Wednesday, 20 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. China Naraz, Akhir Kyun?

China Naraz, Akhir Kyun?

چین ناراض، آخر کیوں؟

شام کی خانہ جنگی ابتدا میں مقامی بغاوت تھی، لیکن چند ہی برسوں میں یہ دنیا کی سب سے بڑی پروکسی جنگ بن گئی۔ اس جنگ میں صرف شامی حکومت اور باغی آمنے سامنے نہیں تھے بلکہ ایران، خلیجی ممالک، ترکی، روس، امریکا، کرد فورسز، جہادی تنظیمیں، اویغور جنگجو، لبنانی حزب اللہ، افغان اور پاکستانی شیعہ ملیشیائیں، سب کسی نہ کسی شکل میں شامل ہوگئے۔ یوں شام ایک ایسا میدان بن گیا جہاں عالمی اور علاقائی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے لڑ رہی تھیں۔

عرب بہار کے اثرات 2011 میں شام پہنچے تو ابتدا میں مظاہروں کا مقصد صرف بشار الاسد کی حکومت سے سیاسی اصلاحات کا مطالبہ تھا۔ لیکن حکومت کے سخت کریک ڈاؤن نے حالات کو خانہ جنگی میں بدل دیا۔ جلد مختلف ممالک نے اس جنگ کو اپنے اپنے زاویے سے دیکھنا شروع کردیا۔ ایران نے اسے مزاحمتی محور کے دفاع کی جنگ قرار دیا۔ ترکی، قطر اور بعض خلیجی حلقے اسے سنی بغاوت سمجھ رہے تھے۔ امریکا اور یورپ کی نظر میں اسد حکومت آمرانہ تھی جسے کمزور کرنا ضروری تھا۔ روس نے اسے مشرق وسطیٰ میں اپنے اثرورسوخ کے تحفظ کا مسئلہ سمجھا۔

ایران اس جنگ میں سب سے پہلے اور سب سے گہرائی سے شامل ہونے والی طاقتوں میں تھا۔ اس کے لیے شام صرف اتحادی ملک نہیں بلکہ لبنان میں حزب اللہ تک رسائی کا پل تھا۔ ایران نے اسے نہ صرف مالی اور عسکری مدد فراہم کی بلکہ مختلف شیعہ ملیشیاؤں کو بھی شام بھیجا۔ لبنان کی حزب اللہ، عراق کی کتائب حزب اللہ اور عصائب اہل الحق، افغانستان کے شیعہ جنگجوؤں پر مشتمل فاطمیون بریگیڈ اور پاکستانی شیعہ رضاکاروں پر مشتمل زینبیون بریگیڈ، سب اسد حکومت کے دفاع میں لڑتے رہے۔ ایران کے لیے یہ جنگ اس کے علاقائی اثرورسوخ کو برقرار رکھنے کی جنگ تھی۔

روس نے 2015 میں براہ راست فوجی مداخلت کی۔ روسی فضائیہ نے باغی علاقوں پر شدید بمباری کی جس سے اسد حکومت کو دوبارہ طاقت ملی۔ روس نے شام میں اپنی فوجی موجودگی کو مشرق وسطیٰ میں واپسی کے موقع کے طور پر دیکھا۔ روسی مداخلت کے بعد جنگ کا توازن بدل گیا اور باغیوں کو مسلسل پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔

اس جنگ کا سب سے پیچیدہ پہلو مختلف غیرملکی جنگجوؤں اور جہادی گروہوں کی موجودگی تھی۔ القاعدہ سے جڑا النصرہ فرنٹ، بعد میں ہیئت تحریر الشام، داعش، چیچن جنگجو، وسط ایشیائی عسکریت پسند اور اویغور جنگجو، سب شام پہنچنے لگے۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب شام صرف شامیوں کی جنگ نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی جہادی مرکز بن گیا۔

اویغور جنگجوؤں کی شام میں موجودگی نے چین کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا۔ این پی آر کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں اویغور جنگجو ترکستان اسلامک پارٹی کی طرف سے شام پہنچے اور انھوں نے شمالی شام میں ہیئت تحریر اور دوسرے سنی باغی گروہوں کے ساتھ مل کر جنگ لڑی۔

یہ اویغور جنگجو ابتدا میں صرف عسکری تربیت حاصل کرنے آئے تھے، لیکن بعد میں مکمل طور پر جنگ میں شامل ہوگئے۔ انھوں نے ادلب اور جسر الشغور جیسے علاقوں میں مضبوط ٹھکانے قائم کیے اور بشار الاسد کی فوج کے خلاف اہم لڑائیوں میں حصہ لیا۔

این پی آر کے مطابق بعض اویغور جنگجو احرار الشام اور بعد میں ترکستان اسلامک پارٹی کے ساتھ منسلک ہوگئے، جبکہ چند عناصر داعش میں بھی شامل ہوئے۔ اس طرح شام میں نظریاتی، نسلی اور جغرافیائی بنیادوں پر مختلف پروکسی نیٹ ورک ایک دوسرے میں مدغم ہوتے چلے گئے تھے۔

امریکا ابتدا میں "اعتدال پسند" باغیوں کی حمایت کرنا چاہتا تھا، لیکن داعش کے ابھرنے کے بعد اس کی ترجیح داعش کے خلاف جنگ بن گئی۔ امریکا نے کرد فورسز کی حمایت شروع کردی۔ اس پر ترکی امریکا سے ناراض ہوگیا۔ یوں نیٹو کے دو اتحادی، امریکا اور ترکی، شام میں مختلف گروہوں کی حمایت کررہے تھے۔

ترکی نے بھی اپنے حمایت یافتہ باغی گروہ تیار کیے۔ اس کا مقصد صرف اسد حکومت کو کمزور کرنا نہیں بلکہ کرد فورسز کو سرحد کے قریب مضبوط ہونے سے روکنا تھا۔ ترکی کی سرپرستی میں مختلف سنی ملیشیائیں شمالی شام میں سرگرم رہیں۔ اس دوران خلیجی ممالک سے نجی فنڈنگ بھی کئی اسلام پسند گروہوں تک پہنچتی رہی۔

یوں شام میں ایک طرف ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیائیں تھیں، دوسری طرف ترکی اور بعض عرب حلقوں کے حمایت یافتہ سنی باغی، تیسری طرف امریکا کی حمایت یافتہ کرد فورسز، جبکہ روس اور ایران براہ راست اسد حکومت کے ساتھ کھڑے تھے۔ ان کے علاوہ داعش اور القاعدہ جیسے گروہ اپنی الگ جنگ لڑ رہے تھے۔ شام دنیا کی ان چند جنگوں میں شامل ہوگیا جہاں تقریباً ہر بڑی طاقت کسی نہ کسی شکل میں موجود تھی۔

اس جنگ نے یہ بھی دکھایا کہ جدید دنیا میں پروکسی جنگ کس طرح کام کرتی ہے۔ بڑی طاقتیں براہ راست ایک دوسرے سے نہیں لڑتیں بلکہ مقامی گروہوں، ملیشیاؤں اور نظریاتی تنظیموں کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرتی ہیں۔ شام میں یہی ہوا۔ شامی عوام کی بغاوت آہستہ آہستہ عالمی طاقتوں کے تصادم میں دب گئی اور ملک مختلف بیرونی قوتوں کے تجربہ گاہ میں تبدیل ہوگیا۔

بشار حکومت کے خاتمے کے بعد ابو محمد الجولانی ہیئت تحریر الشام اب نئی شامی حکومت کا اصل مرکز ہے۔ اس نے بعد میں کئی مسلح دھڑوں کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا اعلان کیا۔ ترکستان اسلامک پارٹی اور اویغور جنگجو شام میں موجود ہیں۔ نئی حکومت نے ان کے ہزاروں جنگجوؤں کو نئی شامی فوج میں شامل کرنا شروع کردیا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ساڑھے تین ہزار اویغور جنگجو نئے فوجی یونٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔ چین اس پر شدید ناراض ہے اور دمشق پر دباؤ ڈال رہا ہے۔

ترکی کی حمایت یافتہ سنی گروپس میں سے کچھ نئی ریاستی فوج میں شامل ہوگئے ہیں لیکن کئی گروہ اب بھی ترکی کے اثر میں ہیں۔ کرد فورسز بھی نئی حکومت میں ضم نہیں ہوئیں۔ شمال مشرقی شام میں اب بھی ان کا الگ کنٹرول موجود ہے اور امریکا ان کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ مسئلہ اب بھی ترکی اور دمشق کے درمیان تناؤ کا سبب ہے۔

ازبک، چیچن اور وسط ایشیائی جنگجووں کے کئی گروہ بھی واپس نہیں گئے۔ بعض کو نئی شامی فوج میں ضم کیا جا رہا ہے۔ لیکن کچھ سخت گیر عناصر اس انضمام سے ناخوش ہیں اور نئی حکومت کو جہاد سے انحراف قرار دے رہے ہیں۔ داعش کے خفیہ سیل بھی موجود ہیں جو شام اور عراق میں حملے کرتے رہتے ہیں۔ نئی شامی حکومت، کرد فورسز، امریکا سب داعش کو خطرہ سمجھتے ہیں۔

اسد حکومت گرنے سے ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائیں حزب اللہ، فاطمیون، زینبیون سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔ ایران کا زمینی نیٹ ورک شدید کمزور ہونے پر حزب اللہ اور کئی عراقی و افغان شیعہ ملیشیائیں شام سے واپس چلی گئیں یا سرحدی علاقوں تک محدود ہوگئیں۔

Check Also

Main Property Dealer Hoon

By Muhammad Idrees Abbasi