Arab Amarat Se Bari Tadad Mein Pakistanion Ki Be Dakhali
عرب امارات سے بڑی تعداد میں پاکستانیوں کی بے دخلی

متحدہ عرب امارات سے بڑی تعداد میں پاکستانیوں کی بے دخلی نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سعودی عرب سے قربت اور امریکا ایران ثالثی کی کوششوں پر عرب امارات ناراض ہے جس کے سعودی عرب اور ایران، دونں سے تعلقات بگڑے ہوئے ہیں۔ نیویارک ٹائمز اور نیولائنز میگزین نے اپنی تازہ رپورٹس میں بیان کیا ہے کہ امارات سے خاص طور پر پاکستانی شیعوں کو گرفتار کرکے ملک بدر کیا جارہا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق اس نے بیس سے زیادہ پاکستانی شیعہ کارکنوں سے بات کی۔ انھوں نے کہا کہ انھیں حالیہ ہفتوں میں اچانک گرفتار کرکے ملک بدر کردیا گیا۔ بعض کاروباری افراد نے بتایا کہ ان کے پاکستانی ملازمین کے ویزے منسوخ کیے گئے یا ان کی تجدید روک دی گئی۔
نیو لائنز میگزین کی رپورٹ میں کئی پاکستانی خاندانوں کی کہانیاں بیان کی گئی ہیں جن کے افراد دبئی اور دوسرے اماراتی شہروں میں برسوں سے ملازمت کررہے تھے۔ انھیں اچانک گرفتار کرکے مختلف حراستی مراکز میں منتقل کیا گیا۔ ایک پاکستانی خاتون نے بتایا کہ ان کے شوہر دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ملازم تھے۔ انھیں اپریل میں اچانک ان کے دفتر سے گرفتار کیا گیا۔ نہ کوئی واضح الزام بتایا گیا اور نہ ہی باقاعدہ مقدمہ چلایا گیا۔ چند دن بعد انھیں پاکستان بھیج دیا گیا۔
متعدد دوسرے پاکستانیوں نے بھی دعویٰ کیا کہ انھیں سی آئی ڈی اہل کاروں نے اچانک حراست میں لیا، موبائل فون اور شناختی کارڈ ضبط کیے اور کئی دن مختلف مراکز میں رکھا گیا۔ بعض افراد کے مطابق انھیں الاویر حراستی مرکز بھیجا گیا، جو ملک بدری سے پہلے آخری مقام سمجھا جاتا ہے۔ کئی افراد نے بتایا کہ ان سے مذہبی شناخت کے بارے میں سوالات کیے گئے کہ وہ شیعہ ہیں یا سنی۔
ان رپورٹس کے مطابق اس صورتحال کا تعلق ایران جنگ کے دوران پاکستان کی سفارتی پوزیشن سے ہے۔ امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کے تجزیہ کار مائیکل کوگلمین نے کہا کہ امارات پاکستان کے سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ تعلقات سے ناخوش ہے۔
پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کی کوشش کی۔ امارات اس بات پر ناخوش دکھائی دیا کہ پاکستان نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار نہیں کیا۔ اس نے پاکستان سے اپنا ساڑھے تین ارب ڈالر کا قرض اچانک واپس مانگا، جو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کا بڑا حصہ تھا۔ بعد میں سعودی عرب نے پاکستان کو تین ارب ڈالر کی مدد فراہم کرکے مشکل سے نکلنے میں مدد کی۔
نیو لائنز میگزین کے مطابق متحدہ عرب امارات نے حالیہ مہینوں میں اندرونی سلامتی کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے ایسے "ایران نواز نیٹ ورکس" کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا جنھیں ریاست کے لیے خطرہ سمجھا جارہا تھا۔ اس تناظر میں بعض پاکستانی شیعہ کارکنوں کو شک کی نظر سے دیکھا گیا۔
پاکستانی شیعہ رہنما امین شہیدی نے دعویٰ کیا کہ امارات کے اقدامات سے ہزاروں پاکستانی شیعہ خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ بعض لوگوں کو صرف تن کے کپڑوں میں واپس بھیج دیا گیا جبکہ ان کے بینک اکاؤنٹس اور بچتیں امارات میں ہی رہ گئیں۔ ان کی تنظیم نے ایسے پانچ ہزار متاثرہ خاندانوں کا اندراج کیا ہے۔
بیدخل کیے گئے پاکستانیوں میں سے کئی ایسے تھے جو دہائیوں سے امارات میں کام کررہے تھے اور اپنے خاندانوں کے واحد کفیل تھے۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا کہ وہ چودہ افراد کے خاندان کا خرچ اٹھاتا تھا، لیکن اب اچانک بے روزگار ہوکر واپس آنا پڑا۔ ایک اور شخص نے کہا کہ اس کی واپسی سے بیمار بیوی کا علاج اور بچوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔
ان رپورٹس میں حراستی مراکز کے بارے میں بھی سخت الزامات سامنے آئے ہیں۔ بعض افراد نے کہا کہ گھنٹوں انھیں گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا، کپڑے اتارنے پر مجبور کیا گیا اور ناکافی خوراک دی گئی۔ ایک شخص نے الزام لگایا کہ ایک ضعیف قیدی کو صرف اس لیے مارا گیا کیونکہ وہ گھٹنوں کے بل نہیں بیٹھ سکتا تھا۔
پاکستانی حکومت نے بڑے پیمانے پر ملک بدریوں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ صرف وہ افراد واپس بھیجے گئے جنھوں نے قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔ لیکن متاثرہ خاندانوں اور انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

