Monday, 02 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mojahid Mirza
  4. Moscow Se Makka (21)

Moscow Se Makka (21)

ماسکو سے مکہ (21)

میری آزادی کے دن نزدیک تھے۔ احمد کے بلغم تھوکنے کا عذاب اور اس عمل کو سہنے کی میری اذیت ختم ہونے کو تھی۔ دو روز بعد احمد اور علی جانے والے تھے یعنی اس کے بعد میں پورے تین روز کمرے میں اکیلا رہ سکوں گا۔

نماز ظہر کے لیے حرم پہنچنے والی بس جب ہوٹل سے آ کر مروہ والی جانب، حرم سے خاصی دور بسوں کی پارکنگ کے لیے مخصوص ایک جگہ پر آ کر رکتی تھی تو وہاں سے ریستورانوں، انواع و اقسام کی اشیاء بیچنے والی دکانوں کے میلے کے سے سماں سے گزر کر، مصروف سڑک پار کرنے کے بعد خاصا چلنا پڑتا تھا۔ جہاں سے حرم میں داخل ہوتے تھے وہ مروہ اور صفا کے درمیاں سعی کے لیے بنائی گئی تیسری منزل ہوتی تھی۔ وہاں درمیان میں پہنچ کر مسجدالحرام کی چھت پہ نکلا جاتا تھا جو دراصل مطاف بھی تھا جو بہت طویل تھا اور پھرخودکارزینوں کے ذریعے نیچے جانا ہوتا تھا۔ دھوپ اس قدر زیادہ ہوتی تھی کی ٹھنڈی راہداری میں پہنچنے کے بعد اس روزمجھ میں چھت پہ نکلنے اورپھر نیچے جا کرمشکل سے نماز کے لیے جگہ ڈھونڈنے کی ہمّت نہیں ہوئی تھی۔ میں نے چھت کی طرف کھلنے والے دروازے کے سامنے ہی نماز پڑھنے کا طے کیا تھا۔ جاء نمازوں پہ یا خالی فرش پہ لوگ پہلے ہی چھوٹی چھوٹی صفیں باندھے ہوئے تھے۔ ایک پانچ چھ افراد کی صف کے دائیں جانب میں بھی کھڑا ہوگیا تھا۔

مسجد الحرام اور مسجد نبوی دونوں میں باجماعت نماز کے دو تین منٹ بعد ہی عربی زبان میں نماز جنازہ پڑھانے کا اعلان ہو جایا کرتا تھا۔ اس روز بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ مجھے یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ مجھے اس بارے میں کہ نماز جنازہ میں کیا پڑھا جاتا ہے، کے بارے میں علم نہیں تھا۔ ابھی ہم نمازجنازہ پڑھنے کے لیے کھڑے ہی ہوئے تھے کہ دروازے سے ایک متشرع اور مناسب شخص داخل ہو ئے تھے اور میرے ساتھ کھڑے ہو گئے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا تھا، "مولانا! نماز جنازہ کی نیت کیسے کی جاتی ہے؟" انہوں نے کہا تھا کہ نماز جنازہ کہنا ہوتا ہے البتہ یہ ذہن میں رہے کہ جنازہ بچے کا ہے یا بڑے کا۔ نماز ادا کرنے کے بعد ان سے تعارف ہوا تھا۔ ان کا نام سید شبّیر احمد کاکا خیل تھا۔ وہ پاکستان اٹامک انرجی کے ڈپٹی چیف انجنیر تھے۔ انہوں نے مجھے جو اپنا وزٹ کارڈ دیا، اس پہ درج تفصیل سے مجھے لگا تھا کہ وہ پیر ہیں۔ ویسے بھی ان کے ہمراہ دو مرید قسم کے لوگ تھے۔ میں نے پوچھا تھا کہ کیا آپ پیر بھی ہیں؟ انہوں نے خجل سا ہو کر مسکراتے ہوئے کہا تھا کہ جیسے بزرگوں نے ذمہ داری لگائی تھی، اسے پورا کر رہا ہوں۔ میں نے بھی خفت زدہ ہوتے ہوئے کہا تھا، " لیکن میں تو دیو بندی ہوں"۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ وہ بھی دیوبندی ہیں، بیعت کا سلسلہ تو ہوتا ہے۔ بہرحال جب ان سے مزید گفتگو ہوئی تو خاصے نرم مزاج اور متاثر کن شخص تھے۔ میں نے ان سے نور حبیب شاہ کا ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ اسے بھی آپ سے ملاؤں گا۔

اگلے روز سیّد صاحب کا فون آ گیا تھا۔ میں حبیب سے پہلے ہی ان سے ملنے کے بارے میں بات کر چکا تھا چنانچہ میں اورحبیب نماز ظہر کے بعد حرم کے سامنے والے شاپنگ سنٹر میں ان سے ملے تھے۔ حبیب نے کہا تھا کہ بہتر ہے کہ میرے ہوٹل چل کر کھانا کھا لیا جائے۔ وہاں بوفے اچھا ہوتا ہے۔ ہم ٹیکسی میں سوار ہوکر اس کے ہوٹل پہنچے تھے۔ یہ فی الواقعی فورسٹار ہوٹل تھا۔ بہت اچھا بوفے تھا۔ میں نے بہت دنوں کے بعد کوئی مناسب کھانا کھایا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد ہم اس کے کمرے میں گئے تھے۔ اگرچہ حج کی وجہ سے ان کے کمرے میں بھی چار بیڈ تھے لیکن جگہ کھلی تھی۔ باتھ روم میں صاف سفید تولیوں کی بھرمارتھی اورظاہر ہے ٹوائلٹ پیپر بھی تھے۔ مجھے حبیب اورکمپنی "خصمت" کی سروس پہ رشک ہوا تھا اور کمپنی " سلوٹس" کی بددیانتی پہ ایک بار پھر غصہ آیا تھا بلکہ زیادہ ہی آیا تھا۔ کاکا خیل صاحب نے کمرے میں موجود پانچ چھ روسیوں سے "احسان" پر گفتگو کی تھی جس کا میں نے ٹوٹا پھوٹا ترجمہ کیا تھا۔ ہم پھر عصر کی نماز پڑھنے حرم پہنچے تھے۔ سید صاحب سے اجازت لے لی تھی۔ نماز پڑھنے کے بعد حبیب کو بھی "خدا حافظ" کہ دیا تھا کیونکہ حبیب کو کل ماسکو روانہ ہونا تھا۔

کمرے میں لوٹا تھا تو احمد نے کہا تھا کہ اسے بیگ خریدنا ہے کیونکہ اسے دو روز کے بعد جانا تھا۔ حاجی حضرات اپنے تحفوں کو پیک کرنے کے لیے عموما" ایسے بیگ لیتے ہیں، جن کی زپس کھول کر وہ لمبا ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ سستا بھی ہوتا ہے۔ مجھے احمد نے اس لیے کہا تھا کیونکہ میں ایک روز پہلے عصر کے بعد ویسے ہی سڑک کے اس پار سیر کرتا ہوا ایک ذیلی سڑک پہ نکل گیا تھا جہاں ایرانی حجاج کے مزید ہوٹل تھے۔ وہاں دکانیں نسبتا" بہترتھیں اورورائٹی بھی زیادہ تھی، جن کے بارے میں میں نے اسے شام کو بتایا تھا۔

میں، احمد اوراس کا دوست یوسف ان دکانوں پہ گئے تھے۔ احمد نے کھل کر خریداری کی تھی۔ لوٹ کر کھانا کھانے کے بعد کمرے میں پہنچے تھے۔ میں نے احمد سے کہا تھا کہ میرا ایک دوست حج تو کر چکا لیکن وہ ہے رنگین مزاج۔ کہتا ہے باقی تو سب ٹھیک لیکن میرا اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ رویّہ کیا ہوگا، پتہ نہیں۔ احمد نے کہا تھا کہ یہ صرف اس کا الم نہیں ہے یہ سب مردوں کا الم ہے۔ میں نے بات کو آگے بڑھانے کے لیے احمد سے مثال کے طور پر ایک سوال کیا تھا۔ میں نے پوچھا تھا، "احمد فرض کرو تم طواف کر رہے ہو۔ تمہارے آگے ایک نوجوان اور خوبصورت لڑکی ہے۔ ہجوم کی وجہ سے تم ایک دوسرے کے ساتھ تقریبا" چپکے ہوئے ہو، کیا تمہارے ذہن میں کوئی ارتعاش نہیں ہوگا، کیا تمہارے بدن میں کوئی ہلچل نہیں ہوگی؟" وہ جز بز ہوگیا تھا لیکن فورا" سنبھل کر بولا تھا کہ مجاہد! ایسی باتیں نہیں کیا کرتے۔ ایسا کہنے سے گناہ ہوتا ہے۔ میں نے اسے کہا تھا کہ احمد معاملہ جذباتی ہونے کا نہیں ہے۔ میں تو تم سے یہ استفسار کر رہا ہوں کہ کیا کعبے کی نزدیکی تمہارے افعال بدنی کو تبدیل کر دیتی ہے؟ لیکن وہ اس معاملے پر بات ہی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں بھی خاموش ہو رہا تھا۔

چونکہ اسے ایک روز بعد جانا تھا اس لیے اگلے روز بالآخر وہ کچھ ہشاش بشاش ہوگیا تھا۔ کپڑے پہنے تھے۔ دھوپ کا قیمتی چشمہ لگایا تھا اور باہر نکل گیا تھا۔ شام کو ہم اس کے لیے بیگ لینے گئے تھے۔ میں نے نوٹ کر لیا تھا کہ وہ بنیادی طور پہ صاحب آدمی ہے اس لیے بیگ پیک کرنا اسے نہیں آتا ہوگا۔ واقعی اس نے بیگ میں اشیاء رکھنے کی ابتدا ہی غلط کی تھی۔ میں نے اس کی مدد کی تھی بلکہ عملی طور پہ اسے بیگ پیک کرکے دیا تھا۔ اتنے میں علی بھی آ گیا تھا، جو قرآنی آیات کے بہت سے سنہرے کڑھے ہوئے طغرے حرید کر لایا تھا۔ وہ اس نے ہمیں دکھائے تھے اور پھر وہ بھی اپنا بیگ پیک کرنے لگ گیا تھا۔

ان لوگوں کا پروگرام یہ تھا کہ یہ دو بجے رات حرم جائیں گے، طواف الوداع کریں گے، فجر کی نماز پڑھیں گے اور آ کر کچھ دیر کے لیے استراحت کر لیں گے کیونکہ جدہ لے جانے کے لیے ان کی بس دس بجے آنی تھی۔ جب وہ لوٹے تو میں بھی نماز فجر مسجد میں پڑھنے کے بعد موبائل پہ اخبار پڑھ کر کمرے میں آ کر سو گیا تھا۔ ہم دونوں تقریبا" آٹھ بجے بیدار ہوئے تھے۔ احمد نے مجھ سے کہا تھا، "مجاہد! تم نے کل مجھ سے کیسی بات کی تھی۔ ویسا ہی ہوا۔ طواف کے دوران میرے ساتھ ایک جوان حبشی لڑکی چپک گئی تھی اور میرا وضو خطاء ہوگیا"۔ احمد شافعی مسلک سے تھا، جس کے فقہ کے مطابق اگر مرد کی اپنی بیوی کے ہاتھ کے ساتھ بھی صرف دو انگلیاں مس ہو جائیں تو وضو پھر سے کرنا پڑتا ہے۔ میں نے اسے کہا تھا کہ احمد کل اس معاملے پہ تم بات کرنے کو تیار نہیں تھے۔ میں تم کو یہ سمجھانا چاہتا تھا کہ کسی بھی قسم کا تقدس انسان کے جسمانی افعال اور سوچ کو نہیں روک سکتا۔ البتہ انسان کو خود اپنی سوچ پہ قابو پانا ہوتا ہے اور ایسے حالات سے بچنا ہوتا ہے جو اسے انگیخت کر سکیں۔

ناشتہ کرنے کے بعد میں نے ان لوگوں کو رخصت کرنے کے بعد ہی کمرے میں قدم رکھا تھا۔

Check Also

ICC, Bharti Baladasti Aur Aik Mazaq Banta Hua Aalmi Khel

By Asif Masood