Moscow Se Makka (17)
ماسکو سے مکہ (17)

اگلے روز سے ان کا معمول تھا کہ وہ رات کو ایک ڈیڑھ بجے حرم جانے کے لیے نکلتے تھے اور کہیں جا کر دن کے ایک بجے لوٹتے تھے، یوں مجھے اے سی چلا کر سونے کا کچھ موقع مل جایا کرتا تھا۔ انہیں یہ سمجھانا بیکار تھا کہ اے سی کی ٹھنڈ سے انسان بیمار نہیں ہوتا۔ منہ ماری بھی ہوتی تھی لیکن دونوں فریقوں کو ضبر بھی کرنا پڑتا تھا۔
اب حجاج کی شاپنگ کا دور شروع ہو چکا تھا۔ یہ چاروں تاجک جب بھی لوٹتے تھے تو لدے پھندے ہوتے تھے۔ نئے اور بڑے اٹیچی کیس خرید لائے تھے، جن میں سب سے بڑا اٹیچی کیس شیریں کا تھا۔ ایک زمانہ تھا کہ حجاج حج سے لوٹتے تو صرف کھجوریں اور آب زمزم لایا کرتے تھے لیکن اب ہر طرف بازار تھے۔ دکانیں تھیں، سڑکوں پر چین کی بنی تسبیحیں، گھڑیاں، روسریاں اور الا بلا بیچا جا رہا تھا۔ لوگ تھے کی ان بیکار سی اشیاء پر ٹوٹے پڑتے تھے، باوجود اس کے کہ سب جانتے تھے، حج کا سیزن مکہ میں کمائی کا سنہری دور ہوتا ہے، ایک کی چیز دس میں ملتی ہے لیکن خریداری سے کوئی بھی ہاتھ نہیں روکتا تھا۔
دو روز بعد میں نے ماگومید کے ساتھ پروگرام بنایا تھا کہ عمرہ کرنے جائیں گے۔ ایک روز ہی ہوا تھا کہ کمپنی "سلوتس" نے فجر، ظہر اور مغرب کے وقت حرم لے جانے کی خاطر بس کا انتظام کر دیا تھا۔ ہم باقی لوگوں کے ہمراہ مغرب سے پہلے حرم پہنچے تھے۔ ماگومید تو احرام باندھ کر ہی بس میں سوار ہوا تھا لیکن میں نے پیکٹ بند نیا احرام ہمراہ لے لیا تھا۔ ہمارے ساتھ منصور تاجک بھی تھا۔ اس نے دور سے سمجھایا تھا کہ کیسے اس مقام تک پہنچا جا سکتا ہے جہاں سے ٹیکسی ملتی ہے جو شہر سے باہر اس مسجد تک لے جاتی ہے، جہاں احرام باندھ کر نیت کرکے حرم لوٹ کر عمرہ ادا کیا جا سکتا ہے۔ حرم کے اندر اور باہر خاصا طویل فاصلہ طے کرکے وہاں تک پہنچنا تھا۔ ایک لفٹ میں سوار ہو کر جب نچلی منزل پہ جا رہے تھے تو میں نے حرم کے بنگلہ دیشی نوجوان خدام میں سے ایک سے تصدیق کی خاطر استفسار کیا تھا، "بیٹے یہ مسجد فاطمہ کے لیے سیارہ کہاں سے ملتا ہے؟" ان میں سے ایک حیران ہو کر بولا تھا، "پہلی بار یہ نام سن رہا ہوں" پھر کچھ سوچ کر کہا تھا "آپ مسجد عائشہ کا تو نہیں پوچھ رہے"۔ ہاں بھئی غلطی ہوگئی تھی نام لینے میں۔ اس نے زیادہ بہتر انداز میں بتا دیا تھا۔
حرم کے آخر میں ہوٹل انٹرکانٹیننٹل کے سامنے والی سڑک پر کاریں کھڑی تھیں۔ ڈرائیوروں میں سے کچھ جدہ کا شور مچا رہے تھے البتہ صرف ایک ڈرائیور گاڑھی عین سے عمرہ کہہ رہا تھا۔ عشرہ سے کم کرایہ نہیں تھا۔ ہمیں منصور نے بتایا تھا کہ خمسہ لیتے ہیں۔ جب خمسہ یعنی پانچ والا کوئی نہ ملا تو عشرہ والی گاڑی میں ہی سوار ہونا پڑا تھا۔ مسجد عائشہ میں بھی لوگوں کا ہجوم تھا۔ اندر مردوں کا اور باہر عورتوں کا۔ انڈونیشیائی اور مصری زیادہ تھے۔ میں نے مسجد کے ایک جانب جہاں لوگوں کا آنا جانا کم تھا، کھڑے ہو کر احرام باندھ لیا تھا اور اتارے ہوئے کپڑے احرام والے تھیلے میں ڈال دیے تھے۔
مسجد میں داخل ہو کر عمرہ سے پہلے کے نفل پڑھے تھے اور نیت کی تھی۔ مغرب کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرکے باہر نکلے تھے تو گاڑیوں کا ہجوم تھا اور سب خمسہ کی صدا لگا رہے تھے بلکہ ایک کوسٹر تو ثلاثہ پہ بھی بٹھا رہی تھی لیکن ہم پانچ پانچ ریال فی نفر کے حساب والی ویگن میں سوار ہوئے تھے۔ حرم کے سامنے پہنچ کر ڈرائیور نے بہانہ کرکے دوراتارنے کی کوشش کی تھی لیکن چونکہ اکثریت عرب معتمرین کی تھی جنہوں نے اس سے بحث کی چنانچہ اس نے تحت الحرم اسی مقام پہ جا کر اتارا تھا جہاں اوپر جانے کے لیے خودکار زینہ کام کرتا رہتا تھا۔
مسجدا لحرام میں داخل ہو کر میں نے بائیس نمبر ریک میں اپنا تھیلا اور ماگومید نے اپنے چپل رکھ دیے تھے۔ ساتھ ہی میں نے دروازے کا نام باب العزیز یاد کر لیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اگر آپ غلطی سے دوسرے دروازے سے اندر ہونگے تو وہاں بھی ریکس کے نمبر وہی ہونگے۔ ماگومید نے کہا تھا کہ میں بوڑھا آدمی ہوں مجھے کوئی نہیں روکے گا، اس لیے تم میرے پیچھے پیچھے طواف کرنا۔ ماگومید مجھ سے عمر میں ایک سال چھوٹا تھا لیکن داڑھی کی وجہ سے بوڑھا لگتا تھا۔ اس نے تو واقعی بوڑھے شیر کی طرح صفوں کو چیرتے ہوئے طواف جلدی مکمل کروا دیا تھا، اگرچہ میرے پاؤں کی زخمی انگلی پہ پھر سے کوئی چڑھ گیا تھا۔
جب سعی کرنے کے بعد عمرہ مکمل کرکے نماز عشا باجماعت پڑھ لی اور نکلنے لگے تو تھیلا اور چپل ریک نمبر 22 پہ نہیں تھے۔ کوئی چالیس منٹ میں اور ماگومید دیوانوں کی طرح باقی ریکس بھی کھنگالتے رہے تھے لیکن ناکامی ہوئی تھی۔ بالآخر مجھے خیال آیا تھا کہ کہیں ایک ہی دروازے سے دوسرے دروازے تک دو مقامات پہ ایک ہی نمبر کے ریکس نہ ہوں، میں نے اس نہج پہ ڈھونڈنا شروع کیا تھا اور ہانچ منٹ میں ہی دوسرا بائیس نمبر ریک تلاش کرکے اپنا تھیلا اور ماگومید کے چپل دریافت کر لیے تھے۔ ماگومید بہت معترف ہوگیا تھا اور کہا تھا، " تمہارا دماغ نہیں کمپیوٹر ہے، میں کبھی نہ تلاش کر سکتا"۔
میں نے حرم میں ہی ایک ستوں کی اوٹ میں احرام اتار کر کپڑے پہن لیے تھے۔ ماگومید شافعی مسلک سے تھا جس کے لیے سر منڈوانا لازمی نہیں تھا، بس چند بال کترنا کافی تھا لیکن میں چونکہ حنفی مسلک سے تھا اس لیے میں نے باقاعدہ نائی سے سر منڈوانے کا طے کیا تھا۔ حرم کے سامنے والی زیر زمین مارکیٹ سے باہر ہی نائیوں کے ایجنٹ کھڑے تھے، ان میں سے ایک مجھے اندر لے گیا تھا۔ باہر سے مجھے ایک پاکستانی گائیڈ نے گائیڈ کیا تھا اور کہا تھا کہ پانچ ریال کہیے گا لیکن ایجنٹ نے دس ہی مانگے تھے۔ خیر سے ایجنٹ اور نائی سب اپنے "سرائیکی بھرا" تھے۔ ماگومید تلملاتا رہا تھا اور میں سرمنڈواتا رہا تھا۔ یہ عمرہ میں نے اپنے مرحوم والد صاحب کے ایصال ثواب کے لیے کیا تھا۔ ابھی والدہ مرحومہ اور بڑے بھائی مرحوم کے ایصال ثواب کی خاطر عمرے کرنے باقی تھے۔
مریض بلکہ ذہنی مریض شیریں ایر کنڈیشنر بند کر دیا کرتا تھا۔ گرمی میں سونا مشکل تھا۔ اگر بلیک ہول کی کھڑکیاں کھول دی جاتیں تو شور میں سونا ناممکن تھا۔ شیریں اور ستّار مجھے اکسا کر مجھے غصہ دلا رہے تھے لیکن میں ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا تاکہ میرے حج کرنے کا ثواب زائل نہ ہو۔ بہر حال کبھی کبھار شیریں بھی صبر کرتے ہوئے کہہ دیتا تھا، "دکتر کلوچائی کندیسینیر" یعنی ڈاکٹر کنڈیشنر چلا لو۔ کمرے میں دوستانہ ماحول تو دور کی بات انسانی ماحول بھی نہیں تھا۔ کسی اجڑے ہوئے سٹیشن کا منظر تھا جہاں جانے والے مسافروں کا سامان بکھرا ہوا ہو اور ریل گاڑی آ نہ رہی ہو۔
سارا ماحول ہی کبیدہ خاطر تھا۔ ہوٹل کی لابی میں مباشرت کرتی ہوئی مکھیاں آپ کے لبوں پہ آ کر گرتی تھیں، جنہیں اس شہر کے تقدس کا خیال تک نہیں تھا۔ حج کرنے کے بعد اعلٰی شعور سے عاری اس گھٹیا اور رذیل مخلوق کی بے حیائی سہہ کر حج کی سعادت سے متمتع ہونے کے بعد انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا تھا کہ کہیں تقدس، عقیدت، مذہب اور رسوم، اعلٰی اذہان یعنی حضرت انسان کے ہی دماغ کی اختراع تو نہیں؟ تاکہ انسانوں کو نظم و ضبط کا پابند کیا جائے اور وہ مکھیوں کی مانند مباشرت نہ کریں۔

