Iran America Jang Kuch Aham Mazameen
ایران امریکہ جنگ کچھ اہم مضامین

ایران جنگ میں سیزفائر پر عالمی ذرائع ابلاغ نے پاکستان کے کردار پر خصوصی مضامین شائع کیے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل، فائننشل ٹائمز، فارن پالیسی میگزین اور نیویارکر، چاروں پے وال کے پیچھے رہتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ ان کے مضامین کے اہم نکات کو دوستوں کو پیش کیا جائے۔
فائننشل ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے خود پاکستان کو ایران کے ساتھ عارضی سیزفائر کروانے کے لیے استعمال کیا۔ امریکی حکام نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرے کیونکہ مسلم اکثریتی پڑوسی ملک کے طور پر اس کا پیغام زیادہ قابل قبول ہوسکتا ہے۔ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کیا، مختلف تجاویز پیش کیں اور اسلام آباد کو مذاکرات کی جگہ کے طور پر پیش کیا۔ ان کوششوں کے نتیجے میں سیزفائر ممکن ہوا حالانکہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات برقرار تھے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے کہا ہے کہ اسلام آباد نے واشنگٹن، بیجنگ، تہران اور ریاض کے ساتھ تعلقات استعمال کرتے ہوئے ایک بڑے تنازع کو وقتی طور پر روکنے میں مدد دی۔ اس میں آرمی چیف عاصم منیر کا کردار اہم رہا جو ملک کے "حقیقی طاقتور رہنما" ہیں۔ ان کے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات اس سفارتی کامیابی کی بنیاد ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے سفارتی سطح پر کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس کی معیشت کمزور ہے اور خطے میں کشیدگی اسے مزید مشکلات میں ڈال سکتی ہے۔ اس مضمون میں یہ دلچسپ نکتہ بھی شامل ہے کہ اس عمل نے پاکستان کی فوجی قیادت کو مضبوط کیا ہے اور عمران خان کی سیاسی حیثیت مزید کمزور ہوگئی ہے۔
فارن پالیسی میگزین نے کہا ہے کہ پاکستان نے ابتدا سے آخر تک فعال سفارتی کوششیں کیں اور مذاکرات کو ممکن بنانے میں قیادت کی۔ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات اور عالمی سطح پر محدود اثرورسوخ کو دیکھتے ہوئے اسے غیر جانبدار ثالث نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن امریکا، ایران، چین اور خلیجی ریاستوں سے بیک وقت تعلقات اسے منفرد پوزیشن دیتے ہیں۔ پاکستان کے اس کردار کے پیچھے مضبوط وجوہات موجود ہیں، جن میں ایران کے ساتھ سرحد، توانائی پر انحصار اور خطے میں کشیدگی کے براہ راست اثرات سے متاثر ہونا شامل ہیں۔ مزید یہ کہ ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے اسے چین کی مدد بھی حاصل رہی۔
نیویارکرکے مضمون میں پاکستان کو امریکا اور ایران کے درمیان سیزفائر مذاکرات میں غیر متوقع ثالث قرار دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں آرمی چیف عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان قریبی تعلق کام آیا۔ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو عالمی امن ساز کہا تھا جس سے دونوں کے تعلقات مضبوط ہوئے۔ ایران کے ساتھ سرحد اور ملک میں شیعہ آبادی کی موجودگی اسے اس تنازع میں متوازن کردار ادا کرنے کی طرف لے گئی۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات، معاشی دباو اور توانائی پر انحصار بھی اس حکمت عملی کا سبب بنے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ فوجی قیادت اندرون ملک طاقت مضبوط کرتے ہوئے خارجہ پالیسی کو کنٹرول کر رہی ہے اور افغانستان و طالبان کے ساتھ تعلقات میں تبدیلیاں بھی اسی پس منظر کا حصہ ہیں۔

