Wednesday, 21 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mojahid Mirza
  4. Moscow Se Makka (15)

Moscow Se Makka (15)

ماسکو سے مکہ (15)

شام کو نور حبیب شاہ سے ملاقات ہوئی تھی۔ ہم اسی بازار میں اکل و شرب کے حصول کی خاطر گئے تھے۔ ایک برقعہ پوش لڑکی، "چکن اور چپس" کے ڈبّے ایک ٹرے میں رکھے چل پھر کر فروخت کررہی تھی۔ میں نے ڈبے پہ ہاتھ لگا کے دیکھا تو وہ ٹھنڈا تھا۔ میں بولا تھا نہیں، یہ تو ٹھنڈا ہے۔ جس پر لڑکی نے نقاب کے پیچھے سے بڑی مترنم اور شستہ اردو میں کہا تھا، "مکّہ سے لاتے لاتے یہاں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں"۔ میرے منہ سے حیرت سے نکلا تھا، "حبیب یہ اتنی اچھی اردو کیسے بول لیتی ہے؟" لڑکی نے سن لیا تھا اور مڑ کر کہا تھا، "پاکستان سے ہوں ناں، اس لیے"۔ حبیب نے لڑکی کے گزر جانے کے بعد کہا تھا، "ڈاکٹر یہ لڑکیاں یہاں کچھ اور بھی کرتی ہیں"۔ مجھے یہ سن کر بڑی کوفت ہوئی تھی اور میں نے حبیب کا منہ بند کرنے کے لیے کہا تھا، "کیسی بات کرتے ہو یار! اس ماحول میں اور اس موقع پر"۔ حبیب نے "بڑے سادہ ہو ڈاکٹر تم" کہہ کر ایک ہلکا سا قہقہہ لگا دیا تھا۔ حبیب کی معلومات زیادہ تھیں کیونکہ وہ پشتون ہونے کے ناطے غیر قانونی حج کرنے والے پٹھانوں سے معلومات لیتا رہتا تھا۔ اللہ ہم سب کو کسی پہ بہتان لگانے سے بچائے، آمین۔

حبیب میرے ہمراہ ہی میرے خیمے میں چلا آیا تھا۔ میرے ایک جانب قربان کا بستر تھا جبکہ دوسری جانب ایک باریش نوجوان عبداللہ کا بستر تھا۔ جو ہمارے گروپ والوں میں سے تو نہیں تھا، بس وارد ہوا تھا اور جم گیا تھا۔ اس کے گرد ہمارے گروپ کے چند نوجوان جمع ہو کر اس سے دین سے متعلق معلومات لیتے رہتے تھے۔ بقول اس کے وہ جامع الازہر میں پڑھتا تھا۔ اس کی روسی بھی اتنی مرصع نہیں تھی۔ بعد میں جب میں نے پوچھا تھا کہ جامع الازہر میں وہ کونسے سال کا طالبعلم ہے تو اس نے کہا تھا کہ وہ وہاں تیسرے سال تک پڑھ کر چھوڑ چکا ہے اور اب مدینہ میں پڑھتا ہے۔ ایک روز پہلے جب کسی نے مولانا رشیت سے کہا تھا کہ یہ مسئلہ اسی عبداللہ نے بتایا ہے کہ اضافی عمرہ کرنے کی خاطر جدہ کے نزدیک واقع میقات پہ جا کر احرام باندھنا ہوگا تو مولانا رشیت برہم ہوئے تھے کہ تم لوگ ناواقف لوگوں کی گمراہ کن باتیں کیوں سنتے ہو۔

آج اسی کے سامنے حبیب نے کچھ ایسے شیعہ حجاج کا ذکر کیا تھا جو امام کعبہ کی امامت میں نماز ادا کرنے کی بجائے وہاں سے چلے گئے تھے۔ یہ حبیب کا گمان بھی ہو سکتا تھا۔ عبداللہ نے بڑے تنفّر کے ساتھ شیعوں کو "رافضی" کہا تھا اور گفتگو بالآخر اس نتیجے پہ پہنچی تھیں کہ شیعہ مغرب کے ساتھ مل کر عراق اور شام میں اہل سنت کو نیست و نابود کرنے کی سعی کر رہے ہیں، ہمیں بھی سبھی شیعہ لوگوں کو جان سے مار دینا چاہیے۔ مجھے اس بات سے شدید رنج ہوا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ کوئی کسی بھی انسان کو مارنے کا تصورتک کیسے کر سکتا ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی مسلک تاحتٰی کسی بھی مذہب سے کیوں نہ ہو؟ میں نے انہیں بتایا تھا کہ میرے بہت سے دوست شیعہ بلکہ کٹر شیعہ ہیں وہ تو مجھے یا دوسرے سنیوں کو مارنے کی سازش میں شریک نہیں ہیں۔ اس نوجوان نے مجھ سے پوچھا تھا، "تمہارے پاس عقل ہے؟" ایک تو "تم" کا صیغہ اوپر سے اس کا متعصبانہ طرزفکر، مجھے بہت غصہ آیا تھا اور میں نے کہا تھا، "نہیں ساری عقل تمہارے پاس ہے جو منفی پرچار کی تعلیم سے پراگندہ ہے"۔ میں نے اس طرح ڈانٹ کر اسے یہ بات کہی تھی کہ وہ چپ ہو رہا تھا۔

آج بارہ زوالحجہ ہے۔ انکل داؤد کہنے لگے کہ آج کنکریاں ماریں گے اور بس۔ میں نے کہا تھا کہ انکل نہیں کل بھی مارنی ہونگی۔ وہ بولے تھے، سب چلے جائیں گے تم ہی رہ جانا کنکریاں مارنے کے لیے۔ پھر کسی نے بتایا تھا کہ اگر آج کنکریاں مار کرغروب آفتاب سے پہلے منٰی چھوڑ دو تو کل کنکریاں مارنا ضروری نہیں لیکن اگر وقت پر منٰی سے باہر نہ نکل سکے تو کل بھی مارنی ہونگی۔ اتنے میں مولانا رشیت خیمے میں داخل ہوئے تھے۔ انہوں نے تجویز دی تھی کہ جو آج واپس مکہ جانا چاہتا ہے وہ آج چلا جائے اور جو کل جانا چاہتا ہے وہ یہیں رہ جائے۔ بس آج بھی آئے گی جس میں کچھ عورتوں نے جانا ہے اور کل بھی آئے گی۔ کوئی چاہے تو کل کمپنی کی بس پہ چلا جائے اور چاہے تو جمرات سے کنکریاں مار کر اپنے طور پر ہوٹل پہنچ جائے۔ یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ اپنے بیگز بس پہ ہی بھیج دیے جائیں۔

میں نے یہی سوچا تھا کہ چلو بیگ بھیج دیتا ہوں اور خود کنکریاں مار کر نکل جاؤں گا۔ ایسا ہی کیا تھا لیکن اس سے پہلے کہ بس آتی اور اس میں کسی عورت کے ذمّے لگا کر بیگ رکھا جاتا، بہت دیر تک عورتوں کے خیمے کے باہر دھوپ میں کھڑے رہ کر انتظار کرنا پڑا تھا۔ میں نے بیگ کا ہوٹل میں پہنچانا محمود کی رشتے دار خواتین کے ذمے لگا دیا تھا اور خیمے میں لوٹ آیا تھا۔ طے یہ ہوا تھا کہ عصر کے بعد سب اکٹھے جمرات کی جانب روانہ ہوں گے، جو لوٹنا چاہے وہ لوٹ آئے گا اور جو وہیں سے ہوٹل جانا چاہے چلا جائے گا۔

اب میرے ہاتھ میں صرف کنکریوں والی بوتل تھی۔ میں راستے میں ایک دو بار جب خودکار راستے پہ کھڑا ہوا تو میرے گروپ کے لوگ نظروں سے اوجھل ہو گئے تھے۔ کنکر مار کر فارغ ہوا تو ایک مقام پہ کھڑا ہو کران کا انتظار کرتا رہا لیکن کوئی نہ آیا۔ مغرب سے پہلے منٰی کو بھی خیر باد کہنا تھا اس لیے ایک جانب کھڑے پولیس والوں سے حرم کی سمت پوچھ کر خود کار زینوں سے نیچے اتر گیا تھا۔ بہت دور پیدل چل کر ایک سڑک آئی تھی جہاں پر گاڑیوں کا جن میں بسیں، ویگنیں، پک اپس، ٹرکس غرض ہر نوع شامل تھی، بپمر سے بمپر جڑا ہوا تھا۔ بسوں کے دروازوں پہ کنڈکٹر پچاس ریال کا نوٹ دکھانے کے لیے لے کر کھڑے ہوئے تھے کہ آج کرایہ اس سے کم نہیں ہے۔ ماسوائے ایک کھلے ٹرک کے جو حرم تک کے لیے فی نفر تیس روپے مانگ رہا تھا۔

یہاں سے ان گاڑیوں میں سوار ہو بھی جاتا تو یہ ویسے ہی جمی کھڑی تھیں۔ میں نے اپنے ہوٹل کے علاقے عزیزیہ کا معلوم کیا تو مجھے لوگوں نے ایک جانب جانے کا مشورہ دیا تھا۔ ہمارا ہوٹل بہت گمنام تھا۔ ہوٹل کا وزٹ کارڈ سامان کے ساتھ بیگ میں ہی چلا گیا تھا۔ جس علاقے میں میں غلطاں تھا یہ عزیزیہ ہی تھا لیکن جن سے استفسار کرتا تھا تو وہ یہی کہتے تھے کہ اس نام کا ہوٹل تو ہم نہیں جانتے البتہ آپ یہ بتلائیں کہ آپ کو عزیزیہ شمالیہ میں جانا ہے یا عزیزیہ جنوبیہ میں۔ اوہ میرے مالک، میں باقاعدہ گم ہو چکا تھا اور گاڑیاں چیونٹی کی چال چل رہی تھیں۔

Check Also

Baghair Qasoor Ke Koi Saza Nahi

By Toqeer Bhumla