Saturday, 16 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Iran Aur America Muzakrat Kyun Nahi Kar Rahe?

Iran Aur America Muzakrat Kyun Nahi Kar Rahe?

ایران اور امریکا مذاکرات کیوں نہیں کررہے؟

ساری دنیا اس وقت آبنائے ہرمز کی بندش سے شدید پریشان ہے کیونکہ اس کی وجہ سے نہ صرف تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں بلکہ خوراک کے بحران کا بھی اندیشہ جنم لے رہا ہے۔ ایشیا سے یورپ اور افریقا سے لاطینی امریکا تک حکومتیں، توانائی کمپنیاں اور مالیاتی ادارے خوفزدہ ہیں کہ یہ بحران مزید طویل ہوا تو ایندھن، سفر اور عالمی تجارت سب متاثر ہوں گے۔ لیکن ایران اور امریکا کسی جلدی میں نظر نہیں آتے۔ کمزور سی سیزفائر ضرور برقرار ہے لیکن دونوں طرف سے سخت بیانات بھی آرہے ہیں اور مذاکراتی عمل کو جان بوجھ کر سست رفتاری سے آگے بڑھایا جارہا ہے۔

بلوم برگ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا نے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر بات چیت مؤخر کردی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسے "بہت پیچیدہ" مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ بعد کے مرحلے میں زیر بحث آئے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے واپسی کے سفر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا "صحیح وقت" پر ایران کا یورینیم ہٹانے کے لیے فوج بھیجنے پر تیار ہوسکتا ہے۔ ان بیانات پر تجزیہ کار حیران ہیں کہ عالمی معیشت آبنائے ہرمز کی بندش سے لرز رہی ہے لیکن دونوں فریق بات شروع نہیں کررہے۔

صدر ٹرمپ کی بیجنگ میں چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات ہوئی تو اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہیے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلنا چاہیے۔ صدر شی نے پیشکش کی کہ وہ اس معاملے میں تعاون کے لیے تیار ہیں لیکن یہ وضاحت سامنے نہیں آئی کہ وہ کب اور کیسے اس مسئلے کے حل میں کردار ادا کریں گے۔

آبنائے ہرمز کی بندش صرف ایک بحری راستے کا بحران نہیں بلکہ طاقت، دباؤ اور سیاسی وقار کی جنگ بھی ہے۔ ایران یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ وہ امریکی دباؤ کے سامنے جھک گیا ہے، جبکہ امریکا بھی فوری رعایت دے کر کمزور دکھائی نہیں دینا چاہتا۔ اسی لیے دونوں فریق ایک دوسرے پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

مغربی تھنک ٹینکس اور توانائی کپ ماہرین بار بار نشاندہی کررہے ہیں کہ آبنائے ہرمز ایرانی معیشت کے لیے بھی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایران کی تیل برآمدات اور چین کے ساتھ اس کے معاشی تعلقات بھی اسی راستے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایران چینی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے چکا ہے۔ اگر وہ واقعی مکمل معاشی محاصرہ یا مستقل بندش چاہتا تو اپنے سب سے بڑے خریدار کے لیے استثنا نہ دیتا۔

دوسری طرف امریکا نے بھی فوری تصفیے کے بجائے دباؤ کی حکمت عملی اختیار کی ہوئی ہے۔ بلوم برگ کے مطابق امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکا کے ذریعے 72 تجارتی جہازوں کی آمدورفت روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ معاشی اور فوجی دباؤ ایران کو آخرکار زیادہ جھکنے پر مجبور کردے گا۔

تہران ٹائمز نے اس بارے میں ایرانی مؤقف شائع کیا ہے۔ اس کے مطابق مغربی دنیا ایران کی کمزوری کا اندازہ غلط لگا رہی ہے۔ اس رپورٹ میں ایرانی ماہر میثم جعفرزاده کے حوالے سے کہا گیا کہ ایران دنیا کے مشکل ترین سرمایہ کاری ماحول میں بھی اپنی توانائی صنعت کو چلانے میں کامیاب رہا ہے، حالانکہ اسے مالیاتی پابندیوں، تکنیکی رکاوٹوں اور خطے میں کشیدگی کا سامنا ہے۔ ایران سمجھتا ہے کہ جو ممالک توانائی کی پیداوار اور نقل و حمل پر کنٹرول رکھ سکتے ہیں، مستقبل میں وہی عالمی معیشت میں زیادہ اہمیت کے حامل ہوں گے۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی کی رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کجہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت کو ثابت کیا ہے اور یہ چیز عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے سب سے بڑا خوف بن گئی ہے۔ ایران نے جہازوں کو ہراساں کرنے، ڈرون حملوں اور علاقائی توانائی تنصیبات کو نشانہ بناکر واضح کیا ہے کہ وہ خطرات بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

بروکنگز کے مطابق اس بحران کا سب سے بڑا اثر ابھی پوری طرح سامنے نہیں آیا۔ تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھی ہیں لیکن دنیا اب بھی ان ذخائر اور جہازوں پر انحصار کررہی ہے جو جنگ شروع ہونے سے پہلے روانہ ہوچکے تھے۔ جب یہ عارضی سہارا ختم ہوگا تو دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوگی جس کی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ ایشیا پہلے ہی شدید دباؤ میں ہے جبکہ یورپ کو بھی توانائی بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔ کھادوں کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کے باعث خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔

Check Also

Desi Bande Wastay Desi Commode Zaroori Aye

By Syed Mehdi Bukhari