Moscow Se Makka (12)
ماسکو سے مکہ (12)

مزدلفہ میں پہاڑیوں کی تلہٹی کے نزدیک مسطح قطعات میں ماسوائے باتھ رومز کے اور کوئی سہولت نہیں تھی۔ وہاں پہنچ کر سب سے پہلے ہم نے مغرب اور عشاء کے فرض باجماعت ادا کیے تھے۔ ہمارا گروہ مولانا رشیت کی امامت میں خواتین کے باتھ رومز کی عمارت کے گرد بنے چبوترے پہ نماز پڑھ رہا تھا، جب کہ میدان میں بہت زیادہ لوگ کسی اور امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ مجھے میرے ساتھ کمرے میں رہنے والے ماگومید نے کہا تھا کہ یہیں چبوترے پہ سو جاتے ہیں لیکن میں نے انکار کر دیا تھا کیونکہ تھوڑی ہی دور باتھ رومز کے عقبی روشندان واقع تھے۔
یہ تو شکر ہوا کہ میں نے منٰی کی دکانوں سے چین میں بنی پلاسٹک کی ایک صف خرید لی تھی، جو سکول کے بستے کی مانند تہہ ہو جاتی تھی ورنہ آج کنکروں پہ لیٹنا پڑ جاتا۔ احرام ویسے ہی میلا ہونے لگا تھا۔ میں نے تو نماز سے پہلے ہی میدان میں جا کر اغیار کے ساتھ اپنی صف سیدھی کر دی تھی۔ نماز کے بعد اس پہ جا بیٹھا تھا۔ اتنے میں ایک جانب سے قربان بھی آ نکلا تھا۔ قربان وہ نوجوان تھا جو مکہ پہنچتے ہی دوسرے روز عمرے کی خاطر کیے گئے طواف میں مولانا رشید کے کندھے پہ ہاتھ رکھے رمل کر رہا تھا اور جس کی اہلیہ آنسو بہا رہی تھی۔ منٰی کے خیمے میں اس کا بستر میرے ساتھ تھا اس لیے اس سے یاداللہ ہوگئی تھی۔ اس کی بیوی کا نام عنائقہ تھا جو بہت خوش پوش اور سنجیدہ لڑکی تھی۔ قربان مجھ سے بیوی کے گلے کرکے اپنی بھڑاس نکال لیتا تھا۔ قربان نے بھی ساتھ ہی صف بچھا لی تھی۔
مردوں سے بیس پچیس گز کے فاصلے پر عورتوں نے سونے کے لیے میدان سنبھالا ہوا تھا جہاں رونق تھی۔ ہمیں صبح "بڑے شیطان" کو مارنے کی خاطر یہاں سے کنکر چننے تھے۔ مجموعی طور پہ ستّر کنکر چننے تھے تاکہ آئندہ دنوں میں جمرات صغیرہ، جمرات وسطٰی اور جمرات کبیرہ پہ سات سات کنکر روز برسائے جا سکیں۔ میں اور قربان کنکر چننے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ ایک بہت بلند کھنبے پر چار سرچ لائٹسں جگمگا رہی تھیں اس لیے ہر طرف روشنی تھی۔ ایک نہر نما گہرائی میں اتر کر میں نے کچھ ہی دیر میں ستّر بہتر کنکر بوتل میں جمع کر لیے تھے۔ بوتل صف کے پاس رکھی تھی اور دور وضو کی تونٹی سے ہاتھ دھو کر صف پہ آ بیٹھا تھا۔ قربان بھی پہنج گیا تھا۔
ہم نے عرفات میں ملی کھانے کی چیزیں، رات کے کھانے کے طور پر کھائی تھیں۔ چائے کی بہت طلب ہو رہی تھی لیکن گرم پانی میسّر نہیں تھا۔ اتنے میں عنائقہ بھی آ کر کھڑی ہو کر قربان سے باتیں کرنے لگی تھی۔ میں نے کہا تھا کہ قربان عورتوں کی جانب گرم پانی ہوگا۔ قربان نے کہا تھا کہ عورتیں تو ہر جگہ ہر چیز کا اہتمام کر لیتی ہیں۔ یہ کہہ کر وہ عنائقہ کے ہمراہ میرے لیے ابلا ہوا پانی لینے عورتوں کی جھنڈ کی جانب چلا گیا تھا۔ کوئی آدھے گھنٹے بعد لوٹا تھا لیکن خالی ہاتھ۔ اس کا کہنا تھا کہ وہاں گرم پانی لینے کے لیے عورتوں کا اس قدر ہجوم ہے کہ باری آتی نہیں لگتی۔ صبر کرنا پڑا تھا۔
روشنی اس قدر تھی کہ سونا ممکن نہیں تھا۔ پھر ہر کروٹ پہ صف کے نیچے چھپا کوئی کنکر چبھ جاتا تھا جسے نکالنا پڑتا۔ میں نے قربان کو تجویز دی تھی کہ چلو قربان پہاڑی پہ چڑھتے ہیں اور اس کے عقب میں جا کر کہیں سوتے ہیں جہاں اس قدر روشنی نہ ہو۔ وہ جب باتیں کرتا تھا تو بہت معصوم لگتا تھا۔ بولا وہاں تو زہریلے سانپ بھی ہو سکتے ہیں۔ بھائی سانپ تو یہاں بھی ہو سکتے ہیں۔ بولا کہ ہم تک پہنچتے پہنچتے ہم سے پہلے لیٹے لوگوں کو کاٹ کر سانپ کا زہر ختم ہو چکا ہوگا۔ مجھے ہنسی آ گئی تھی۔ لوگوں کی اکثریت سو گئی تھی۔ کچھ کروٹیں بدل رہے تھے۔ میری طرح چند ایک اور بھی بے چین افراد تھے جو کبھی لیٹ جاتے اور کبھی اٹھ بیٹھتے۔ بالآخر آنکھ لگ گئی تھی۔
فجر کے لیے بلند ہوئے تھے اور سورج طلوع ہونے کے بعد بسیں آنا شروع ہوگئی تھیں۔ قطاروں میں لگ کر بسوں میں سوار ہوئے تھے اور ایک بار پھر منٰی پہنچ گئے تھے۔ تھوڑی دیر آرام کیا تھا۔ اتنے میں لوگوں نے ایک دوسرے کے بال مونڈنا شروع کر دیے تھے۔ ہم سے ایک روز پہلے ہی مولانا رشیت فی قربانی ایک سو ڈالر لے چکے تھے، ان کے بقول کچھ طالبعلم سب کے لیے جانور قربان کروا دیں گے۔ میں نے پوچھا تھا کہ کیا قربانی ہوگئی ہے۔ بولے کہ ہو ہی گئی ہوگی۔ عرض کیا حضرت اندازے پر نہ تو سر منڈوایا جا سکتا ہے اور نہ ہی احرام اتارا جا سکتا ہے۔ آپ تکلیف کیجیے اور فون کرکے معلوم کیجیے کہ کیا ہم لوگوں کی قربانیاں دی جا چکی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے فون کرکے تصدیق کی تھی۔ مجھے فوری طور پر صافی نے بک کر لیا تھا کہ میں اس کا سر مونڈ دوں۔ وضو کے لیے ٹونٹیوں کے سامنے جا کر میں نے سیفٹی سے اس کا سر مونڈ دیا تھا۔ اتنا مشکل نہیں تھا کیونکہ حاجی صاحب خیر سے تقریباََ "فارغ البال" تھے۔
اضافی سیفٹی ریزر تو میں بھی کوئی دس کے قریب لایا تھا لیکن ہوٹل سے روانہ ہوتے وقت بن خوشبو کے صابن کی طرح سیفٹی لانا بھی بھول گیا تھا۔ کسی کے پاس بھی اضافی سیفٹی نہیں تھی۔ لوگ نہانے اور بال منڈوانے میں اتنے مصروف ہو گئے تھے کہ مزید پوچھنا بیکار تھا۔ مجھے پھر بازار جانا پڑا تھا۔ چار ریال کی ایک ڈسپوزیبل لے کر پہنچا تو جمشید صاحب نہائے دھوئے نیا ژوب پہنے عید منا رہے تھے۔ میں نے انہیں سر مونڈنے کے لیے کہنا مناسب خیال نہ کیا تھا۔
ہمارے خیمے میں دو طویل القامت جوان مرد تھے۔ ایک فیض اللہ اور ایک حمید۔ فیض اللہ تو سنجیدہ اور کم گو تھا لیکن حمید ہر وقت مسکراتا تھا۔ اس کی بہت بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنی ماں کو حج کروانے ساتھ لایا ہوا تھا اور ماں کی جس قدر خدمت کرتا تھا اور جتنا خیال رکھتا تھا، لگتا تھا کہ اللہ تعالٰی اسے کئی حج کرنے کا ثواب دیں گے۔ اس نے مجھے کہا تھا کہ میں آپ کے سر کو ہلکا کر دیتا ہوں۔ میں جب سیفٹی خرید کرکے آ رہا تھا تو ایک اور خیمے کے باہر لوگ ایک مشین سے سر مونڈ رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ کیا میرے سر پہ بھی مشین چلا سکتے ہو۔ اس نے کہا تھا کہ مجھے کیا پتہ تمہارا مذہب (مسلک) کیا ہے۔ میں نے کہا تھا کہ میرا مذہب ٹھیک ہے تو اس نے یہ کہہ کر کہ میں اللہ کے لیے کرتا ہوں، میرے سر پہ مشین پھیر دی تھی۔ یوں حمید کا کام آسان ہوگیا تھا۔
حمید نے کہا تھا کہ احاطے سے باہر سڑک پہ لگے واٹر کولرز تک چلتے ہیں، وہاں پانی کی دستیابی کے باعث سیفٹی سے سر صاف کرنا آسان ہوگا۔ ہم دونوں صابن لے کر وہاں پہنچے تھے۔ میں سڑک پہ کھڑا ہوگیا تھا اور حمید نے اونچائی پہ کھڑے ہو کر میرے سر پہ سیفٹی ریزر چلانا شروع کیا تھا۔ اسے ایسا کرتے دیکھ کرکے پہلے ایک عرب شخص نے رک کر کہا تھا کہ میرا سر بھی مونڈ دو۔ میں نے حمید کی جانب انگلی کرکے کہا تھا "رفیق" یعنی میرا دوست ہے نائی نہیں۔ پھر ایک گتھے ہوئے بالوں والا سترہ اٹھارہ برس کا نوجوان عرب چلتے چلتے رکا تھا اور بولا تھا "حلق"۔ میں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے جانے کو کہا تھا۔ حمید نے پوچھا تھا کہ وہ کیا کہتا تھا۔ میں نے بتایا تھا کہ وہ سر منڈوانا چاہتا تھا۔ حمید بولا تھا کہ میں کوئی نائی ہوں اور اس کے بال تو دیکھو کتنے زیادہ ہیں۔ اگر میں اللہ کے نام پہ ایسا کرنا شروع کر دوں تو مجھے تو اس کے بال اتارتے سارا دن لگ جائے گا۔
بہرحال سرمنڈوا کر پہلے تو میں نہایا تھا پھر جمشید سے پوچھ کر کہ ژوب کہاں ملتا ہے اسی بازار میں گیا تھا۔ مجھے کہیں ژوب یعنی عربوں کا لمبا کرتا نہیں ملا تھا۔ سڑک کے اس پار جا کر البتہ میں نے پندرہ ریال کا ژوب اور پانچ ریال کا پاجامہ خریدا تھا اور خیمے میں آ کر پہن لیا تھا۔ مجھے لگا تھا کہ یہ دونوں کپڑے سیکنڈ ہینڈ تھے۔ بہر حال تھے صاف اور عید بھی تھی۔
باعلم قارئین یقیناََ سوچنے لگے ہوں گے کہ حج کا ایک اہم رکن پورا کیے بنا بھلا احرام کیسے اتارا جا سکتا ہے؟ بالکل درست سوچا۔ کیا کیا جائے انسان ہے ہی خسارے میں۔ اتنی بڑی سعادت حاصل کرنے کے چند روز بعد ہی واقعات گڈ مڈ ہو سکتے ہیں۔ تو جناب معذرت کے ساتھ اصل میں مزدلفہ سے منٰی لوٹنے کے بعد تھوڑا سا آرام کرنے کے بعد لوگوں نے سر نہیں منڈوانا شروع کر دیے تھے بلکہ ہم سب مل کرکے اپنے سیکٹر کی بغلی سڑک پہ اکٹھے ہوئے تھے تاکہ جمرات کبرٰی یعنی بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے روانہ ہوں۔ لوگوں کو حسب معمول اکٹھے ہونے میں دیر لگ گئی تھی۔ بغلی سڑک کے آخر پہ، بازار کے ایک طرف ایک پل کے نیچے سے دو تین سڑکیں گزرتی تھیں۔ وہاں سے تلبیہ پڑھتے ہوئے لوگوں کا جم غفیر گزر رہا تھا۔

