کی فیک نیوز کے متاثرین نے میرے اس دوست کی گفتگو کو میرا موقف قرار دیا اور حسب عادت شروع ہوگئے۔ اس تحریر میں میرا موقف کہیں بھی نہیں۔ صرف سوالات میرے تھے۔

اس سے پہلے سوشل میڈیا پر ایپسٹین فائلز سے متعلق بے حساب فیک نیوز چل رہی تھیں۔ جب اصلی فائلز اور حقائق موجود ہوں تو فیک نیوز پھیلاکر آپ مجرم کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ اس لیے میں نے چند حقائق درست کرنا چاہے۔ اسے یاروں نے ایپسٹین کا دفاع سمجھ لیا۔ جب ایک جنسی مجرم کے سنگین جرائم عدالت میں ثابت ہوچکے ہیں تو میں آپ اس کا دفاع کیسے کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اب تک ایپسٹین اور اس کی ایک ساتھی کے سوا کسی کا معاملہ عدالت میں نہیں آیا۔ میں نے بس یہی نکتہ بیان کیا تھا۔

اس سے پہلے وینزویلا کے صدر کا قصہ ہوا۔ میں نے فقط یہ معلومات فراہم کی کہ امریکا کو مدورو سے کیا شکایات تھیں اور اس پر امریکی عدالت میں کئی سال پہلے باقاعدہ مقدمہ قائم ہوا اور چلا۔ اس کے تیل پر قبضہ نہیں، اصل مدعا یہ تھا۔ اس پر یہ فیصلہ سنایا گیا کہ صدر ٹرمپ نے خود تیل پر قبضے کی بات کی ہے اور میں بے وجہ ان کا دفاع کررہا ہوں۔ میں نے کسی کا دفاع نہیں کیا۔ یہ ذمے داری وائٹ ہاوس اور امریکی محکمہ خارجہ کی ہے۔ میں نے محض پس منظر بیان کیا تھا۔

آپ ٹوئیٹر پر میری ٹائم لائن دیکھیں گے تو بیک وقت ملحد، صہیونی، امریکی ایجنٹ، ڈالر کا پجاری، قادیانی، رافضی، مجوسی، پٹواری ہونے کے الزامات ملیں گے۔ میں پڑھتا ہوں اور ہنستا ہوں۔ میں ملحد یعنی ایتھئیسٹ نہیں ہوں، اگناسٹک ہوں۔ اگناسٹک تصور خدا پر شک کرتا ہے لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ اس تصور کو مسترد بھی نہیں کرتا۔ میں یہودیوں کا دوست ہیں کیونکہ یہودی بہت ذہین اور اچھے لوگ ہوتے ہیں، البتہ میں نے کبھی نیتن یاہو کی حمایت نہیں کی۔ بہت سے اسرائیلی بھی نہیں کرتے کیونکہ وہ ایک مائنوریٹی گورنمنٹ کے سربراہ ہیں۔

یہودیوں اور قادیانیوں کو سنیوں اور شیعوں کی طرح زندہ رہنے کا حق ہے اور میں ان کے اس حق کی حمایت کرتا ہوں۔ اگر اس طرح میں یہودی یا قادیانی بن جاتا ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ میں ہرگز مسلم لیگ ن کا حامی نہیں ہوں۔ پیپلز پارٹی کی صرف یہ بات پسند ہے کہ وہ اقلیتوں کو مواقع دیتی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماوں اور کارکنوں کی بدزبانی کی وجہ سے ان پر شدید تنقید کرتا ہوں۔ یہ میرے اپنے خیالات ہیں اور کسی کا ان سے اتفاق اختلاف کرنا ضروری نہیں ہے۔

جہاں تک امریکی ایجنٹ ہونے کا تعلق ہے، میں امریکا میں رہتا ہوں۔ یہاں امیگرنٹ ہوں۔ ملازمت چھوٹی تو کچھ عرصہ اوبر چلاکر گھر چلایا۔ لفافے لینے والے یا ایجنٹی کرنے والے اوبر چلانے پر مجبور نہیں ہوتے۔ میں نے محنت کرکے پچاس سال کی عمر میں یہاں ماسٹرز کیا، ٹیچنگ لائسنس لیا اور اب اسکول میں پڑھاتا ہوں۔ اس کی تنخواہ امریکی ڈالر ہی میں ملتی ہے۔ البتہ وہ سب پیسے خرچ ہوجاتے ہیں۔ اگر بے ایمانی کے بغیر اضافی ڈالر کمانے کی کوئی صورت آپ کے علم میں ہو تو مجھے ضرور بتائیں۔

Check Also

Mazhbi Jang (5)

By Javed Chaudhry