Friday, 06 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mojahid Mirza
  4. Moscow Se Makka (23)

Moscow Se Makka (23)

ماسکو سے مکہ (23)

اگلے روز چونکہ میں نماز فجر کے بعد تھوڑی دیر کے لیے سو گیا تھا اس لیے ناشتہ کرنے دیر سے پہنچا تھا۔ ایک میز کے گرد بیٹھی چند خواتین ناشتہ تناول کر رہی تھیں۔ ان کے علاوہ بس میں ہی تھا جو ایک دوسری میز پہ ناشتے کی ٹرے رکھ کر پیٹ پوجا کرنے لگا تھا۔ ان خواتین میں ایک مولانا رشیت کی اہلیہ تھیں۔ رشیت حضرت تو عام قد و قامت کے آدمی تھےلیکن موصوفہ ان سے ایک بالشت بلند اور طباق کی طرح گول اور بڑے چہرے کی حامل خوش خلق خاتون تھیں۔ ماگومید کا کہنا تھا کہ "انا خودش کاک کارالیوا" یعنی وہ ایسے پھرتی ہے جیسے ملکہ ہو۔ میں نے ماگومید کو کہا تھا کہ ملکہ تو ہے ہی۔ اگر کمپنی سلوٹس ان 2400 افراد کی مد میں جو رشید حضرت نے روس کے مفتیوں کی کونسل کے شعبہ برائے حج و عمرہ کے سربراہ کی حیثیت سے انہیں تفویض کیے ہیں، صرف ایک سو ڈالر فی شخص بھی کمیشن دے تو دولاکھ چالیس ہزار ڈالر کمیشن بنتا ہے۔ جو سلوٹس کی سروسز کا حال تھا اس سے تو کمیشن دیے جانے اور کمیشن کھانے کا ہی گمان ہوتا تھا باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ مولانا کی بیگم میز سے اٹھ کر میرے پاس آئی تھیں اور کہا تھا، "آپ کو پتہ ہے کیا کہ ابھی ایک بس میں مکہ کے معروف مقامات کی سیر کے لیے لے جایا جائے گا"۔ مجھے خاک بھی معلوم نہیں تھا۔ میں نے شکریہ ادا کیا تھا اور پوچھا تھا کہ کب؟ انہوں نے کہا تھا پندرہ بیس منٹ میں۔ میں نے کمرے میں جا کر جلدی سے شیو بنائی تھی اور لابی میں آ گیا تھا۔

لابی میں کوئی پچیس تیس منٹ انتظار کرنا پڑ گیا تھا۔ سلیم تاجک نے کہا تھا، " دوکتر تم ہر روز شیو کیوں کر لیتے ہو۔ داڑھی رکھ لو"۔ میں نے کہا تھا کہ نہیں میں نہیں رکھتا لیکن تم مجھے داڑھی رکھنے کا کیوں کہہ رہے ہو۔ "آخر سنّت ہے" اس نے کہا تھا۔ میں نے اسے کہا تھا کہ بھائی پہلی بات تو یہ ہے کہ تمہاری اطلاع کے لیے، جامع الازہر کا حالیہ فتوٰی ہے کہ داڑھی رکھنا کوئی شریعت کا حکم نہیں ہے، پسند ناپسند کا معاملہ ہے۔ دوسری بات یہ کہ ان ادوار میں ایک تو سیفٹی ریزر یا استرے عام نہیں تھے، دوسرے داڑھی کو مردانگی اور سربرآوردگی کی علامت خیال کیا جاتا تھا جیسے آج بھی ہمارے ملک کے بلوچوں میں داڑھی مردوں کا زیور ہے، کیونکہ وہ ابھی تک قبائلی نطام کے تحت زندگی بسر کرتے ہیں۔ اس زمانے میں تو تاحتٰی ابو لہب اور انوجہل جیسے کفّار مکہ کی بھی داڑھیاں تھیں۔ یہودی اور عیسائی بھی داڑھیوں والے ہی ہوا کرتے تھے۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی تاریخی عہد کے اعمال و افعال، عادات و اطوار کو عہد اور مروّج روایات کے آئینے میں دیکھنا چاہیے۔ سلیم پھر مایوس ہوگیا تھا کیونکہ اس کے خیال میں میں کچھ نہیں مانتا تھا۔

ہمارے ساتھ حج کرنے آئے ہوئے سب تاجک، داغستانی اور انگوش نوجوانوں اور جوان مردوں نے داڑھیاں چھوڑ لی ہوئی تھیں، یا تو عربی لمبے کرتے یا پھر جسے سعودی عرب میں افغانی لباس کہا جاتا ہے یعنی پاجامہ نما شلوار اور گردنی والا گھٹنوں تک لمبا کرتا زیب تن کر لیا تھا اور فی نماز ایک لاکھ نماز کا ثواب حاصل کرنے کے چکر میں تھے۔ میں نے پھر مذاق کرتے ہوئے کہا تھا کہ سلیم ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے ثواب کے برابر ملتا ہے۔ اسے تین سو پینسٹھ دن پر تقسیم کرو تو دوسو چوہتر سال بنتے ہیں۔ اب تو ویسے ہی نماز پڑھنا چھوڑ دینی چاہیے کیونکہ انسان کی عمر ستر اسی سال ہوتی ہے یوں تم نے صرف ایک دن کی نمازیں حرم میں پڑھ کر اوسط عمر میں پڑھی جانے والی نمازوں سے چار گنا زیادہ نمازیں پڑھ لی ہیں۔ اب کی بار سلیم بھی مسکرا دیا تھا۔

اتنے میں قربان نے تاویل پیش کر دی تھی کہ تمہارا تو مسلک ہی اور ہے جیسے کہ میں شافعی مسلک سے ہوں، ہمارے مسلک کے مطابق اپنی بیوی کے ہاتھ سے اگر مرد کی دو انگلیاں بھی چھو جائیں تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر بیوی کی انگلیاں مرد کے ہاتھ سے چھو جائیں تو؟ میں نے پوچھا تھا۔ کہنے لگا پھر بھی مرد کا ہی وضو ٹوٹے گا۔ شکر ہے کہیں تو تم مردوں کا نقصان ہوا، میں نے ہنس کر کہا تھا اور ساتھ ہی پوچھا تھا کہ یہ مختلف مسللک کیوں ہیں؟ قربان کا جواب تھا کہ مثال کے طور پر ابوحنیفہ نے ایک حدیث پڑھی تو انہیں اور طرح سمجھ آئی اور اگر امام شافعی نے وہی حدیث پڑھی تو انہیں اور طرح سمجھ آئی۔

اس کے سامنے زمین پہ ایک تھیلا پڑا تھا۔ میں نے کہا قربان دیکھو یہ تھیلا پڑا ہے۔ تم لکھتے ہو "تھیلا ایک سلے ہوئے چوکور کو کہتے ہیں، جس کے اوپر پکڑنے کے لیے دونوں جانب پٹیاں لگی ہوتی ہیں اور اسے ایک زپ سے بند کیا اور کھولا جا سکتا ہے" میں بھی اس تھیلے کے بارے میں کم و بیش یہی لکھوں گا کیونکہ میرے نزدیک بھی یہ چوکور ہے اور اسے پکڑنے کو میرے نزدیک بھی دو پٹیاں اور کھولنے بند کرنے خاطر ایک زپ ہے لیکن اگر ہم دونوں نے تھیلا دیکھا ہی نہ ہو اور سن سنا کر لکھ رہے ہوں کہ تھیلا چوکور نہیں گول ہوتا ہے، پکڑنے کو پٹیاں نہیں بلکہ کھینچنے کی ہتھی لگی ہوتی ہے۔ بند کرنے کو زپ نہیں بلکہ دو تالے لگے ہوتے ہیں تو دو طرح کے تھیلوں کے بارے میں بات ہو رہی ہوگی۔ تمہارا یہ کہنا درست نہیں کہ ایک ہی حدیث کو اور اور طرح سے سمجھا بلکہ انہوں نے دو مختلف طرح کی احادیث پڑھ کر ان پر یقین کر لیا ہوگا۔ قربان نے کہا پتہ نہیں تم کیا کہہ رہے ہو۔ اتنے میں بس آ گئی تھی اور ہم سب جا کر بس میں بیٹھ گئے تھے۔

Check Also

Moscow Se Makka (23)

By Mojahid Mirza