Moscow Se Makka (13)
ماسکو سے مکہ (13)

دنیا میں مسلمان آبادی کا سب سے بڑا ملک انڈونیشیا ہے، اس لیے ظاہر ہے وہاں کے حجاج کی تعداد بھی زیادہ تھی اور ان کے گروپ بھی بڑے تھے۔ ان کی پہچان ان کی شکلوں اور قد کی بجائے ان کے منہ اور ناک پر چڑھے طبی نقابوں سے ہوتی تھی۔ یہ لوگ غالباََ اپنے ملک سے ہی فلو کا وائرس لے کر ارض مقدس پہنچے تھے اس لیے سب کے چہروں پہ ماسک تھے۔ ہمارا چھوٹا سا گروپ بھی اس ہجوم میں شامل ہوگیا تھا۔ پل کے اس طرف سڑکیں دو چوڑے راستوں میں بنٹ گئی تھیں۔ واپس آنے والوں کا جم غفیر بھی اتنا ہی بڑا تھا جتنا جانے والوں کا۔ لگتا تھا کہ یہ سلسلہ گھنٹوں سے جاری ہے۔
ایک لمبا سفر کرکے ایک سرنگ آ گئی تھے۔ سرنگ کی اونچائی بہت زیادہ تھی اور اونچائی پہ بڑے بڑے بند پنکھے لگے ہوئے تھے جو مسلسل چل رہے تھے۔ وہ مسموم ہوا باہر نکال رہے تھے یا ہوا کو گھما رہے تھے پتہ نہیں چلتا تھا۔ سرنگ کے اندر تھوڑا سا چل کر دورویہ خود کار راستے تھے ان کے دونوں اطراف میں البتہ کھلا راستہ بھی تھا۔ جمرات تک جاتے جاتے تین ایسی سرنگیں آئی تھیں۔ چوتھا ڈھکا ہوا مقام جمرات کا تھا۔ اس میں ہر جانب بڑے بڑے ایر کنڈیشنر لگے ہوئے تھے۔ شیطان کی نفی اور الٰہ کا اثبات کرنے والوں کے لیے تین کلومیٹر کے سفر کے بعد یہ بہت بڑی راحت تھے۔
سب سے پہلے جمرات صغرٰی یعنی چھوٹا شیطان تھا۔ اس سے کچھ آگے جمرات وسطٰی یعنی درمیانہ شیطان اور سب سے آگے مکہ کے نزدیک جمرات کبرٰی یعنی بڑا شیطان تھا جسے آج کنکریاں مارنی مقصود تھیں۔ جمرات تک پہنچتے پہنچتے مجھ سے میرا گروہ بچھڑ گیا تھا۔
شیطان تو ظاہر ہے وہاں نہیں ہیں۔ علامت کے طور پر ان مقامات پہ پتھر کی دیواریں بنائی گئی ہیں جو چھت تک نہیں پہنچتیں جن کے گرد کھائی ہے۔ کنکر ضروری نہیں کہ دیوار سے ٹکرائیں مگر کھائی میں ضرور گرنے چاہییں۔ بسم اللہ اللہ اکبر کرکے سات کنکروں سے شر پہ وار کیا تھا اور نگاہیں اپنے گروپ کے لوگوں کی تلاش میں مصروف ہوگئی تھیں۔ باقی تو نہ مل سکے البتہ محمود اور سعید نام کے دو نوجوان اور ایک ان کا ساتھی مل گئے تھے، محمود کے ہمراہ اس سے عمر میں بڑی شاید اس کی دو بہنیں بھی تھیں۔ ہم کچھ دیر باقی لوگوں کا انتظار کرکے چل پڑے تھے۔
پہلی ہی سرنگ کے نزدیک ڈھکی ہوئی جگہ پہنچے تھے جہاں ایک جانب سے سیڑھیاں نیچے اتر رہی تھیں اور خودکار زینے بھی تھے۔ محمود نے وہاں سے نیچے اتر جانے کی تجویز دی تھی۔ میرا خیال تھا کہ یا تو اسے واپسی کے راستے بارے زیادہ علم ہے یا پھر شاید مکّہ جانا ہے کیونکہ ابھی ہمیں طواف بھی کرنا تھا۔ محمود کو کوئی غلط فہمی ہوگئی تھی۔ ہم گم کردہ راہ ہو گئے تھے۔ دھوپ میں تمازت بڑھ رہی تھی۔ جہاں سے ہم اترے تھے وہ واپس چڑھنے کا راستہ نہیں تھا۔ اچھا خاصا ادھر ادھر بھٹکنے اور چلنے کے بعد بڑی مشکل سے اوپر جانے کا راستہ معلوم ہوا تھا۔ وہاں سے حرم کچھ اتنی زیادہ دور نہیں تھا۔ جی میں آئی کہ جا کر طواف کر آؤں۔ حج کے تمام مناسک پورے ہو جائیں گے لیکن اس ڈر سے کہ واپس منٰی آنا شاید میرے لیے سہل نہ ہو ساتھیوں کے ہمراہ سیڑھیاں چڑھ کے واپسی کے راستے پہ ہو لیا تھا۔
لوگوں کا سیل رواں جاری تھا۔ سڑک کےکھلے مقامات پر بیچوں بیچ سیاہ لبادے اوڑھے جن میں یعض کے چہروں پہ تو موٹے موٹے سیاہ نقاب بھی تھے، بچوں کو ساتھ لیے سیاہ فام خواتین بھیک مانگ رہی تھیں۔ ان سے دو دو قدم کے فاصلے پر وہ سیاہ فام بچیاں بھی پکارپکار کر مانگ رہی تھیں جن کی عمر کھیلنے کودنے کی تھی۔ تھیں تو آخر بچیاں ہی، کبھی کبھار اٹھ کر کھیلنے بھی لگ جاتی تھیں۔ دو ایک نے تو اداکاری کے جوہر بھی دکھائے تھے اور ایک نے تو رقص کے بھی دو ایک بھاؤ بتائے تھے۔ یا میرے خدا! اس عبادت کے دوران بیچارگی اور بے بسی کے یہ کیسے کیسے نظارے دکھا رہا ہے۔ پھنکتی ہوئی دھوپ میں یہ خواتین، ان کے بچے اور یہ بچیاں بیچارے روٹی کی آس میں ہاتھ پھیلا رہے تھے۔
واپسی کا سفر تمام ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔ آخر کار ہم آخری پل کے اس پار پہنچے تھے جہاں سڑک کے کنارے لوگ دس ریال دے کر سر منڈوا رہے تھے۔ جب ہم اپنے کیمپ میں پہنچے تو یہ عمل وہاں بھی شروع ہو چکا تھا۔ جس کی روداد میں اس سے پہلے بیان کر چکا ہوں۔
مناسک حج کی تکمیل کی خاطر طواف بھی کرنا چاہیے تھا۔ رشیت صاحب نے فرمایا تھا کہ سب اپنے اپنے طور پر طواف کرنے جائیں گے اور واپس منٰی پہنچیں گے۔ آج دس ذوالحجہ تھی۔ چونکہ قربانی تین روز تک ہو سکتی ہے اس لیے طواف بھی دس، گیارہ اور بارہ کو سورج غروب ہونے سے پہلے کیا جا سکتا تھا۔ نماز عصر سے پہلے جب طواف بارے بات ہو رہی تھی تو میں نے رشید حضرت سے پوچھا تھا کہ "مولانا! طواف کیوں کیا جاتا ہے؟" انہوں نے جواب میں کہا تھا حکم ہے۔ میں بہت صبر کر چکا تھا، مجھ سے اب جہل مزید برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ حضرت مذہبی رسوم کے پس پشت بھی منطق ہوتی ہے، آپ ہر بات کو حکم کہہ کر گول کر جاتے ہیں یا فرما دیتے ہیں کہ حدیث نبوی ہے۔ یہ بھی طے نہیں ہوتا کہ حدیث مستند ہے یا ضعیف۔
پیغمبر لوگوں کے سوالوں کے جواب دینے کے لیے ہی مبعوث کیے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو حق معلوم ہو۔ پیغمبروں کی پیروی کرنے والے سبھی سادہ لوگ نہیں ہوتے۔ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بہت پیچیدہ اور سنجیدہ سوال کرتے ہیں تاکہ پیغمبر خدا کے جواب سے باقی لوگوں پہ بات واضح ہو جائے پھر طواف تو حضرت محمد صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد سے کہیں پہلے سے ہو رہا ہے۔ زمانہ قدیم کی بہت سی رسوم ایسی تھیں جو جاری رکھی گئیں اور جن کو جاری رکھنے کی توثیق قرآن نے بھی کی جیسے طواف اور سعی۔

