Moscow Se Makka (18)
ماسکو سے مکہ (18)

ہوٹل کے سامنے کے شیشوں کے اس پار انسان کے ذہن کی معراج تہذیب، تمدن، معاشرت، معیشت اور مذہب اپنے پھٹے ہوئے ملبوس کے ساتھ آٹھ دس ننگے پاؤں، پانچ سے تیرہ سال کے بچوں اور بچیوں کی شکل میں کلبلاتے پھرتے تھے۔ ان میں دو بچیاں اور خاص طور پر ایک بچی بہت زیادہ طرار، فنکار اور شاید عیار بھی تھی۔ یہ بچے کون تھے، جن کے تن ڈھنکے ہوئے تھے لیکن پاؤں جوتوں کے بغیر۔ بچیوں کے ہونٹوں پہ سرخی لگی ہوتی تھی لیکن سر کے بال نہیں بنے ہوتے تھے۔ خیر سے سارے بچے، بالخصوص بچیاں خوش شکل تھے۔ کبھی یہ کہیں سے سوکھی روٹیوں سے بھرے ہوئے بوری نما تھیلے کھینچے لے جا رہے ہوتے تھے۔ کبھی کہیں سے دودھ اور جوس کے کریٹ اٹھا کر لا رہے ہوتے تھے لیکن زیادہ وقت کھیلنے، ہوٹل کے باہر شیشے کی دیوار کے ساتھ رکھی پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھ کر اٹھلاتے یا انہیں کرسیوں پر بیٹھے غیر ملکی حجاج کے ساتھ چونچلے کرتے بتاتے تھے۔ میں نے انہیں منہ سے مانگتے نہیں دیکھا تھا۔ بچیوں کے رویے اور انداز دیکھ ان کے مستقبل بارے پریشانی ہوتی تھی کہ کہیں غلط راہ پہ نہ چل نکلیں۔
میں نے ہوٹل میں کام کرنے والے بنگلہ دیشی نوجوان یوسف جو اردو جانتا تھا سے پوچھا تھا کہ یہ کس کے بچے ہیں؟ اس نے بتایا تھا کہ یہ پیچھے پہاڑی کے اوپر رہتے ہیں۔ بلوچستان سے آئے ہوئے بلوچوں کے بچے ہیں لیکن بہت غریب ہیں۔ "بھئی ان کے پاس کبھی کبھار موبائل فون تاحتٰی ٹیبلٹ کمپیوٹر تک ہوتے ہیں"، میں نے کہا تھا۔ "یہ بات نہیں کہ ان کے باپ کام نہیں کرتے، وہ کام کرتے ہیں لیکن یہ بچے بھیک ہی مانگتے ہیں اور چوری بھی کر لیتے ہیں" یوسف نے بتایا تھا۔
ہوٹل والی لائن میں تھوڑی دور ایک پٹھان کا تندور تھا جس پہ لکھا تھا "بہترین کابلی نان و سالون" یہ شاید سالن کا دری یا پشتو انداز تھا۔ کچھ دور جا کر ایک جنرل سٹور، جس کے باہر ایک دیوانی بلوچ عورت بیٹھی ہرایک سے نہ جانے کس زبان میں باتیں کرنے کی کوشش کرتی تھی، یا پھر اٹھ کر سڑک پہ چلتے ہوئے باتیں کرتی رہتی تھی۔ اس سے پہلے ایک مغسلہ یعنی دھوبی کی دکان تھی۔ ان دوکانوں کے سامنے دو سڑکوں کے بیچ میں ایک مسجد تھی اور دوسری سڑک پر ایک جانب یعنی مسجد کی لائن میں نقاب پوش انڈونیشیائی حجاج کے ہوٹل تھے اور دوسری جانب ایک بلند اورخوبصورت عمارت تھی۔ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں ایک روز اس میں داخل ہوگیا تھا۔
اس عمارت کی لابی کسی فائیو سٹار ہوٹل سے کم نہیں سجی ہوئی تھی۔ منزلوں میں اندر کی جانب نیچے سے اوپر تک اصلی پھول ہی پھول تھے۔ لفٹوں پہ لکھا تھا "اسانسر برادران"، "اسانسر خواہران" ساتھ ہی منازل اور ان پر موجود مختلف سہولتوں مثلاََ "ریستوران برادران، طبقہ دوم"، "ریستوران خواہران، طبقہ سوم" لکھا ہوا تھا۔ کوئی شور نہیں تھا۔ ہمارے ہوٹل کی مانند لفٹ کے انتظار میں کوئی لوگ نہیں تھے۔ آپ سمجھ ہی گئے ہونگے یہ ایران کے حجاج کے لیے سرکاری عمارت تھی۔ حجاج کے لیے کھانا باہر سے پک کر آتا تھا، جو ریستوران میں کھایا جاتا ہوگا۔ میں نے اپنے کئی ساتھیوں کو اسے جا کر دیکھنے کو کہا تھا تاکہ انتظامات کا فرق ان پر واضح ہو سکے۔ سلیم تاجک نے تو واپس آ کر یہاں تک کہا تھا کہ میں تواس عمارت کی لابی میں رہنے کو تیار ہوں۔
اپنے غیر انسانی طرز رہائش اور شیریں کے ساتھ جھک جھک سے میرا ناک میں دم آ چکا تھا۔ ہوٹل کی دوسری منزل پہ جس ہال میں بیٹھ کر ہم "غیر مانوس کھانا" تناول بلکہ زہر مار کیا کرتے تھے، وہاں ایک جانب کے دروازے پہ روسی زبان میں لکھا ہوا تھا، "ایڈمنسٹریشن سلوٹس"۔ ایک روز میں کھانا کھا رہا تھا، میں نے دیکھا کہ اس دروازے کے باہر کچھ چپل پڑے ہیں۔ اس کا مطلب تھا کہ اندر لوگ موجود ہیں۔ میں درّاتا ہوا اندر چلا گیا تھا۔ حجاج کے لیے رہائش و طعام کا گھٹیا ترین اہتمام کرنے والوں کا دفتر کس قدر آراستہ، بڑا اورشاندار تھا۔ ایک بڑی سی میز کے پیچھے ایک جوان عرب مرد بیٹھا ہوا تھا، جس سے ایک روز پہلے مسجد سے واپسی کے راستے میں احمد انگش نے جو حج کے کاروبار سے کسی نہ کسی طرح وابستہ تھا، تعارف اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے روسی میں "ایک اور یہودی" کہہ کر کرایا تھا۔ میں ہنس پڑا تھا اور یہ عینک والا عرب مسکرا دیا تھا۔
میں نے داخل ہو کر اسے کہا تھا کہ مجھے واپس بھجوا دو۔ وہ ہونقوں کی طرح میری جانب دیکھنے لگا تھا۔ جب میں داخل ہوا تھا، اس کے سامنے دور ایک اور کرسی پہ بیٹھا ہوا عارف شامی مجھے دیدے پھاڑ کر دیکھ رہا تھا، اٹھا تھا اور کیا بات ہے؟ کہتے ہوئے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے دفتر سے باہر لے آیا تھا۔ میں نے اس سے وہی کہا تھا جو اندر عرب کو کہا تھا۔ وہ بولا تھا یہ ممکن نہیں ہے۔ میں نے کہا تھا تو کل تک اس ماحول میں میرا دماغ چل جائے گا۔ بات انگریزی میں ہونے لگی تھی۔ عارف پریشان ہوگیا تھا اور کہا تھا کہ میں آپ کے لیے بہتر کمرے کا انتظام کر دیتا ہوں۔ رات کو کوئی بارہ بجے اس نے ہمارے کمرے کا دروازہ کھولا تھا اور پوچھا تھا کہ پاکستانی کہاں ہے۔ میں نے آنکھیں موندے موندے کہا تھا کہ بولو۔ کہنے لگا کمرہ بدل لو۔ میں نے کہا تھا کہ کل بدلوں گا۔
اگلے روز عارف سے میری ملاقات لابی میں ہوئی تھی۔ وہ مینیجر محمد جو ایک مصری نوجوان تھا، کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ عارف نے محمد سے عربی میں "غرفہ" یعنی کمرے کے بارے میں بات کی تھی۔ کچھ دیر وہ آپس میں بولتے رہے تھے، پھر یوسف کو بلایا تھا۔ محمد، یوسف کے ساتھ عربی میں بات کرتا رہا تھا۔ یوسف نے کمرہ نمبر 204 کے بارے میں مشورہ دیا تھا کہ وہاں ایک ہی آدمی ہے۔ یوسف نے مجھے کہا تھا کہ پہلے آپ کمرہ دیکھ لیں۔ میں اس کے ساتھ دوسری منزل پہ 204 میں گیا تھا۔ اس کمرے میں کارپٹ بھی تھا اور اٹیچڈ باتھ روم بھی۔ ایک جوان شخص دیوار کے ساتھ والے بیڈ پہ بیٹھا موبائل انٹرنیٹ میں مصروف تھا۔ سامنے کے بیڈ پہ ایک آدمی لیٹا ہوا تھا۔ وہ اٹھا تھا سلام کیا تھا۔
جب میں نے اسے بتایا تھا کہ مجھے یہاں جگہ دی گئی ہے تو وہ جھنجھلا کر بولا تھا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ کمرہ تو ہم چار لوگوں کو الاٹ ہے۔ میں نے کہا تھا کہ مجھے نہیں معلوم۔ یہ ہوٹل والوں کا معاملہ ہے۔ ان سے بات کیجیے۔ اس نے یوسف سے کچھ کہا تھا اور یوسف نے کسی آدمی کا نام لیا تھا۔ وہ خاموش ہوگیا تھا۔ پھر مجھ سے مخاطب ہو کر پوچھا تھا، "خراٹے تو نہیں لیتے؟" میں نے کندھے اچکا دیے تھے۔ مسکراتے ہوئے بولا تھا، "گردن گھونٹ دوں گا اگر خراٹے لیے تو" ایک بار پھر ہاتھ بڑھا کر مصافحہ کرتے ہوئے کہا تھا، "احمد"۔ میں نے بھی اپنا نام بتا دیا تھا۔

