Moscow Se Makka (19)
ماسکو سے مکہ (19)

دن میں کسی وقت میں نے اپنا سامان منتقل کر دیا تھا۔ احمد عشاء کی نماز کے بعد کمرے میں آیا تھا۔ الماری کے دروازے پہ میں نے تولیہ ٹانگا ہوا تھا۔ الماری کے پہلو میں ایک میز کے اوپر میرا بند بیگ تھا۔ پلاسٹک بیگز میں نے الماری کے اندر رکھ دیے تھے۔ احمد کا ایک چھوٹا سا بیگ تھا، جو باتھ روم کی دیوار کے ساتھ والی چھوٹی میز پر دھرا تھا۔ موصوف نے آتے ہی میرا تولیہ الماری کے دروازے سے اٹھا کر میرے بیگ کے اوپر پٹخا تھا اور کہا تھا، "الماری پہ کچھ نہیں ٹانگنا، ہمیں انگوشوں کو اسی طرح تربیت دی جاتی ہے۔ ایک جگہ رہنے والے دوسرے لوگوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے"۔ میں بستر سے اٹھا تھا۔ تولیہ بیگ کے اوپر سے اٹھا کر تہہ کیا تھا اور اپنے تکیے پر رکھتے ہوئے اس کی جانب خشمگیں نگاہوں سے دیکھا تھا۔ تھوڑی دیر میں وہ پھر بولا تھا، "تمہارا سامان کچھ زیادہ ہی نہیں ہے کیا؟" میں مسکرا دیا تھا اور سوچ رہا تھا کہ شیریں کے بعد یہ ایک اور امتحان ہوگا۔
صبح اٹھ کر میں نماز پڑھنے چلا گیا تھا۔ یہ صاحب بستر پہ پڑے تلملائے تھے۔ نماز پڑھ کر میں لابی میں موبائل پر وائی فائی استعمال کرتا تھا۔ اس سے فارغ ہو کر جب کمرے میں آیا تو جناب احمد بھنائے ہوئے بیٹھے تھے۔ شکوے کا سیلاب آ گیا تھا۔ "میں اسی لیے دوسرے کمرے سے یہاں منتقل ہوا تھا کہ وہاں چار آدمی خراٹے بھرتے تھے۔ میں منٰی میں قیام کے دوران سو ہی نہیں سکا ہوں۔ آج رات تم نے نیند غارت کر دی۔ دائیں جانب کی کروٹ پہ خراٹے نہیں لیتے تھے لیکن بائیں جانب کی کروٹ پرخراٹے تو لیتے ہی ہو لیکن میرے شوروغل پہ اٹھے تک نہیں"۔ میں بڑا پریشان ہوگیا تھا، مجھے لگا تھا جیسے میں دنیا کا واحد انسان ہوں جو خراٹے لیتا ہے۔ ویسے یہ اللہ کا کرم تھا کہ کسی کے خراٹے لینے سے مجھے نیند نہیں آتی اور اب میں سو رہا تھا اور لوگ میرے خراٹوں کی مذمت کر رہے تھے۔ ہمارا دوسرا ساتھی علی رات کو کہیں گیا تھا اور پھر آیا ہی نہیں تھا۔ شام تک احمد سے دوستی ہوگئی تھی۔ وہ بے حد امیر شخص تھا۔ ہمیشہ اداروں کا سربراہ رہا۔ اب نوووسبرسک میں اس کی اپنی ایک بڑی کنسٹرکشن کمپنی ہے۔ اس کو بالادستی جتانے کی عادت تھی ویسے وہ اچھا آدمی تھا۔ چند روز میں پتہ چل گیا کہ وہ پڑھتا بھی بہت ہے۔
مجھے آج پھر عمرہ کرنا تھا۔ ماگومید سے کہا تھا تو اس نے میرے ساتھ عمرہ ادا کرنے کی حامی بھر لی تھی۔ جب مغرب کی نماز کے لیے حرم جانے والی بس میں سوار ہوا تو منصور تاجک نے پوچھا تھا، "ڈاکٹر تمہارا دوست ماگومید کہاں ہے؟"۔ میں نے کہا تھا کہ میں تو خود اس کا منتظر ہوں۔ منصور نے بتایا تھا کہ وہ تو ظہر کے وقت حرم گیا تھا اور پھر لوٹا نہیں۔ مسجد عائشہ کے لیے ٹیکسی سٹینڈ تو میں دیکھ ہی چکا تھا، وہاں پہنچا تھا لیکن کوئی ٹیکسی میسّر نہ تھی۔ ایک شخص سے استفسار کیا تھا تو اس نے عربی میں کہا تھا، "تعل" یعنی آؤ اور دور تک چلتا ہوا سڑک کے ایک جانب بسوں کے اڈے پر لے گیا تھا۔ وہاں لوگوں کا بہت زیادہ رش تھا۔ بسیں فوراََ آ کر بھرتی جا رہی تھیں۔ بنگالی اور انڈونیشیائی مردو زن دھکم پیل کرکے ہی بسوں میں بیٹھ رہے تھے۔ میں نے تین ریال میں بس کا ٹکٹ لےلیا تھا اور کسی نہ کسی طرح بس میں بیٹھ گیا تھا۔
مسجد عائشہ پہنچ کر پہلے ہی کی طرح احرام باندھا تھا اور مغرب کی نماز اور نفل پڑھے تھے۔ نیت کرکے ایک ٹیکسی میں سوار ہو کر حرم پہنچ گیا تھا اور کعبے کا طواف کرنے لگا تھا۔ میرے ساتھ ساتھ ایک پنجابی باریش گورا چٹا اور ہٹا کٹا نوجوان طواف بھی کیے جا رہا تھا اور ہاتھ اٹھا کر زارو قطار روتا ہوا بلند آواز میں پنجابی میں کہے جا رہا تھا، "یا اللہ میں تیرے احکام پہ نہیں چلا، یا اللہ میں تیرے نبی کے احکام بھی پوری طرح بجا نہیں لا سکا یا میرے مالک کرم کر، مجھے معاف کر"۔ اس کی آواز اتنی بلند تھی کہ وہ باقی لوگوں کی عبادت میں مخل ہو رہی تھی۔ میں نے اسے کہا تھا، "حاجی صاحب، ذرا ہلکی آواز میں دعائیں مانگیں" ساتھ ہی خیال آیا تھا کہ مذاق میں کہہ دوں، "اللہ کو پنجابی سمجھ نہیں آتی، عربی میں عبادت کرو" لیکن ایک تو مذاق کرنے کا مقام نہیں تھا دوسرے وہ نوجوان بھی سنبھل گیا تھا۔ طواف کے دوران نماز عشاء کا وقت ہوگیا تھا۔ مجھے ملتزم کے سامنے تیسرے گھیرے میں کھڑے ہو کر نماز عشاء پڑھنے کی سعادت نصیب ہوگئی تھی۔
ملتزم حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان کے حصے کو کہا جاتا ہے۔ حج کے مناسک میں سے ایک یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اگر موقع ملے (جو انتہائی مشکل ہے) تو کعبے کی دیوار کے ساتھ سینہ لگا کر دعا کریں۔ مجھے یہ آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ رو رو کے، یا گڑگڑا کر دعا مانگنے کی ہدایت کیوں کی جاتی ہے جبکہ ہر بات کا آغاز "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" سے ہوتا ہے پھر لوگوں نے اللہ کو نعوذ باللہ کسی سنگدل حاکم کے روپ میں دکھانے کا بیڑا کیوں اٹھایا ہوا ہے۔ خشیۃ اللہ یعنی اللہ سے ڈرنا ضروری ہے۔ وہ اس لیے تاکہ اس ڈر سے انسان برے عمل کرنے سے رک جائے۔ مگر ایسا نہیں کہ اگر آپ روئیں گے نہیں تو اللہ نہیں دے گا۔
دراصل الٰہ کا تصور ان ادوار میں عام ہوا تھا جب دنیا میں بااختیار ترین اور قوی ترین قوت بادشاہوں ہی کی ہوا کرتی تھی۔ لوگوں کو خدا کے بارے میں سمجھانے کی خاطر لامحالہ وہی مثالیں استعمال کی جا سکتی تھیں جو اس وقت مروج تھیں۔ اس لیے خدا کی صفات میں رحم اور قہر کی، شفقت اور ناراضگی کی اور اسی طرح جزا وسزا دیے جانے والے کی وہ تمام صفات مجتمع کر دی گئی تھیں، جو اس زمانے میں کسی ہستی میں ہونا اس کے با اختیار اور قادر کل ہونے کی غمّاز تھیں۔ ایک بار پھر فرض کر لیتے ہیں کہ جن ادوار میں انبیاء و رسل آئے تھے اگر ان ادورا میں مروّج نظام جمہوریت ہوتا تو الٰہ کا تصور انسانوں کو کیونکر سمجھایا جاتا؟
مجھے بھی ایک عزیز نے مشورہ دیا تھا کہ "اگر موقع ملے تو کعبے کی دیوار سے ماتھا لگا کر آنکھیں بند کیجیے گا۔۔ مجھے یقین ہے کہ آپ عشق حقیقی کی انتہائی منزل کو چھو لیں گے" میں نے سوچا تھا کہ مشورہ دینے والے عزیز کا بے حد شکریہ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ عشق عشق ہوتا ہے۔ حقیقی اور مجازی کی تقسیم متنازعہ ہے۔ دوسرے یہ کہ عشق حقیقی ایک جست میں نہ تو وارد ہو سکتا ہے اور نہ طے۔ یقیناََ اس کے مدارج ہوں گے۔ مجھے اگر موقع بھی ملتا تو میں یہ تجربہ اس لیے نہ کرتا کہ ایسا کرنا مجھے تصنّع لگتا۔ خدا تو میری شہ رگ سے نزدیک ہے، میرے ہر خلیے کے ہر جزو میں ہے۔ اگر اس سے مجھے عشق محسوس نہیں ہوتا تو وحدانیت کے زمینی مرکزتاحتٰی عرش کے ساتھ بھی سینہ لگا کراورآنکھیں بند کرکے محسوس نہیں ہو سکتا۔
یہی بات رونے سے متعلق ہے کہ اگر رونا آنا ہے تو آ جائے گا۔ اگر آپ کو گڑگڑانے کی خواہش ہوگی تو پھر آپ کو کون روک سکے گا لیکن کسی ہدایت کار کے کہنے پہ رونا دھونا تو اداکار سے ہی ہو سکتا ہے لیکن مسجد الحرام مقام اداکاری نہیں ہے نہ مقام آہ و زاری بلکہ یہ مقام فکر ہے۔ مجھے وہاں نماز پڑھتے ہوئے امام کے منہ سے قرآن کی تلاوت سنتے ہوئے دو ایک بار بالکل ایسے لگا تھا کہ میں قرآن کو اردو میں سن رہا ہوں یعنی مجھے سمجھ آ رہا ہے اور میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو کر گریبان بلکہ زمین پہ گرنے لگتے تھے۔ یہ تھا "خشیۃاللہ" نہ کہ میں ڈر کے مارے بلاجواز رونے لگ جاؤں اور اس کی رحمت سے مایوس ہو جاؤں جو کفر کے مترادف ہے۔
ابھی صفیں بنائی جا رہی تھیں کہ ایک پٹھان کی آواز آئی "حج کرنے آئی ہو تو بے شرم ہوگئی ہو۔ جاؤ یہاں سے"۔ معاملہ یہ تھا کہ کوئی عورت صف میں شامل ہوگئی تھی۔ مطاف کے اصول کے مطابق مرد وعورت کی تخصیص نہیں ہوتی کیونکہ طواف سب مل کر کرتے ہیں بلکہ اکثر چھو جاتے ہیں۔ بعض اوقات تو چپک بھی جاتے ہیں۔ مجھے اس درشت رویے پہ رنج ہوا تھا۔ میرے ساتھ ایک بنگالی نوجوان کھڑا تھا۔ میں نے اسے انگریزی زبان میں کہا تھا کہ اصولاََ تو خاتون یہیں کھڑی ہو سکتی ہے، یہ سرصدا کیوں کی جا رہی ہے؟ اس نے شستہ انگریزی میں جواب دیا تھا کہ اگر فتنے کا خدشہ ہو تو نہیں۔ درست کہا۔ یعنی فتنہ مرد کے ذہن میں ہوتا ہے، عورت کی نزدیکی کے باعث وہ فتنے کے خود میں کلبلانے سے ڈرتا ہے۔ نماز تمام کرنے کے بعد طواف کے چکر پورے کیے تھے۔
طواف میں شامل ہونا آسان ہے لیکن طواف سے نکلنا بہت مشکل کام ہے۔ نکلنا تو تھا ہی چنانچہ جیسے بھی، نکلا تھا۔ عمرے کی باقی رسوم ادا کی تھیں اور آخری رسم یعنی سرمنڈائی کے لیے وہیں گیا تھا جہاں اس سے پہلے جا چکا تھا۔ میں نے ایک ریستوران سے یونہی پوچھ لیا تھا کہ نائیوں کی دکانیں کہاں ہیں؟ وہاں کھڑے شخص نے اوئے کرکے ایجنٹ کو بلا لیا تھا۔ وہ مجھے آئیں جی کہہ کر ایک طرف کو ہوا تو سامنے بہت سے سیلون تھے۔ اس نے ایک جانب اشارہ کیا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ نوجوان کوئی زبردستی تو ہے نہیں۔ میں نے تو اس سے راستہ پوچھا تھا اب میں اپنی مرضی سے جس دکان میں چاہوں جاؤں۔ ایسا تو نہ کریں جی، اس نے کہا تھا لیکن میں ایک اور دکان میں چلا گیا تھا۔ کوئی جھنجھلایا ہوا گورکھپوری نائی تھا، جس نے کوئی اتنی اچھی ٹنڈ نہیں کی تھی۔ میں ٹیکسی پکڑ کر ہوٹل پہنچ گیا تھا۔ احمد کمرے میں ہی تھا۔ میں نہایا تھا۔ کھانا کھانے گیا تھا۔ تھوڑی دیر لابی میں بیٹھا تھا اور کمرے میں آ گیا تھا۔ رات گزر گئی تھی لیکن اگلے روز احمد نے کوئی فساد نہیں کیا تھا اگرچہ یہ ضرور کہا تھا کہ اسے نیند نہیں آئی اور یہ کہ میں نے خراٹے بھی لیے تھے۔

