Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohsin Khalid Mohsin
  4. Pakistani Awam Khofzada Kyun Hai?

Pakistani Awam Khofzada Kyun Hai?

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

عوام اور حکمرانوں کے درمیان خوف کا تعلق ایک پیچیدہ تاریخی، سماجی اور سیاسی حقیقت ہے جس کی جڑیں صرف موجودہ دور میں نہیں بلکہ طویل تاریخی تجربات میں پیوست ہیں۔ پاکستان جیسے معاشروں میں یہ خوف صرف ایک فطری جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ادارہ جاتی رویوں، معاشی دباؤ اور طاقت کے غیر متوازن ڈھانچے کا نتیجہ بھی ہے۔ عام شہری جب ریاستی طاقت کے مختلف ستونوں کو دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک ایسا تاثر بنتا ہے جس میں تحفظ اور جبر دونوں ایک ساتھ موجود دکھائی دیتے ہیں۔ یہی دوہرا احساس خوف کو جنم دیتا ہے اور اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔

پاکستانی سماج میں گزشتہ چند دہائیوں میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور ادارہ جاتی کشمکش نے عوام کے اندر بے یقینی کو بڑھایا ہے۔ جب بھی حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں، پالیسیوں میں تسلسل نہیں رہتا، مہنگائی بے روزگاری اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم عوام کو مزید پریشان کرتی ہے۔ ایسے حالات میں عام شہری کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی آواز مؤثر نہیں اور اس کے مسائل فیصلہ سازی کے عمل تک نہیں پہنچتے۔ یہی احساس خوف کی پہلی شکل ہے جو خاموشی اور لاتعلقی میں بدل جاتی ہے جبکہ ریاستی اداروں کے بارے میں عوامی تاثر بھی اس خوف کو گہرا کرتا ہے۔

فوج کے بارے میں ایک طبقہ اسے ملک کی سلامتی کا ضامن سمجھتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے سیاسی معاملات میں اثرانداز سمجھتا ہے۔ عدلیہ کے فیصلے بھی بعض اوقات عوامی بحث کا حصہ بنتے ہیں اور ان پر اعتماد میں کمی پیدا ہوتی ہے۔ انتظامیہ اور پولیس کا کردار عام شہری کے روزمرہ تجربے میں سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ ان اداروں میں انصاف کا فقدان محسوس ہو تو خوف اور بڑھ جاتا ہے۔ یہ خوف کسی ایک ادارے سے نہیں بلکہ پورے نظام سے متصل ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں سیاست دان اور کاروباری طبقات کے درمیان تعلقات بھی عوامی اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔ جب پالیسی سازی میں عام آدمی کی بجائے مخصوص گروہوں کو فائدہ ہوتا ہوا محسوس ہو تو عوام میں یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ نظام ان کے لیے نہیں بلکہ طاقتور طبقے کے لیے ہے۔ اس طرح ایک ایسا ماحول بنتا ہے جس میں احتجاج اور اختلافِ رائے کو غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

پاکستانی سماج میں تعلیم اور آزاد بحث کی کمزوری بھی ایک اہم سبب ہے۔ جب تعلیمی اداروں میں تنقیدی سوچ کو فروغ نہیں ملتا تو نئی نسل سوال اُٹھانے کی بجائے خاموش رہنا سیکھتی ہے۔ اجتماعی مکالمہ کمزور ہونے سے معاشرتی مسائل پر کھل کر بات نہیں ہو پاتی اور افواہیں اور خوف تیزی سے پھیلتے ہیں۔ یہی خاموشی بعد میں خوف کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

احتجاجی سیاست کی تاریخ پاکستان میں خاصی متنوع رہی ہے۔ کئی ادوار میں عوامی تحریکیں ابھریں مگر ان کا نتیجہ اکثر سخت ردِعمل یا محدود اصلاحات کی صورت میں نکلا۔ اس سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ پُرامن احتجاج ہمیشہ مؤثر نہیں ہوتا۔ ایک مکتبہ فکرکے مطابق ریاستی ردِعمل بعض اوقات سخت رہا ہے جس سے خوف میں اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاستی ادارے اکثر اپنے تئیں نظم و قانون برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور انتشار کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تھنک ٹینک اور پالیسی ساز حلقوں کے بارے میں یہ بحث بھی موجود ہے کہ وہ معاشرتی مسائل کو تکنیکی زبان میں دیکھتے ہیں اور عام آدمی کے جذبات کو مکمل طور پر شامل نہیں کرتے۔ اس سے پالیسی اور زمینی حقیقت کے درمیان فاصلہ پیدا ہوتا ہے اور عوام کو لگتا ہے کہ فیصلے ان سے دور کہیں اور ہو رہے ہیں۔ یہ فاصلہ بھی خوف اور اجنبیت کو بڑھاتا ہے۔

تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد ٹوٹتا ہے تو معاشرے میں عدم استحکام بڑھتا ہے۔ مختلف ممالک میں ایسے تجربات ہوئے ہیں جہاں اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے عوامی بے چینی بڑھی اور بعد میں بڑے سماجی تغیرات آئے۔ یورپ کی تاریخ ہو یا ایشیا کے مختلف خطے، یہ بات واضح ہے کہ طاقت کا غیر متوازن استعمال دیرپا استحکام نہیں دے سکتا۔

دُنیا نے اس کیفیت کو مختلف طریقوں سے مینج کرنے کی کوشش کی ہے۔ کچھ ممالک نے شفافیت کو بڑھایا، کچھ نے مقامی حکومتوں کو مضبوط کیا اور کچھ نے عدالتی اصلاحات کے ذریعے عوامی اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی۔ جہاں بھی ریاست نے شہری آزادیوں اور معاشی انصاف کو بہتر بنایا، وہاں خوف کم ہوا اور اعتماد بڑھا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ خوف کا علاج صرف طاقت نہیں بلکہ انصاف اور شمولیت ہے۔

عوام کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ ان حالات میں کیا کریں۔ پہلی بات یہ کہ وہ تعلیم اور شعور کو اپنا ہتھیار بنائیں۔ سوال پوچھنا اور معلومات حاصل کرنا کسی بھی معاشرے میں تبدیلی کا پہلا قدم ہوتا ہے۔ پُرامن مکالمہ اور اجتماعی تنظیم بھی اہم ہے تاکہ مسائل کو منظم طریقے سے پیش کیا جا سکے۔ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی آواز بلند کرنا جمہوری نظام کا بنیادی حق ہے اور اسی سے بہتری کے راستے نکلتے ہیں۔

ریاست کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ عوامی اعتماد کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔ اداروں میں شفافیت بڑھانا انصاف کے نظام کو بہتر بنانا اور معاشی مواقع کی منصفانہ تقسیم وہ عوامل ہیں جو خوف کو کم کر سکتے ہیں۔ جب عام شہری کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کے ساتھ انصاف ہوگا تو خوف خود بخود کم ہونے لگتا ہے۔

میرا ذاتی احساس یہ ہے کہ خوف ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ ایک دن میں ختم ہوتا ہے۔ یہ ایک طویل سماجی عمل ہے جس میں ریاست اور عوام دونوں کا کردار ہوتا ہے۔ اگر دونوں طرف سے اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ خوف اُمید میں بدل سکتا ہے اور معاشرہ زیادہ متوازن اور پائیدار ترقی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ اگر یہ ممکن ہو جائے یعنی عوام میں اجتماعی شعور پیدا ہو جائے تو کسی انقلاب کی ضرورت نہیں رہے گی۔

Check Also

Kifayat Shaari Ke Daway Aur Zameeni Haqaiq Ka Tazad

By Fatima Tayyab Singhanvi