Friday, 23 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mojahid Mirza
  4. Moscow Se Makka (16)

Moscow Se Makka (16)

ماسکو سے مکہ (16)

میں نے ارد گرد دیکھ کر اندازہ لگانے کی کوشش کی تھی کہ میری منزل کس طرف ہو سکتی ہے اور پھر ایک جانب چلنا شروع کریا تھا۔ سڑکیں گاڑیوں سے پٹی پڑی تھیں اور فٹ پاتھوں پر لوگوں کا اژدہام تھا۔ ہوٹلوں میں رہنے کی استطاعت نہ رکھنے والے حج کرنے کے خواہاں لوگوں کو شہر مکہ میں جہاں بھی جگہ ملی تھی وہیں قیام کر لیا تھا۔ کوڑے کرکٹ اور غلاظت سے شہر میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ مغرب کی اذان ہو رہی تھی۔ جو پہلی مسجد دکھائی دی، اس کے وضو خانے میں گھس کر، جہاں ٹخنوں تک پانی کھڑا تھا، وضو کیا تھا اور وہ بوتل وہیں طاق میں رکھ دی تھی جس میں بائیس تئیس کنکر باقی بچ رہے تھے اور جو اب جمرات کی تین دیواروں اور کھائیوں کا مقدر نہیں رہے تھے۔ وضو کرکے مسجد کے باہر چبوترے پہ کھڑی صف میں کھڑا ہو کر جماعت کے ساتھ شامل ہوگیا تھا۔

نماز پڑھ کر پھر چل پڑا تھا۔ کچھ دور جا کر ہلال احمر کا دفتر دکھائی دیا تھا، جہاں طبی عملے کے لوگ باہر کھلی ہوا میں بیٹھے تھے۔ سوچا چلو سابق ڈاکٹر ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ میری کلائی میں پلاسٹک کا وہ کڑا تھا جس پر منٰی کا کیمپ نمبر اور کچھ ٹیلیفون لکھے ہوئے تھے۔ ان میں سے اگرچہ کسی کو زبان نہیں آتی تھی لیکن ایک نوجوان نے کوشش کی تھی کہ اپنے موبائل پر وہ فون نمبر ملائے جنہیں ملانے کی کوشش میں اپنے موبائل سے پہلے ہی کر چکا تھا۔ وہ فون نہیں ملا سکا تھا۔ اس اثناء میں تین پاکستانی نوجوان وہاں پہنچے تھے اور انہوں نے عربی میں انہیں لوگوں سے کچھ پوچھنے کی کوشش کی تھی۔

میں نے ان سے اپنے گم کردہ علاقے کا پتہ پوچھا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ مکہ کے رہنے والے نہیں ہیں بلکہ کسی اور شہر سے حج کرنے آئے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے کسی شناسا کو تلاش کر رہے تھے جو پاکستان سے حج کرنے آیا ہوا تھا۔ انہوں نے دعوت دی تھی کہ ان کے ساتھ تلاش میں شامل ہو جاؤں، وہ اپنے شناسا کو ڈھونڈ لیں گے تو پاکستانی کیمپ سے آپ کو بھی مدد مل جائے گی۔ میں نے انہیں بتایا تھا کہ ہمارے ہوٹل کے پاس ایک پہاڑی ہے جس کے بعد پاکستانیوں کے ہوٹل ہیں۔ نوجوان نے ہنس کر کہا تھا کہ پہاڑی ڈھونڈتے رہے تو ساری رات لگ جائے گی۔

ایک ہوٹل پہ پہنچے تھے جہاں پاکستانی رہائش پذیر تھے لیکن یہ وہ ہوٹل نہیں تھا جہاں میں پہلے روز کھانا کھانے گیا تھا۔ وہاں کاؤنٹر پہ بیٹھے ہوئے شخص نے میری بات سن کر کہا تھا کہ یہاں سے دائیں طرف ایک اور ہوٹل ہے، وہاں ہمارے لڑکے ہیں، وہ شاید آپ کی مدد کر کرسکیں۔ ان تین پاکستانی نوجوانوں میں سے ایک مجھے وہاں تک لے گیا تھا۔ کاؤنٹر پر بیٹھے شخص نے کہا تھا کہ تشریف رکھیں کچھ کرتے ہیں۔ میری مدد کرنے والے نوجوان نے کہا تھا کہ آپ یہاں بیٹھیں، شاید آپ کو اپنی جگہ مل جائے۔ میں آپ کو فون ضرور کروں گا، جگہ نہ ملی تو ہم آپ کو اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ میں نے شکریہ ادا کیا تھا اور اسے دعا دے کر رخصت کر دیا تھا۔

ہوٹل کے پاکستانی اہلکار نے میری مدد کی تھی۔ پانی پلایا تھا اور لینڈ لائن سے وہ فون ملا ہی لیا تھا جو مجھ سے اور ہلال احمر والوں سے نہیں ملا تھا لیکن دوسری جانب عربی بولنے والا تھا شخص تھا۔ ہم میں سے کسی کو عربی نہیں آتی تھی۔ ایک عربی بولنے والے پاکستانی نے بات کی تھی اور پھر یہی کہا تھا کہ آپ باہر سے اپنے ہوٹل کا نام لے کر ٹیکسی پکڑ لیں، نزدیک ہے وہ لے جائے گا۔

باہر سے دوچار ٹیکسیوں کے بعد ایک کار والے نے بٹھا لیا تھا جس میں ڈرائیور کے ہمراہ ایک اور نوجوان بھی بیٹھا ہوا تھا۔ بہت دیر ڈرائیو کرنے کے بعد ایک بہت روشن اور پررونق علاقے میں پہنچ گئے تھے۔ میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ یہ وہ علاقہ نہیں ہے۔ ہمارے علاقے میں رونق نہیں۔ ڈرائیور نے سخت لہجے میں کہا تھا۔ "سوق سلام، خلاص"۔ وہ سلام بلازہ کی بجائے سوق سلام لے آیا تھا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا تو لکھا دکھائی دیا تھا "با وارث بلازہ" یہ ایک سپرمارکیٹ تھی۔ میں نے پہلے تو اپنے کلاس فیلو ڈاکٹر عاشق رسول کو فون کیا تھا۔ 1976 کے بعد سے میں ان نہیں ملا تھا لیکن فیس بک کے ذریعے کچھ ہی عرصہ پہلے ان سے رابطہ ہوگیا تھا۔ وہ مکہ میں پتھالوجسٹ تھے۔ فون پہ معلوم ہوا کہ وہ خود جمرات سے تھکے ہارے لوٹے ہیں تاہم انہوں نے تسلی دیتے ہوئے کہا تھا کہ کوشش کر لو، اگر کامیابی نہ ہوئی تو میں تمہیں لے لوں گا۔ جہاں کھڑے ہو یہ معروف جگہ ہے۔

پھر نورحبیب شاہ کو فون کیا تھا کہ وہ مولانا رشیت یا جمشید سے رابطہ کرکے ہوٹل کا پتہ معلوم کرے۔ اس نے کچھ دیر بعد فون کرنے کو کہا تھا۔ اس اثناء میں میں سپر مارکیٹ میں داخل ہو کر ویسے ہی چیزیں دیکھنے لگا تھا۔ ایر کنڈیشند اور پرسکون جگہ پہ اوسان کچھ بحال ہوئے تھے۔ پہلے حبیب نے کسی انگریزی بولنے والے سے فون کروایا تھا اور اس نے ہدایت کی تھی کہ میں العزیزیہ جنوبیہ جاؤں۔ پھر جمشید کا فون آ گیا تھا کہ یا تو مسجد القطری کہو یا پھر طریق الجیاد۔ بہرحال ٹیکسی لی تھی۔ ڈرائیور کوئی مہذب، انگریزی جاننے والا یمنی نوجوان تھا۔ ایک سو ریال مانگے تھے لیکن پچاس پہ معاملہ طے ہوگیا تھا۔ میں نے اسے بتایا تھا کہ کہاں جانا ہے۔ گاڑی چلتی جا رہی تھی، اتنے میں پھر حبیب نے فون کیا تھا۔ میں نے بتایا تھا کہ ٹیکسی میں سوار ہوں تو اس نے کہا تھا کہ ٹیکسی والے کو فون دو، میرے ساتھ جو عرب ہے وہ اسے سمجھا دے گا۔

ڈرائیور نے فون پہ بات سیکنڈوں میں تمام کر لی تھی اور کہا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کو کہاں جانا ہے۔ اس پاکستانی نوجوان کا فون بھی آ گیا تھا، جو مجھے پاکستانی ہوٹل چھوڑ کر گیا تھا۔ میں نے اسے بتایا تھا کہ مسئلہ حل ہوگیا ہے۔ خاصی دیر کے بعد جس علاقے میں پہنچے تھے وہاں گاڑیوں کا زیادہ ہی ہجوم تھا۔ ایک جگہ پہ اس نے گاڑی روک کر کہا تھا کہ سڑک کے اس طرف جانا محال ہے۔ آپ کا ہوٹل سڑک کے اس جانب ہے۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا لیکن اس نے کہا تھا کہ میں جھوٹ نہیں بول رہا، یہیں ہے۔ میں اس کا شکریہ ادا کرکے، پچاس ریال اسے تھما کے، جن کے عوض بقول اس کے اسکی گاڑی کا ٹینک دو بار پوری طرح بھروایا جا سکتا ہے، گاڑی سے باہر نکل گیا تھا۔ اوور ہیڈ برج عبور کرکے دوسری جانب پہنچا تھا تو جگہ پہچان گیا تھا۔ میرا ہوٹل وہیں تھا۔

اتنی تھکاوٹ کے بعد پہنچا تھا۔ شکر ہے کہ ابھی کھانا دیا جانا بند نہیں ہوا تھا۔ کھانا کھایا تھا اور کمرے میں چلا گیا تھا۔ آج سے پھر اے سی چلانے نہ چلانے کا جھگڑا شروع ہونے والا تھا۔ شیریں ابھی تک بیمار تھا بلکہ منیٰ جا کر اور بیمار ہوگیا تھا۔ آج اکتوبر کی اٹھارہ تاریخ تھی اور ان چاروں تاجک افراد کو 27 کو ہوٹل چھوڑنا تھا اور ہمیں 30 کی رات کو یعنی اگر سکون کے کچھ روز مل سکتے تھے تو دو روز۔ آج تو تھکا ہوا تھا۔ کسی نہ کسی طرح سو ہی گیا تھا۔

Check Also

Molana Fazal Ur Rehman Aur Badalta Hua Aalmi Siasi Manzar Nama

By Muhammad Riaz