Meri Bayaz Aur Novel
میری بیاض اور ناول

بچپن میں ہمدرد نونہال میں حکیم محمد سعید کی نصیحت پڑھی تھی کہ بچوں کو اپنی بیاض بنانی چاہیے۔ کوئی کاپی الگ کرلیں اور جو بات پسند آئے، وہ اس میں لکھتے رہیں۔ مجھے یہ بات پسند آئی۔ ایک کاپی کے پہلے صفحے پر بیاض مبشر لکھا اور اس میں اقوال زریں، لطیفے، نظمیں نقل کرنے لگا۔ رفتہ رفتہ خود بھی لکھنا شروع کردیا۔
ایک دن وہ بیاض تصور بھائی نے دیکھ لی۔ تصور بھائی میرے ماموں زاد اور دو سال بڑے ہیں۔ خانیوال میں جو چند رشتے داروں کے گھر تھے، ان میں ایک وہی ہم عمر دوست تھے۔
ماموں نے 1983 میں کراچی شفٹ ہونے سے پہلے مکان فروخت کیا لیکن سالانہ امتحانات میں دو ماہ تھے اس لیے وہ اہلخانہ سمیت اماں کے گھر آگئے۔ ہم وہیں نانی اماں کے ساتھ رہتے تھے جو تصور بھائی کی دادی تھیں۔
تو ایک دن تصور بھائی نے میری بیاض دیکھ لی۔ چھٹی جماعت کے طالب علم کو چوتھی جماعت کے بچے کی بیاض میں کیا ملا ہوگا۔ انھوں نے مذاق اڑایا، تمھاری یہ کتاب کب چھپے گی؟
اس بیاض میں کچھ ایسا نہیں تھا کہ کتابی صورت میں چھاپا جاتا۔ لیکن بارہ سال بعد 1995 میں میری پہلی کتاب چھپ گئی۔
میں نے 1991 میں انٹرمیڈیٹ کیا تھا۔ جاسوسی ڈائجسٹ میں خط لکھتا تھا جن کی چند سطریں ہی چھپتیں۔ سرگزشت نیا نیا نکلا تو وہاں تفصیلی خط شائع ہوجاتے۔ میں نے ایک خط میں سرگزشت کے لیے لکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ ایڈیٹر انور فراز سے اس وقت تک پہلی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ فراز صاحب نے ڈائجسٹ ہی میں جواب دیا کہ ابھی آپ کم عمر ہیں۔ جب ذرا زندگی کے تجربات ہوجائیں تو پھر لکھنا۔ بعد میں سرگزشت میں میری تحریریں بھی چھپیں اور میں نے وہاں ملازمت بھی کی۔
بہت سال ہوگئے، انگریز ادیب والٹر بیسنٹ کا قول کہیں پڑھا تھا کہ ہر شخص کے پیٹ میں ایک ناول ہوتا ہے۔ میرے پیٹ میں کہانیاں ہمیشہ سے بہت تھیں لیکن ناول لکھنے کے لیے جو فرصت چاہیے، وہ کبھی نہیں ملی۔ مختصر کہانیاں ہی لکھتا رہا۔ ایلس منرو کی مثال سامنے رکھی جنھوں نے زندگی میں کوئی ناول نہیں لکھا، پھر بھی مین بکر اور نوبیل انعام تک جیتا۔
پندرہ سترہ سال پہلے ایک انوکھا خیال ملا جو کہانی میں پورا نہیں ہوسکتا تھا۔ ناول میں ڈھالنے کے لیے اس کا سائنپوسس لکھا۔ شروع کیا لیکن ادھورا چھوڑ دیا۔ خیال اس قدر پاورفل تھا کہ ہر کچھ عرصے بعد نکال کر پلاٹ کی نوک پلک سنوارتا رہا، تفصیلات شامل کرتا رہا لیکن زندگی کے گھن چکرنے مہلت نہ دی۔
اس دوران زندگی کے تجربات میں اضافہ ہوا، کئی قیمتی سفر کیے جو شاید اس کہانی کے لیے ضروری تھے اور ٹیکنالوجی نے بھی ترقی کی جس سے چند معمے حل ہوئے۔
آج دس دن کی اسپرنگ بریک کا پہلا دن تھا۔ لیپ ٹاپ ڈیٹا کی صفائی کے دوران وہ ناول پھر نکل کر آگیا۔ میں نظر چراتا رہا اور وہ منہ چڑاتا رہا۔ آخر اس سائنوپسس کو ایڈٹ کیا اور چیٹ جی پی ٹی سے پوچھا، اس خیال میں کتنا دم ہے۔ کیا مجھے اس پر وقت صرف کرنا چاہیے۔
چیٹ جی پی ٹی کے جواب سے اطمینان نہ ہوا۔ گوگل جیمنائے سے پوچھا۔ پھر کلاڈ سے دریافت کیا۔ مشورہ یہی ملا کہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہیے کیونکہ ایسا قصہ پہلے نہیں لکھا گیا۔ اگر پلاٹ پر نقشے کے مطابق عمارت تعمیر کرلی تو چند قاری اور تھوڑی سی داد ضرور مل جائے گی۔ خیر، قارئین کی فکر کسے ہے۔ وہ الحمداللہ پہلے ہی بہت ہیں۔ داد اور لعنتیں بھی وافر ملتی رہتی ہیں۔
پروجیکٹ منیجمنٹ کے اسباق یاد آئے اور سوچا کہ اس پروجیکٹ کو کیسے مکمل کیا جائے۔ اسٹیفن کنگ نے کہیں لکھا تھا کہ ناول کے پہلے ڈرافٹ کو ایک سیزن یعنی تین ماہ میں مکمل کرلینا چاہیے۔ اپریل مئی میں اسکول چل رہا ہوگا اس لیے رفتار سست ہوگی۔ جون جولائی میں چھٹیاں ہوں گی۔ کام مکمل کیا جاسکتا ہے۔ اگر تسلی ہوئی تو سیکنڈ ڈرافٹ اور ایڈیٹنگ کی فکر کریں گے۔ ورنہ ردی کی ٹوکری کو حاملہ کرنے پر کوئی خرچ نہیں آتا۔
نوٹ: یہ پوسٹ آپ کو مطلع کرنے کے لیے نہیں، خود کو موٹیویٹ کرنے کے لیے لکھی ہے۔

