Moscow Se Makka (14)
ماسکو سے مکہ (14)

مولانا صاحب جھنجھلا کر بولے تھے تو ہمیں تم ہی بتادو کہ طواف کی غایت کیا ہے۔ عرض کیا تھا کہ دنیا کی ہر چیز چاہے وہ الیکٹرون جیسا مہین ترین ذرہ ہو یا کہکشاں جتنی بڑی شے۔ خلیے کی جزئیات ہوں یا زمیں، چاند اور سورج، سب ہی اپنے مرکز کے گرد گھومتے ہیں اور گھومتے بھی گھڑی کی مخالف سمت میں ہیں ویسے ہی جیسے کعبے کا طواف کیا جاتا ہے۔ کعبہ چونکہ وحدانیت کا مرکز ہے اس لیے ہم بھی وحدانیت کے اقرار اور اس سے وابستگی کے اظہار میں اس کے گرد گھومتے ہیں۔ مولوی صاحب مطمئن تو شاید ہی ہوئے ہوں لیکن چونکہ مولویت کو زد پڑ رہی تھی اس لیے گویا ہوئے۔ ممکن ہے آپ کی کہی بات درست ہو لیکن ایسی باتیں نہیں کیا کرتے اس طرح "کیافر" ہو جاؤ گے (تاتار ہر ثانوی الف کے ساتھ یے لگا دیتے ہیں جیسے حلال کو حلیال کر دیتے ہیں۔ ہم سے تو اچھے ہی ہیں کہ ہم روس کے صدر پوتن کو انگریزی زبان کے پوٹن میں یے ملا کر پیوٹن لکھتے ہیں۔ آج تک سمجھ نہیں آیا کہ یہ یے کہاں سے آ گئی۔ بی یو ٹی بٹ اور پی یو ٹی پٹ تو ہے بیوٹ یا پیوٹ نہیں۔ خیر)۔ میں بولا تھا، بھائی صاحب! میں اتنا خرچ کرکے یہ سب برداشت کرتا ہوا حج کر رہا ہوں اور آپ مجھے کافر بنانے چلے ہیں۔
تھوڑی دیر میں دیکھا تو قربان منہ میں مسواک گھماتے ہوئے دانتوں سے اتری کثافت پی رہا تھا۔ روس کے یہ تازہ مسلمان ایسی بہت سی حرکتیں کرتے ہیں۔ میں نے اسے کہا تھا کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ بیچارہ حیران ہو کر بولا تھا دیکھتے نہیں مسواک کر رہا ہوں۔ میں نے کہا تھا کہ کیوں کر رہے ہو؟ فرمایا کہ سنّت ہے۔ ارے عقل کے کورے! فرض کرلو (فرض کرنا ظاہر ہے سمجھانے کی خاطر ہوتا ہے) کہ پیغمبر آج مبعوث ہوئے ہوتے تو کیا وہ ٹوتھ پیسٹ نہ کرتے۔ کہنے لگا کیوں نہ کرتے۔ تو تم یہ ٹوائلٹ کا عمل سب کے سامنے کیوں کر رہے ہو؟ بولا سنّت ہے۔ "قربان! محمد ﷺ دنیا کے نفیس ترین انسان تھے۔ وہ سب کے سامنے اگر ایسا کرتے بھی تھے تو وہ لوگوں کو حفظان صحت اور ظہارت و نظافت کی جانب راغب کرنے کے لیے کرتے ہونگے"۔ اس نے مجھے یوں دیکھا تھا جیسے میں کفر بک رہا ہوں۔ بڑبڑا کر کہا تھا کہ تم کچھ بھی نہیں مانتے۔ میں نے کہا تھا کہ میں قرآن و سنت کو مانتا ہوں لیکن ایسی حرکتوں سے گریز کرتا ہوں جس سے کسی اور کی دل آزاری ہو۔ یہ تم لوگ جو جیب میں مسواک رکھتے ہو اور سلام پھیرنے کے بعد دانتوں پہ پھیر کے، حاصل نگل کر پھر جیب میں رکھ لیتے ہو اور یہ نہیں سوچتے کہ ساتھ کھڑے ہوئے شخص کو تمہارے اس عمل سے ذہنی اذیّت پہنچ رہی ہے، میں ایسی چیزوں کو نہیں مانتا۔
میرے ساتھی مجھ سے بات کرتے ہوئے گھبرانے لگے تھے کیونکہ ان سب نے فوری طور پر مذہب کا لبادہ اوڑھ لیا ہوا تھا جسے عربوں کا لباس، شیو نہ بنانا، مسواک جیب میں رکھنا وغیرہ۔ میں ایسا نہیں کر رہا تھا کیونکہ جانتا تھا کہ جوش جذبات میں آ کر اختیار کردہ یہ بچگانہ حرکتیں جو وہ کر رہے ہیں، روس جانے کے دوسرے دن ہی سب ترک کرکے اپنی پرانی روش پہ اور مکہ کے ایک ٹیکسی ڈرائیور کے بقول اوقات پہ لوٹ آئیں گے۔
اگلے روز میں، جمشید، مراکش کا ایک روسی بولنے والا ساتھی العربی اور اس کی روسی بولنے والی مراکشی اہلیہ، بغلی سڑک سے ایک زینہ چڑھے تھے اور پل سے گزرنے والی بس میں سوار ہو کر حرم کے لیے روانہ ہوگئے تھے۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ بس عین ہمارے ہوٹل کے سامنے سے گزرے گی۔ میں پہلے ہوٹل پہنچ کر نسبتاََ مناسب غسل خانے میں نہانا چاہتا تھا اور اس عربی جبّے سے جان چھڑانا چاہتا تھا جبکہ جمشید کی خواہش تھی کہ وہ پہلے طواف کرے۔ العربی نے ایک جگہ بس رکوا کر اترنے کو کہا تھا۔ بڑی مشکل سے ساٹھ ساٹھ ریال فی فرد کے حساب سے ٹیکسی ملی تھی جو ہمیں پورے مکٰہ کی سیر کروا کے ہوٹل تک لے آئی تھی۔
ہوٹل میں ہو کا عالم تھا۔ ہم نے ایک گھنٹے بعد لابی میں ملنے کا وعدہ کیا تھا۔ کمرے میں جا کر پہلا کام یہ کیا تھا کہ ایر کنڈیشنر چلایا تھا۔ تھوڑا سا چین لینے کے بعد خوشبودار صابن سے خوب نہایا تھا۔ عربی جبے کے ساتھ والا پاجامہ تو ویسے ہی ڈسٹ بن میں پھینک دیا تھا اور جبّے کو کہیں دور پٹخ مارا تھا۔ اپنی شلوار قمیص پہنی تھی اور لابی میں آ گیا تھا۔ ہم چاروں نے چائے پی تھی اور طواف کرنے حرم چلے گئے تھے۔ کعبہ تک پہنچتے پہنچتے جمشید نے کہا تھا کہ ہم کعبے کے نزدیک کے حلقوں میں نہیں جائیں گے اور نہ ہی دھکم پیل کا حصہ بنیں گے۔ اس نے کہا تھا کہ تم میری چادر، جو اس نے شانوں پہ اوڑھی ہوئی تھی، کا پلّو پکڑے رہنا تاکہ گم نہ ہوں۔
پہلے دو چکروں کے بعد جمشید کو جوش چڑھ گیا تھا اور وہ حجر اسود کو چومنے کے شوق میں اسی دھکم پیل میں شامل ہو گئے تھے، جس سے اجتناب کا مجھے درس دیا تھا۔ اس تگ ودو میں میرے ہاتھ میں پکڑا ان کی چادر کا پلو جو کھنچا تو شاید ان کی سانس گھٹنے لگی تھی۔ چیخ کے بولے تھے "چادر چھوڑو بھائی!" ان کی چادر کے پلو کا چھوٹنا تھا کہ ایک بھاری بھر کم شخص میرے بائیں پنجے پہ پورے وزن کے ساتھ چڑھ گیا تھا۔ میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی تھی۔ میں نے طواف کے باقی چکر کعبہ سے دور ہو کر کاٹے تھے پھر آب زم زم پیا تھا اور سعی کرنے چلا گیا تھا۔
اب پاؤں میں دہرا درد تھا، وجع الفاصل کا بھی اور کچلے جانے کا بھی لیکن سعی تو مکمل کرنی تھی۔ سعی مکمل کرکے کوہ مروہ کے نزدیک ایک ہال میں اوپر چڑھتی سیڑھیوں کے نزدیک شکرانے کے دو نفل اد کیے تھے۔ طے یہ تھا کہ باب الجیاد کے باہر ملیں گے۔ میں دھوپ میں بھنتا رہا۔ جمشید کو فون کیے تو صاحب شاید عبادت میں مشغول تھے، فون بند ملا۔ بالآخر میں خود کار زینے سے سڑک پر اتر کر جو بس ملی اس پر بیٹھ کر منٰی روانہ ہوگیا تھا۔ جب بس ہمارے ہوٹل کے سامنے سے گزر رہی تھی تو جمشید کا فون آیا تھا جو پوچھ رہا تھا کہ میں اس کی چپل تو نہیں اٹھا کر ساتھ لے گیا۔ کیا عقلمندانہ سوال تھا۔
بس نے سب کو منٰی میں ایک جگہ اتار دیا تھا۔ ہمارے کیمپ کے سامنے جو پہاڑ تھے وہ بہت دور تھے۔ کسی اور ہی مقام پر تھا میں۔ ایک بار اندازے سے بھٹکنا شروع کیا۔ اس دوران پاکستانی رضاکار لڑکوں نے بہت مدد کی۔ "اڑتالیس" ہندوستان کا کیمپ تھا لیکن میرا کیمپ بھی اڑتالیس تھا۔ عجیب گھمچال تھا۔ اکثر کیمپوں میں دیگیں پکائی جا رہی تھیں۔ تنگ آ کر میں نے اپنی سڑک کا نمبر بتایا تھا اور رضاکار نوجوان سے کہا تھا کہ مجھے بس یہاں جانے کا راستہ بتا دو۔ اس نے کہا تھا کہ اس کے حساب سے میرا کیمپ وہاں نہیں ہونا چاہیے لیکن اگر میں اپنے رسک پہ جانا چاہتا ہوں تو وہ راستہ بتا دے گا۔ میں نے کہا تھا کہ میں اپنے رسک پہ جا رہا ہوں اور یہ رسک درست تھا۔ میں دو ڈھائی گھنٹوں کی مٹر گشت کے بعد اپنے خیمے میں پہنچ گیا تھا۔ میرا حج مکمل ہو چکا تھا لیکن ابھی تین روز مزید منٰی میں رکنا تھا۔ میں خاصا تھک چکا تھا لیکن تین شیطانوں کو پتھر مارنے تو جانا ہی تھا۔ گھنٹہ ایک آرام کیا تھا اور عصر کے بعد میں اکیلا چل پڑا تھا۔ اکیلا کہاں تھا، ہزاروں لوگ تھے۔ اس بار تو راستہ معلوم تھا ہی تلبیہ پڑھتے ہوئے گیا تھا اور دعائیں پڑھتا ہوا لوٹ آیا تھا۔
منٰی کا ماحول کچھ کم "حاجیانہ" ہو چکا تھا۔ لوگ عبادت سے زیادہ گپ شپ میں دلچسپی لینے لگے تھے حالانکہ جب تک شیطان کو تین روز کنکریاں نہ مار لو اور جب تک "طواف الوداع" نہ کر لو حج کے مناسک پورے نہیں ہوتے۔ آج جمرات کی جانب جاتے اور وہاں سے آتے ہوئے میری مشتاق نگاہیں صرف تپتی دھوپ میں سیاہ کپڑوں میں ملبوس سیاہ فام گداگر خواتین اور بچیوں کے المیے کو دیکھنے کی ہی حوگر نہیں تھیں بلکہ اوپر کو بھی اٹھی تھیں۔ اطراف میں ایک جانب ایستادہ پہاڑیوں کی خطرناک کگروں پہ اکڑوں بیٹھے ہوئے ہمارے پختون بھائی آنے جانے والے حجاج کا نظارہ کر رہے تھے۔ وہ اس طرح بے خوف ہو کر بیٹھے تھے جیسے کسی دوکان کے تھڑے پہ بیٹھے ہوں جبکہ مجھے یہ لگتا تھا کہ تھوڑا سا چوکنے سے وہ اوندھے منہ چٹانوں پہ آ گریں گے۔ یہ وہی غیر قانونی حجاج تھے جنہوں نے پہاڑوں کی چٹانوں پہ بسیرا کیا ہوا تھا۔ کچھ تو ایسے خطرناک اور سیدھے اوپر کو چڑھتے دروں میں سے تھیلوں (بیگز) سمیت اوپر چڑھ رہے تھے کہ میرا دل ہول گیا تھا۔
پہاڑوں کی چٹانوں پہ بسیرا کرنے والے ان شاہینوں کو دیکھ کر مجھے خیال آیا تھا کہ جن کا نشیمن قصر شاہی ہے، وہ حج کیسے کرتے ہونگے؟ کیا منٰی کے انہیں خیموں میں ٹھہرتے ہوں گے؟ کیا مزدلفہ میں کنکروں پہ لیٹ کر شب بسری کرتے ہوں گے؟ کیا اسی راستے سے ہجوم میں شامل ہو کر جمرات کو کنکریاں مارنے جاتے ہونگے؟ کیا کھوے چھلواتے، دھکے د یتے، پسینے میں شرابور، سانس گھونٹتے لوگوں میں شامل ہو کر طواف کرتے ہوں گے؟ میں نے تو سوچا تھا، آپ بھی سوچیں۔ ایک اشارہ دے دیتا ہوں کہ جب ہر سال کعبے کو غسل دیا جاتا ہے اور اسی طرح جب کعبے کا غلاف تبدیل کیا جاتا ہے تو کچھ گھنٹوں کے لیے عامیوں کا حرم میں داخلہ روک دیا جاتا ہے۔ سربراہاں مملکت کا عام لوگوں کے ہجوم میں جانا سیکیورٹی رسک ہوتا ہے۔

