Saturday, 25 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Johri Muahde Ke Liye Israel Ko Tasleem Karna Hoga

Johri Muahde Ke Liye Israel Ko Tasleem Karna Hoga

جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنا ہوگا

امریکا سعودی عرب جوہری معاہدہ طے ہونے کے صرف ایک دن بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسا اعلان کردیا جس نے پورے معاملے کو دوبارہ غیر یقینی بنادیا ہے۔ واشنگٹن اور ریاض نے بدھ کو جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، لیکن جمعرات کو صدر ٹرمپ نے اچانک اعلان کیا کہ یہ معاہدہ اسی صورت میں نافذ ہوگا جب سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے ابراہیم اکارڈز میں شامل ہوگا۔ اس نئی شرط نے نہ صرف سعودی عرب بلکہ امریکی کانگریس، اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے مبصرین کو بھی حیران کردیا ہے۔

یہ تبدیلی اس لیے غیر معمولی ہے کہ معاہدے کے اعلان کے وقت امریکی حکام نے اسرائیل سے تعلقات کو کسی شرط کے طور پر پیش نہیں کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بعد میں واضح کیا کہ اگر سعودی عرب ابراہیم اکارڈز میں شامل نہیں ہوتا تو "یہ معاہدہ ختم سمجھا جائے گا"۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ پہلے بھی سعودی قیادت کے ساتھ اس موضوع پر بات کرتے رہے ہیں، لیکن تحریری معاہدے میں اس شرط کا ذکر موجود نہیں تھا۔

صدر ٹرمپ کا یہ اعلان اس تنقید کا جواب سمجھا جارہا ہے جو گزشتہ روز معاہدے کے بعد کی گئی تھی۔ بعض ناقدین نے کہا تھا کہ امریکا نے سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی سمت بڑھنے کا راستہ دے دیا ہے، جبکہ کچھ مبصرین نے کہا کہ واشنگٹن نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے لیے اپنا سب سے اہم دباؤ خود ختم کردیا۔ اب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدہ صرف پرامن مقاصد کے لیے ہوگا، اس میں ہتھیاروں کے درجے کی افزودگی نہیں ہوگی اور اس کی منظوری بھی سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے سے مشروط ہوگی۔

مسئلہ یہ ہے کہ معاہدے کی تفصیلات ابھی تک عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔ مختلف ذرائع کے مطابق اس میں سعودی عرب کے ممکنہ یورینیم افزودگی پروگرام پر دو سالہ مشترکہ جائزہ شامل ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فوری طور پر افزودگی شروع نہیں ہوگی، لیکن مستقبل میں اس کا راستہ کھل سکتا ہے۔ یہی نکتہ اسرائیل اور امریکی عدم پھیلاؤ کے ماہرین کی سب سے بڑی تشویش تھا۔

اسرائیل سے متعلق سعودی عرب کا موقف کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ریاض کئی برس سے کہتا آرہا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس وقت تک تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف ایک واضح، ناقابل واپسی اور وقت کے تعین کے ساتھ پیشرفت نہ ہو۔ غزہ جنگ کے بعد سعودی عوام میں اسرائیل کے خلاف جذبات مزید سخت ہوئے ہیں، جس کے باعث سعودی حکومت کے لیے فوری طور پر اسرائیل سے تعلقات قائم کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ کی نئی شرط نے معاہدے کے سامنے بڑی رکاوٹ کھڑی کردی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزیر اعظم نیتن یاہونے کہا کہ اگر سعودی عرب ابراہیم اکارڈز میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے تاریخی پیشرفت ہوگی۔ اسرائیلی قیادت پہلے دن سے سعودی جوہری پروگرام پر تحفظات کا اظہار کررہی تھی، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اگر سعودی عرب کو افزودگی کی صلاحیت ملی تو مستقبل میں ترکی، مصر اور دوسرے ممالک بھی اسی قسم کی رعایت کا مطالبہ کریں گے، جس سے پورے خطے میں جوہری ٹیکنالوجی کی دوڑ شروع ہوسکتی ہے۔

ماضی میں جو بائیڈن انتظامیہ نے بھی سعودی عرب کے ساتھ جوہری تعاون پر بات چیت کی تھی، لیکن اس نے ابتدا ہی سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بنیادی شرط بنایا تھا۔ گزشتہ روز ایسا لگا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس شرط کے بغیر معاہدہ کیا، لیکن صرف ایک دن بعد دوبارہ وہی شرط عائد کردی۔ اس تبدیلی نے یہ سوال پیدا کیا ہے کہ کیا امریکا نے معاہدے کے بعد شرائط تبدیل کی ہیں، یا ابھی معاہدے کی حتمی شکل طے ہونا باقی ہے۔

اس معاہدے کا قانونی پہلو بھی اہم ہے۔ امریکی قانون کے تحت اب یہ معاہدہ کانگریس میں جائے گا، جہاں ارکان کو اس کا جائزہ لینے کے لیے نوے اجلاسوں کا وقت ملے گا۔ اگرچہ کانگریس اسے مسترد کرنے کی کوشش کرسکتی ہے، لیکن صدر کے ویٹو کو ختم کرنے کے لیے غیر معمولی اکثریت درکار ہوگی۔ اس لیے سیاسی طور پر سب سے بڑی رکاوٹ اب شاید کانگریس نہیں بلکہ سعودی عرب کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت وہ فلسطینی ریاست کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل اور امریکی ری پبلکن حلقوں میں اس معاہدے پر شدید اعتراضات سامنے آنے کے بعد وائٹ ہاؤس نے یہ نئی شرط شامل کرکے مخالفین کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی اپنی پہلی مدت کے سب سے نمایاں سفارتی منصوبے، یعنی ابراہیم اکارڈز کو وسعت دینا چاہتے ہیں اور سعودی عرب کو اس میں شامل کرنا ان کی بڑی کامیابی ہوگی۔

اگر سعودی عرب اپنے سابقہ مؤقف پر قائم رہا تو امکان یہی ہے کہ جوہری معاہدہ ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوجائے گا۔ اس صورت میں امریکا کے لیے یہ خدشہ ہوگا کہ سعودی عرب جوہری تعاون کے لیے چین یا کسی اور ملک کی طرف دیکھے۔ ایسی صورت میں مشرق وسطیٰ کی سیاست مزید پیچیدگیوں کی شکار ہوسکتی ہے۔

Check Also

Balochistan: Pehle Kari Zarb, Phir Muzakrat

By Amir Khakwani