Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Iran Mang Bohat Kuch Raha Hai, Dene Ko Kuch Tayyar Nahi

Iran Mang Bohat Kuch Raha Hai, Dene Ko Kuch Tayyar Nahi

ایران مانگ بہت کچھ رہا ہے، دینے کو کچھ تیار نہیں

پاکستان کی کوششوں سے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ میں سیزفائر ہوگیا لیکن مذاکرات میں تعطل برقرار ہے۔ مستقل جنگ بندی کے لیے ایران نے 14 نکات پیش کیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران مانگ بہت کچھ رہا ہے لیکن دینے کو کچھ تیار نہیں۔ اس نے بہت سی رعایتیں طلب کی ہیں لیکن اپنی اسٹریٹیجک طاقت اور جوہری پروگرام پر سمجھوتا کرنے کو راضی نہیں ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے 14 نکات کو مسترد کردیا ہے۔

ایران کے 14 نکاتی منصوبے کی رپورٹ الجزیرہ نے دی جسے بظاہر جنگ کے خاتمے کی سنجیدہ کوشش کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان نکات میں جنگ کے مکمل اور مستقل خاتمہ، ایران کے خلاف تمام فوجی کارروائیوں کے فوری خاتمے، امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے آئندہ حملہ نہ کرنے کی ضمانت، ایران کے اطراف امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے یا نمایاں کمی، ایران پر عائد تمام اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی، جنگ سے ہونے والے نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی، آبنائے ہرمز کے لیے نیا سکیورٹی اور نیویگیشن نظام، عالمی تجارت کے لیے محفوظ بحری راستوں کی ضمانت، لبنان سمیت خطے کے تمام محاذوں پر کشیدگی کے خاتمہ، خطے میں کشیدگی میں کمی، ایران کے جوہری پروگرام، خصوصاً یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے اور ایران کی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور تمام معاملات کو ایک محدود مدت، یعنی تیس روز میں حل کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔

اسرائیلی ریڈیو کین نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایرانی مطالبات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ اس سے پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی نئی تجاویز پر شکوک کا اظہار کیا تھا۔ ایران نے ابھی تک اپنی پالیسیوں کی کافی قیمت ادا نہیں کی۔ یہ بیان اسی بات کی طرف اشارہ تھا کہ واشنگٹن ایران سے زیادہ ٹھوس اور یکطرفہ رعایتوں کی توقع رکھتا ہے۔

پولیٹیکو کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان پیغام رسانی جاری ہے اور ایک نازک جنگ بندی بھی برقرار ہے لیکن اعتماد کی شدید کمی مذاکرات کو آگے بڑھنے نہیں دیتی۔ ایران کو خدشہ ہے کہ امریکا کسی بھی معاہدے کی مکمل پابندی نہیں کرے گا۔ امریکا کا خیال ہے کہ ایران کو رعایتیں ملیں تو وہ اپنی جوہری صلاحیت بڑھاتا رہے گا۔

بعض تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ ایران کمزور معیشت کے باوجود زیادہ سے زیادہ رعایتیں حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ اپنی اسٹریٹیجک طاقت، خاص طور پر جوہری پروگرام کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ دوسرا زاویہ یہ ہے کہ ایران اسے بقا کا مسئلہ سمجھتا ہے۔ الجزیرہ کے تجزیے کے مطابق ایران کے لیے اس کا جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ محض طاقت نہیں بلکہ تحفظ کا ذریعہ ہیں، اسی لیے وہ انھیں آسانی سے چھوڑنے کو تیار نہیں۔

پولیٹیکو کے مطابق ٹرمپ کے شکوک اور ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے اس بات کی علامت ہیں کہ واشنگٹن ایرانی تجاویز کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اگر یہ بداعتمادی اور تعطل برقرار رکھا تو ایک معمولی چنگاری جنگ کو دوبارہ بھڑکا سکتی ہے۔

Check Also

Dehshat Gardon Ki Muzammat Ghair Mashroot Karen

By Amir Khakwani