Wednesday, 04 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mojahid Mirza
  4. Moscow Se Makka (22)

Moscow Se Makka (22)

ماسکو سے مکہ (22)

دو تین روز کی آزادی بھی نصیب ہونے والی نہیں تھی۔ میرا "بلیک ہول" کمرے کا ساتھی ماگومید تاجکوں سے تنگ تھا۔ اس نے بھی علیحدہ کمرے کی عرضی ڈالی ہوئی تھی۔ چونکہ ایک گروپ جاچکا تھا اس لیے اسے بھی عارف نے دوسری منزل پہ کمرہ 214 دے دیا تھا۔ میں نے محمد مصری سے اسے اس کمرے کی چابی دلوائی تھی اور دبے لفظوں میں کہا تھا کہ چلو دو تین روز تو اکیلے رہ سکیں گے۔

وہ برا مان گیا تھا۔ کہنے لگا کہ مجھے تم سے انسیت ہے، تم میرے دوست ہو۔ میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ مبادا اکیلے میں کسی کو کچھ ہو جائے۔ اگر تم مجھے اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتے تو ٹھیک ہے۔ معاملہ حج کا تھا، کسی کا دل بھی نہیں دکھانا چاہیے تھا۔ میں سمجھ گیا تھا کہ ماگومید تنہائی سے خائف ہے۔ دل میں سوچا، بھائی ماگومید تم پرسکون ہو لو ہماری خیر ہے۔ میں نے اسے کہا تھا کہ سامان لے آؤ، مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن میں اے سی ایک منٹ کے لیے بھی بند نہیں کروں گا۔ اس نے کہا تھا کہ اسے اے سی چلنے یا بند ہونے دونوں کی پرواہ نہیں ہے۔

وہ اپنا سامان لینے چلا گیا تھا اور میں نے کمرے کا دروازہ اور کھڑکیاں کھول دیے تھے تاکہ "کراس وینٹیلیشن" ہو جائے اور احمد کے مریضانہ سانسوں اور کھانسی سے مسموم ہوا نکل جائے۔ ساتھ ہی ہوٹل کے سیاہ فام باریش اور خاموش طبع محنتی ملاز م کو بلا کر ویکیوم کلیننگ کرا لی تھی اور بستروں کی چادریں اور تکیوں کے غلاف بدلوا لیے تھے۔ ماگومید اپنا سامان لے کر آ گیا تھا۔

ماگومید خاموش طبع شخص تھا۔ اس کے مالی حالات بھی کچھ اتنے اچھے نہیں تھے۔ اس کا اندازہ مجھے اس کی ہی بات سے ہوا تھا جب میں نے اسے بتایا تھا کہ میرے ساتھ کمرے میں رہنے والا احمد کہتا ہے کہ اس نے اپنی دولت کا مصرف سوچ لیا ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مالی مدد کرے گا۔ اس پر ماگومید نے کہا تھا کہ اسے کہو مجھے مدد کی بہت ضرورت ہے۔ میں نے کہا تھا کہ ماگومید مالی ناآسودگی کے باوجود تم حج کرنے آ گئے ہو۔ تمہارے ہی بقول یہ تمہارا پانچواں سفر حج بھی ہے۔ اس نے بتایا تھا کہ اسے کسی با استطاعت شخص نے اپنے دادے کے ایصال ثواب کی خاطر حج کرنے بھجوایا ہے۔ پھر کہا تھا کہ میں سب کچھ دیانتداری سے کرتا ہوں۔ کسی کو دھوکہ دینے کی کیا ضرورت ہے۔

میں نے پوچھا تھا کہ سلیمان کریموو نے تو نہیں بھجوایا، اس نے کہا تھا، نہیں۔ سلیمان کریموو جمہوریہ داغستان کا، جہاں کا ماگومید باسی تھا، ارب پتی مخیر شخص ہے جو ہر سال داغستان کے تین پزار نادار افراد کو اپنے خرچ پہ حج کرواتا ہے۔ اس کام کے لیے اس نے ایک باقاعدہ فاؤنڈیشن بنائی ہوئی ہے جس کا کام نسبتا" شفاف ہے۔ فاؤنڈیشن کے کارندے دیہاتوں اور شہروں کی مساجد میں جا کر قرعہ اندازی کے ذریعے مستحق افراد کا انتخاب کرتے ہیں۔

یہ صحیح ہے کہ ارب پتی دیانتدارانہ تجارت کرکے نہیں بنا جا سکتا، جیسے کہ شاید فورڈ نے کہا تھا کہ میں پہلے ایک ملین ڈالر کا حساب نہیں دوں گا، اس کے بعد کا تمام حساب پیش کیا جا سکتا ہے۔ مگر اتنی دریا دلی ہونا بھی اپنی جگہ بڑی بات ہے کہ آدمی ہر سال نوے کروڑ روپے کے مساوی رقم نادار لوگوں کو حج کروانے پہ خرچ کر دے۔

ماگومید میرے لیے کمرے میں ایسے تھا جیسے کہ نہیں ہے۔ یا تو آنکھیں موند کے لیٹا رہتا تھا یا پھر باہر نکل جایا کرتا تھا۔ ایر کنڈیشنر چلانے، الماری کے دروازے پہ تولیہ ٹانگنے، غرض کسی بات پر اسے احمد کی طرح اعتراض نہیں تھا۔

میں نے اسے کہا تھا کہ چلو آج پھر عمرہ کرنے چلتے ہیں لیکن اس نے خرابی صحت کا ّعذز کرکے معذرت کر لی تھی۔ میں اپنے طور پر حرم سے ٹیکسی کے ذریعے مسجد عائشہ پہنچا تھا۔ واپسی پہ عرب ٹیکسی والے نے وہی ڈرامہ کیا تھا کہ حرم سے بہت دور اتار دیا تھا۔ غلطی ہماری تھی کہ ہم سب پہلے ہی کرایہ ادا کر چکے تھے۔ بہرحال دور تک چل کر مسجد نبوی کے اندر داخل ہوا تھا۔ کعبے کو دیکھ کر دعا مانگنے کے بعد طواف شروع کر دیا تھا۔

طواف کے بعد اصول کے مطابق آب زمزم پینا تھا۔ میں جب گلاس میں پانی بھر رہا تھا تو مجھے لگا کہ میرے پیچھے کوئی خاتون ہے۔ میں نے گردن موڑ کر گلاس اس کو دینا چاہا تو اس نے گلاس پکڑ کر " شکرا" " جو کہا تو میری نگاہ پل بھر کی خاطر ٹھہر کر رہ گئی تھی۔ بلند قامت، ماہتاب رو، خوش شکل خاص طور پر ہنستی ہوئی آنکھیں۔ میں نے یکے بعد دیگرے کوئی تین گلاس پکڑائے تھے کیونکہ اس کے ہمراہ شاید دیگر خواتین تھیں۔ پھر کچھ سوچ کر اگلا گلاس خود پی کر پہلو موڑ کر دیکھے بغیر سعی کرنے چلا گیا تھا۔

دراصل حج کرنے کے لیے عموما" ادھیڑ عمر، معمّر اور ازکار رفتہ قسم کی خواتین زیادہ آتی ہیں، جن کی جانب اگر آپ دیکھنا چاہیں بھی تو دیکھنے سے ویسے ہی اغماض برتتے ہیں لیکن شکرا" کہنے والی نے مجھے جھنجھنا کے رکھ دیا تھا۔ شاید یہ وجہ بھی ہو کہ کئی روز سے طاری متقی پن کے ٹھہرے ہوئے تالاب میں یہ کنکر پڑی تھی۔ سعی کرتے ہوئے ذہن میں یہی تھا کہ شکرا" کہنے والی کون تھی؟ وہ کہاں ہوگی؟ کیا دوبارہ مل سکے گی؟ پھر میں باقاعدہ ہنس پڑا تھا اور خود کلامی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اچھی سعی کر رہا ہوں۔ استغفار پڑھی تھی اور سعی مکمل کرکے راہدای کےبغلی دروازے میں دو نفل ادا کیے تھے اور سرمنڈوا کر ہوٹل چلا گیا تھا۔

Check Also

Tareekh e Lawa: Mitti, Mehnat Aur Yaadon Ka Tasalsul

By Asif Masood