Moscow Se Makka (20)
ماسکو سے مکہ (20)

آج احمد اور اس کے شناسا لوگوں کو "انجوائے" کرنے کے لیے جدّہ جانا تھا۔ میں نے پوچھا انجوائے کرنے کیا کسی "ڈسکوتھیکا" میں جاؤ گے تو ہنس پڑا تھا۔ بتایا تھا کہ بحیرہ احمر میں تیرنے جائیں گے۔
میں نے ظہر کی نماز ہوٹل کے ساتھ والی مسجد میں پڑھی تھی۔ مسجد میں اذان دینے والا ایک کم عمر حبشی تھا، جو اذان دیتے ہوئے کبھی سر کا رومال ٹھیک کیا کرتا تھا، کبھی خود کو کھجانے لگ جایا کرتا تھا۔ ہمارے ساتھ ایک اور شخص ماگومید انگش تھا۔ اسے بہت غصہ آتا تھا کیونکہ صرف موذّن ہی نہیں، بہت سے دیگر سعودی نمازی بھی نماز پڑھنے کے دوران اگر موبائل فون وائیبریٹ کرتا تو جبّے کی جیب سے نکال کر نمبر دیکھ لیتے تھے یا شاید ایس ایم ایس بھی پڑھ لیتے ہوں۔ ماگومید انگش نے پوچھا تھا کہ یہ اذان اور نماز کی تعظیم کیوں نہیں کرتے؟ میں ہنس دیا تھا۔ میں نے اسے بتایا تھاکہ بھائی اذان اور نماز ان کے ہاں کے پراڈکٹ ہیں۔ وہ اسے معمول کی سرگرمی سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس ہم نے ان کے ساتھ اپنی اپنی مقامی روایات تعظیم و تقدس کو نتھی کر دیا ہے جو بالکل بھی بری بات نہیں لیکن ان کی روایت تقدس سے عاری اور فرض تک محدود ہے۔ مثال کے طور پر اگر میرے پاؤں لاعلمی میں کعبے کی طرف ہو جائیں تو میری بیٹی طوفان کھڑا کر دیتی ہے جبکہ تم سب لوگ مسجد میں کعبے کی طرف ٹانگیں سیدھی کرکے عام بیٹھے ہوتے ہو۔
اس مسجد کے امام بلند قامت، تن و توش اور تیکھے نقوش والے چالیس پینتالیس برس کے شخص تھے۔ وہ منبر کے بغلی دروازے سے بس نماز پڑھانے کے وقت ہی داخل ہوا کرتے تھے۔ داخل ہوتے وقت ان کے دائیں ہاتھ میں اعلٰی قسم کا ٹیلیفون ہوتا تھا جس پہ وہ غالباََ انٹرنیٹ دیکھتے ہوئے داخل ہوا کرتے تھے۔ منہ میں البتہ مسواک کی ڈنڈی ضرور اڑسی ہوتی تھی۔ لوگوں پہ اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے ایک نگاہ غلط ڈالا کرتے تھے۔ دائیں جیب میں فون ڈالتے تھے۔ پھر مسواک کے دانتوں پہ ایک دو گھساؤ لگا کر اسے نکال کر بائیں جانب کی جیب میں ڈالتے تھے اور اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ کر تلاوت شروع کر دیا کرتے تھے۔ ان کی طرز تلاوت اپنی ہی طرز کی تھی۔ مجھے ان کی تلاوت آج بھی یاد آتی ہے۔ میں انہیں دیکھ کر سوچا کرتا تھا کہ وہ کار کی بجائے ناقہ پہ سوار کیوں نہیں ہوتے؟ لاؤڈ سپیکرکے استعمال سے انکار کیوں نہیں کرتے؟ چودہ سو سال پہلے والا کھڈی پہ بنے ہوئے گاڑھے کا جبہ کیوں نہیں پہنتے؟ اگر یہ سب نہیں کرتے تو منہ میں مسواک کیوں گھسیڑی ہوتی ہے۔ یعنی ہر وہ چیز استعمال کرو جو سنت نہیں لیکن اس چیز کو سنت بنا کر اپنا لو جو سب سے آسان ہے اور وہ بھی سب کو دکھانے کی خاطر۔
واپسی پہ پٹھان کی دکان سے نان اور دال کا ڈبہ لیا تھا۔ صرف چار ریال میں اور کمرے میں آ کر نوش جان کیا تھا۔ میں نے اسے نعمت غیر مترقبہ جانا تھا کیونکہ یا تو ابلے ہوئے چاول ملتے تھے یا وہی ہمارے مطعم کا بے ذائقہ کھانا۔ میں سو گیا تھا۔ اٹھنے کے بعد حرم جانے والی کمپنی کی بس پہ بیٹھ کر حرم گیا تھا۔ چونکہ بس کوہ مروہ والی جانب رکا کرتی تھی اس لیے ہماری رسائی مسجد کے دوسرے فلور پہ یا چھت پہ ہوا کرتی تھی۔ میں نے مغرب کی نماز چھت پر ہی پڑھی تھی۔ عشاّ کی نماز تک اور اس کے بعد روانگی تک خاصا وقت تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ کھلی ہوا میں طواف کیوں نہ کر لیا جائے۔ سیر کی سیر، ثواب کا ثواب۔ ہوا تو لگ رہی تھی لیکن یہ طواف کعبے کے نزدیک دھکم پیل والے طواف سے کہیں زیادہ مشکل تھا کیوں کہ اس کی طوالت کئی گنا بڑھ گئی تھی۔
ہوٹل لوٹا تھا۔ کھانا کھایا تھا۔ جب کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ احمد جدہ کے سفر سے مریض ہو کر لوٹا تھا اور صاحب فراش تھا۔ اسے کھانسی تھی اور اچھا خاصا بخار۔ میں نے اسے پیراسیٹامول کی گولیاں اور انٹی بائیوٹک دوائی دی تھی۔ اس کی کھانسی نے مجھے اچھی طرح سونے نہیں دیا تھا لیکن میں کچھ نہیں بولا تھا۔ احمد 27 اکتوبر کو واپس جانے سے ایک روز پہلے تک بیمارہی رہا تھا۔ سنکی شخص تھا، مریض ہونے پہ کمر باندھی ہوئی تھی۔ باوجود اس کے کہ میں نے کئی بار کہا تھا کہ اٹھ کر باہر جاؤ لیکن وہ کمرے تک محدود رہا۔ اس کا تعلق شافعی مسلک سے تھا۔ علی لوٹ آیا تھا۔ علی ان کے علاقے میں کہیں امام تھا اور اچھا لڑکا تھا۔ احمد صاحب اسے پیسے دے کر اپنے مرے ہوئے رشتے داروں کے لیے عمرے کروا لیتے تھے۔ احمد نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس نے ڈیڑھ سو ڈالر فی شخص کے حساب سے اپنے تین رشتے داروں کے لیے تین طالبعلوں سے حج بھی کروائے ہیں۔ میں اس پر خاموش رہا تھا کیونکہ ڈیڑھ سو ڈالر میں تو منٰی میں رہنے کے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے تھے۔
ایک رات مجھے سوتے سوتے آواز آئی "مجاہد!"۔ احمد مجھے مجاہد ہی کہتا تھا اور مجھے اچھا لگتا تھا کیونکہ ایسا صرف دوست ہی کہہ کر پکارتے ہیں۔ پہلے تو میں نے نیند میں سنی ان سنی کر دی تھی لیکن جونہی اس کی کہی بات مجھے سمجھ آئی تو میں بے اختیار ہنسنے لگا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا۔ "مجاہد! یہ بتاؤ کہ کسی حاجی کے ہاتھ سے کسی حاجی کا شہید ہونا زیادہ بہتر ہے یا حاجی ہو کر طویل العمری کے باعث فوت ہونا؟"۔ مجھے اس کی حس مزاح اچھی لگی تھی، وہ مجھے میرے خراٹوں کی وجہ سے شہید کرنے سے پہلے میری خواہش پوچھ رہا تھا۔ اس کی حس مزاح عارضی تھی۔ کہنے لگا نیند میں اپنے خراٹوں پہ قابو پاؤ۔ اب مزاح کی باری میری تھی، میں نے کہا، "احمد اگر تم جاگتے میں اپنی کھانسی پہ قابو پا لو تو میں حالت خواب میں اپنے خراٹوں پہ قابو پانے کی کوشش ضرور کروں گا"۔
اگلے روز وہ اپنے اس تاریخی فقرے کا تذکرہ اپنے سبھی آشناؤں سے کر رہا تھا۔ جی ہاں وہ اپنے علاقے میں اپنی انگش برادری کا رہنما بھی تھا اس لیے اس کی مزاج پرسی کے لیے پانچ چھ افراد آ جایا کرتے تھے، جن میں ایک اس کا کائیاں دوست یوسف تھا۔ ایک خاموش طبع ماگومید نام کا آدمی تھا اور ایک اور شخص جو بیماری کے دوران مسلسل اس کے لیے کھانا لے کر آتا رہا تھا۔ میں اپنے اندر کٹا جا رہا تھا کہ اگر میں اس کی جگہ پہ ہوتا اور اسے اس کے خراٹوں پہ اسے اس طرح بدنام کرتا تو اس کا کیا بنتا لیکن معاملہ برعکس ہوا۔ وہ سب کہنے لگے کہ احمد کو نیند ویسے ہی نہیں آتی اور یہ اپنی بے خوابی کا الزام دوسروں کے خراٹے لینے پر لگا دیتا ہے۔
احمد مریض تو تھا لیکن اس کی ایک حرکت مجھے بالکل نہیں بھائی تھی۔ مجبوری اس کی بھی تھی کہ وہ باربار بلغم تھوکنے باتھ روم میں نہیں جا سکتا تھا۔ اس لیے اس نے یہ قبیح عمل ڈسپوزیبل گلاس میں کرنا شروع کر دیا تھا۔ ایک بار جب میں نہانے کے لیے باتھ روم میں داخل ہوا چاہتا ہی تھا کہ اس نے ایسے کیا تھا۔ مجھے دور سے یوں لگا تھا جیسے سفید بلغم سے بھرا ڈسپوزیبل گلاس اس نے میرے سرہانے سائیڈ ٹیبل پہ رکھ دیا ہو۔ میں نے سختی سے کہا تھا، "احمد اسے بیڈ کے نیچے رکھو۔ اس نے پریشان ہو کر کہا تھا لیکن یہ مکمل طور پر ڈھکا ہوا ہے۔ میں نے مزید سختی کے ساتھ کہا تھا کہ پھر بھی اور اس نے فوراََ اسے نیچے رکھ دیا تھا۔ اصل میں اس بیچارے نے گلاس میں ٹشو پیپر بھی اڑسا ہوا تھا جو سفید رنگ کا تھا۔ مجھے کراہت بہت زیادہ آتی ہے۔ ڈاکٹر بننے کے آخری سالوں میں طالبعلموں کو مریضوں کی بلغم دیکھنی پڑتی ہے لیکن میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ایک دفعہ پروفیسر حیات ظفر نے دیکھنے کو کہا تھا تو میں نے اعتماد کے ساتھ کہہ دیا تھا کہ میں پہلے ہی دیکھ چکا ہوں سر۔

