Wednesday, 14 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Moqadus Habiba
  4. Qaum Parasti Ka Safar

Qaum Parasti Ka Safar

قوم پرستی کا سفر

قوم (Nation) محض افراد کے کسی اتفاقی مجموعے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی زندہ اجتماعی حقیقت ہے جو وقت، تاریخ اور شعور کے امتزاج سے وجود میں آتی ہے۔ لفظ Nation لاطینی زبان کے لفظ nasci سے ماخوذ ہے، جس کے معنی "پیدا ہونا" ہیں۔ یہ اشتقاق اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قوم ایک فطری، نامیاتی اور ارتقائی مظہر ہے جو انسانی معاشروں میں تدریجاً تشکیل پاتا ہے۔ قوم دراصل ایک ایسی اجتماعی شناخت ہے جس میں افراد خود کو محض قانونی یا جغرافیائی بنیاد پر نہیں بلکہ ذہنی، جذباتی اور تہذیبی سطح پر ایک دوسرے سے وابستہ محسوس کرتے ہیں۔ یہی احساسِ وابستگی قوم کو دوام اور قوت عطا کرتا ہے۔

قوم کی ساخت کو سمجھنے کے لیے اسے تین بنیادی زاویوں سے دیکھا جاتا ہے۔ ثقافتی اعتبار سے قوم کے افراد مشترک زبان، مشترک مذہب یا اعتقادی نظام، تاریخی تجربات اور اجتماعی یادداشت، روایات، رسوم اور اقدار جیسےمشترک عناصر کے ذریعے باہم جڑے ہوتے ہیں یہ عناصر قوم کو داخلی وحدت فراہم کرتے ہیں اور اس کی اجتماعی شخصیت کو واضح کرتے ہیں۔ سیاسی اعتبار سے قوم خود کو ایک فطری سیاسی برادری کے طور پر دیکھتی ہے۔ قوم کے افراد یہ شعور رکھتے ہیں کہ ان کا اجتماعی مفاد مشترک ہے۔ ان کا سیاسی مستقبل باہم مربوط ہے۔ اقتدار اور نظمِ اجتماعی میں ان کی مشترک شرکت ضروری ہے۔ یہی سیاسی شعور آگے چل کر ریاست اور آئینی نظم کی بنیاد بنتا ہے۔

نفسیاتی سطح پر قوم ایک مشترک وفاداری اور جذباتی وابستگی سے پہچانی جاتی ہے، جسے عموماً حب الوطنی کہا جاتا ہے۔ یہ جذبہ قربانی کے احساس کو جنم دیتا ہے، اجتماعی مقاصد کے لیے افراد کو متحد کرتا ہے اور قوم کو تصور نہیں بلکہ عملی قوت بناتا ہے۔ قوم پرستی ایک سیاسی نظریہ اور فکری عقیدہ ہے جس کے مطابق ہر قوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود اپنی حکومت کرے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرے۔ قوم پرستی اس تصور کی حمایت کرتی ہے کہ جو لوگ خود کو ایک قوم سمجھتے ہیں، انہیں ایک آزاد اور خودمختار ریاست قائم کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ قومی خود ارادیت جو کہ قوم پرستی کا مرکزی اصول ہے، جس میں قومی آزادی، جمہوری طرزِ حکمرانی شامل ہے یعنی قوم بیرونی تسلط سے آزاد ہو اور داخلی طور پر عوامی رضامندی سے حکومت قائم کرے۔

قوم پرستی کا عملی ہدف ایک ایسی ریاست ہے جہاں قوم اور ریاست کی سرحدیں ہم آہنگ ہوں، ریاست قومی شناخت کی نمائندہ ہو، اقتدار اعلیٰ قوم کے پاس ہو۔ قوم پرستی سیاسی، معاشی اور تہذیبی آزادی کو بنیادی قدر سمجھتی ہے۔ قوم پرستی سے وابستہ اہم تصورات میں قومی کردار، قومی شناخت، قومی مفاد اور قومی سلامتی شامل ہیں۔ یہ تصورات قوم کے اخلاقی تشخص، اجتماعی شعور اور ریاستی ترجیحات کو واضح کرتے ہیں۔ انہی کے ذریعے قوم اپنی بقا، استحکام اور داخلی و خارجی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرتی ہے۔ قوم پرستی مختلف صورتوں میں ظاہر ہوئی، جن میں لبرل قوم پرستی، قدامت پسند قوم پرستی، توسیع پسند قوم پرستی، ثقافتی قوم پرستی، شہری قوم پرستی، نسلی یا ثقافتی قوم پرستی، نوآبادیات مخالف قوم پرستی شامل ہیں۔

لبرل قوم پرستی میں، انسانی حقوق، آئینی حکومت، اقوام کی مساوات شامل ہیں۔

توسیع پسند قوم پرستی میں، قومی برتری، عسکریت، سامراجیت شامل ہیں۔

نوآبادیات میں سیاسی قبضہ، معاشی استحصال شامل تھا، جبکہ نو نوآبادیات بالواسطہ کنٹرول کی صورت ہے۔ اس کے ردعمل میں ایشیا اور افریقہ میں نوآبادیات مخالف قوم پرستی ابھری۔ سیموئیل ہنٹنگٹن کے مطابق تہذیب ثقافتی شناخت کی بلند ترین سطح ہے۔ جدید دنیا میں شناخت کی سیاست نے لبرل جمہوریت کو چیلنج کیا اور قوم پرستی کو نئے تنازعات سے جوڑ دیا۔ قوم اور قوم پرستی جدید دنیا کے بنیادی تصورات ہیں۔ ان کے بغیر جدید ریاست، عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کو سمجھنا ممکن نہیں۔ قوم پرستی نے جہاں آزادی اور خودمختاری کو فروغ دیا، وہیں بعض صورتوں میں تصادم اور انتہا پسندی کو بھی جنم دیا۔ اسی لیے اس کا مطالعہ متوازن، تاریخی اور تنقیدی شعور کے ساتھ ناگزیر ہے۔

Check Also

Cricketer Baap, Beta: Himmat o Hoslay Ka Afsana

By Asif Masood