Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Kya Iran Johri Program Se Dast Bardar Hoga?

Kya Iran Johri Program Se Dast Bardar Hoga?

کیا ایران جوہری پروگرام سے دستبردار ہوگا؟

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا منگل کو ایران پر نئے حملے کا ارادہ تھا لیکن اسے عرب ریاستوں کی درخواست پر موخر کردیا ہے کیونکہ سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔ امریکی اور ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان کے ذریعے نئی امن تجاویز کا تبادلہ ہوا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی جنگی تیاریاں بدستور جاری ہیں۔ تجزیہ کار سوالات اٹھارہے ہیں کہ کیا ایران پابندیوں کے خاتمے کی پیشکش پر جوہری پروگرام سے دستبردار ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے منگل کو حملے کا ارادہ ہونے اور اسے ملتوی کرنے کی خبر ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دی۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت نے درخواست کی کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے مزید کچھ وقت دیا جائے۔ صدر ٹرمپ نے بعد میں کہا کہ یہ وقفہ صرف دو یا تین دن کا ہوسکتا ہے اور امریکا کسی بھی وقت بڑے پیمانے کے حملے کے لیے تیار ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک بھی نئی جنگ سے خوف زدہ ہیں۔

ایران کی نیوز ایجنسی تسنیم نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ذرائع سے خبر دی کہ تہران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو نئی چودہ نکاتی تجاویز بھجوائی ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا اصل مقصد جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے، نہ کہ ایران کو اس کے جوہری حقوق سے محروم کرنا۔ یورینیم افزودگی این پی ٹی کے تحت ایران کا تسلیم شدہ حق ہے۔ ان معاملات پر فریقین میں بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔

اسرائیلی اخبار ہاریتز کے مطابق اسرائیل میں یہ تاثر مضبوط ہورہا ہے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ صرف ایک وقفہ آیا ہے۔ اسرائیلی حلقوں کو خدشہ ہے کہ ایران نے جنگ کے باوجود اپنی یورینئم افزودگی اور میزائل صلاحیتیں بحال کرنا شروع کردی ہیں۔ اسرائیل کے لیے مسئلہ صرف ایران کا جوہری پروگرام نہیں بلکہ خطے میں اس کا اثر و رسوخ بھی ہے۔ لبنان میں حزب اللہ، عراق اور شام میں اتحادی گروہ اور آبنائے ہرمز پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت اسرائیل اور امریکا دونوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

تسنیم نیوز کے مطابق امریکا نے پہلی بار مذاکرات کے دوران ایرانی تیل پر عائد بعض پابندیوں کو عارضی طور پر نرم کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بھی امریکا نے اشارہ دیا ہے کہ اگر ایران خطے میں اپنے اتحادی مسلح گروہوں کی حمایت محدود کرے تو ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں نرم کی جاسکتی ہیں۔ یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا کچھ حصہ بیرون ملک منتقل کردے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ صرف افزودہ یورینیم نہیں بلکہ ایران کی بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیت ہے۔ فارن افیئرز میگزین کے مطابق 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد سے ایران نے سینٹری فیوج ٹیکنالوجی میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔ اب ایران کے جدید سینٹری فیوج پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تیزی سے افزودگی کرسکتے ہیں۔ اگرچہ امریکا اور اسرائیل نے ایرانی تنصیبات کو نقصان پہنچایا لیکن ایران وہ سائنسی علم حاصل کرچکا ہے جسے بمباری سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ صدر ٹرمپ اگر واقعی 2015 سے بہتر معاہدہ چاہتے ہیں تو صرف افزودگی روکنا کافی نہیں ہوگا۔ نئے معاہدے میں ایران کے خفیہ جوہری ڈھانچے، سینٹری فیوج پیداوار اور ممکنہ ہتھیار سازی کی نگرانی کے لیے کہیں زیادہ سخت نظام درکار ہوگا۔

یہ تجزیہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران اب پہلے سے زیادہ طاقتور پوزیشن میں مذاکرات کررہا ہے۔ ایک طرف وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل تجارت پر اثرانداز ہوسکتا ہے، دوسری طرف اس نے برسوں میں ایسی ٹیکنالوجی حاصل کرلی ہے جس کی وجہ سے صرف فوجی حملوں کے ذریعے اس کے پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

Check Also

Maane Hamal Tareeqon Ke Istemal Mein Izafa, Wasail Ki Kami Aik Challenge

By Dua Abbas