Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mojahid Mirza
  4. Moscow Se Makka (24)

Moscow Se Makka (24)

ماسکو سے مکہ (24)

ہمیں ابھی یہاں چھ گھنٹے بتانے تھے۔ جب تھک جاتا تو چہل قدمی کرنے لگتا۔ ایک بار چہل قدمی کرکے لوٹا تو میری جگہ پر ایک عورت بیٹھ چکی تھی۔ میں پچھلی نشتوں پہ بیٹھنے گیا تو ایک آدمی سے گزر کر نشست تک پہنچا تھا۔ نشست کے آگے بہت ہی بڑا اٹیچی پڑا تھا۔ میں نے اس آدمی سے پوچھا تھا کہ یہ "بگ" اٹیچی کیس آپ کا ہے۔ اس نے انکار کیا تھا۔ وہ ایک خوبصورت اور طویل القامت جوان مرد تھا۔ حبشہ سے تھا لیکن امریکہ میں عربی پڑھاتا تھا۔ نام تھا اس کا عبدالرحمٰن اور وہ اسم با مسمّٰی تھا۔ تیسری بار حج پہ آیا تھا۔ کہتا تھا کہ پہلا حج کوئی اتنا دلچسپ نہیں ہوتا لیکن دوسرے حج پہ آپ عبادت کا صحیح لطف لے سکتے ہیں۔ شاید ٹھیک ہی کہہ رہا تھا۔

بالآخر بورڈنگ شروع ہوگئی تھی۔ اردنی اہلکار نے کہا تھا کہ ایک کے علاوہ دوسرے بیگ کے لیے ایک سو یورو ادا کرنے پڑیں گے۔ عجیب منطق تھی۔ ایکسٹرا بیگیج یعنی اضافی وزن کے پیسے دینے ہوتے ہیں۔ اضافی نگ کے پیسے دینا پہلی بار سنا تھا۔ اب دو بیگوں والوں کو مصیبت پڑ گئی تھی۔ انہوں نے جا کر دو دو بیگوں کو پیک کرا کر ایک بنا لیا تھا۔ عارف شامی مدد کر رہا تھا۔ میں نے سامان حوالے کرکے بورڈنگ کارڈ لیا تھا اور ڈیپارچر لاؤنج میں جا کر پوچھتا پچھاتا اس کے ایک سرے پہ بنے نماز کے کمرے میں جا کر فجر کی جماعت میں شامل ہوگیا تھا۔ دوسری رکعت میں رکوع کے بعد جب امام نے اللہ اکبر کہا تو میں اور ایک دوسرا شخص سجدے میں چلے گئے تھے لیکن جب دیکھا کہ سب کھڑے ہیں تو ہم بھی کھڑے ہو گئے تھے۔ امام اور مقتدی ہاتھ اٹھا کر دعا مانگ رہے تھے۔ جس کے بعد سجدے میں گئے تھے۔ یہ کوئی اور مسلک تھا۔

لاؤنج میں بیٹھے تھے تو پتہ چلا کہ شروع کے کاؤنٹر پہ قرآن کا نسخہ تحفے میں دیا جا رہا ہے۔ میں نے بھی وہاں جا کر اردو کے ترجمے اور تفسیر والا قرآن کریم کا نسخہ لیا تھا۔ سپیدہ سحر نمودار ہو چکا تھا۔ جہاز میں سوار ہونے کا اعلان ہو چکا تھا لیکن کوئی تکنیکی معاملہ تھا۔ ابھی دروازہ نہیں کھلا تھا۔ پھر اس جانب بس آ کر رکی تھی۔ اہلکار آ گئے تھے، دروازہ کھلا تھا اور ہم بس میں بیٹھ کر جا جہاز میں سوار ہوئے تھے۔ الوداع مکّہ مکرمہ!

عمان کے ہوائی اڈے پہ بھی خاصا انتظار کرنا تھا۔ لوگ کارپٹ پہ لیٹ کر ہی سو گئے تھے۔ کفر شروع ہو چکا تھا۔ چست پتلونوں اور کھلے گریبانوں لیکن سر پہ روسریاں باندھے اردنی حسینائیں سامنے آنا شروع ہوگئی تھیں۔ میں انہیں دیکھ رہا تھا۔ ایک بار پھر سلیم تاجک کا جوش ایمانی ابھرا تھا اور اس نے کہا تھا، "مت دیکھو مرزا"۔ "عجیب آدمی ہو یار۔ میں کیا روبوٹ ہوں جو نہ دیکھوں۔ اللہ نے حسن بنایا ہے۔ میں تو دیکھوں گا اور سلیم قرآن کی ایک آیت ہے کہ اللہ جمیل ہے اور وہ جمیل چیزوں کو پسند کرتا ہے" میں نے کہا تھا۔ سلیم کا مزہ کھٹا ہوگیا تھا اگرچہ کنکھیوں سے وہ بھی وہی عمل کر رہا تھا جو میں کر رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرے مکہ کے پہلے کمرے کے ساتھی منصور، شیریں، ستار اور علیم بھی سامنے تھے۔ ارے تم لوگ کہاں؟ ہم مدینہ سے آ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا۔

ہم ماسکو کے دومودیوو ہوائی اڈے پہ اتر چکے تھے۔ دو گھنٹے گزر گئے تھے لیکن ہمارا سامان نہیں آ رہا تھا۔ میرے دوست سلیم تاجک نے کہا تھا، "کسی اور کے بیگ اٹھا کر نہ چلتے بنیں؟"۔ کہہ تو وہ مذاق میں رہا تھا لیکن ایک روسی محاورے کے مطابق "ہر مذاق میں سچ کا حصہ ہوتا ہے"۔ میں نے سوچا تھا کہ یہ اس کا اصل بول رہا ہے کہ کسی کے مال پر ہاتھ صاف کیا جا سکتا ہے۔

حرف آخر: جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ میں نے تین اضافی عمرے کیے۔ مکہ سے باہر مسجد عائشہ میں جا کر احرام باندھنے والوں اور نیت کرنے والوں کی تعداد سینکڑوں سے کبھی کم نہیں ہوتی اور یہ تعداد مسلسل رہتی ہے۔ قرآن کا جو نسخہ جدہ ایر پورٹ پہ تحفے میں دیا گیا، اس کے پہلے صفحے پہ لکھا ہے "اس قرآن کریم مع ترجمہ و تفسیر کی طباعت کا حکم دینے کا شرف فرمانروائے سعودی عرب خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کو حاصل ہوا"۔

یہ نسخہ "شاہ فہد قرآن کریم پرنٹنگ کمپلکس" کا شائع کردہ ہے۔ اس کے تفسیری حواشی مولانا صلاح الدین یوسف کے تحریر کردہ ہیں۔ اس کے صفحہ 80 کے حاشیے میں لکھا ہے: "حافظ ابن القیم نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے قول و فعل سے صرف دو قسم کے عمرے ثابت ہیں۔ ایک وہ جو حج تمتع کے ساتھ کیا جاتا ہے اور دوسرا وہ عمرہ مفردہ جو حج کے ایام کے علاوہ صرف عمرے کی نیت سے ہی سفر کرکے کیا جائے۔ باقی حرم سے جا کر کسی قریب ترین حل سے عمرے کے لیے احرام باندھنا غیر مشروع ہے۔ (الّا یہ کہ جن کے احوال و ظروف حضرت عائشہؓ جیسے ہوں)۔

نوٹ: حدود حرم سے باہر کے علاقے کو حل اور بیرون میقات سے آنے والے حجاج کو آفاقی کہا جاتا ہے"۔ سمجھ نہیں آیا کہ یہ تفسیر درست مانوں یا حکومت سعودی عرب کی مسجد عائشہ سے دی گئی عمرے کی نیت کی اجازت کو جو اس شرح کے مطابق غیر مشروع ہے۔

واللہ اعلم بالصواب۔

Check Also

Dhaka Ka Awami Inqilab Aur Tabdeeli Ki Dastak

By Imran Amin