Saturday, 09 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohsin Khalid Mohsin
  4. Logon Se Pyar Karen

Logon Se Pyar Karen

لوگوں سے پیار کریں

انسان اس دُنیا میں اکیلا نہیں آیا۔ وہ رشتوں، محبتوں، احساس اور تعلقات کے حسین دھاگوں میں بندھا ہوا پیدا ہوتا ہے۔ ماں کی گود سے گور تک انسان کو انسان کی ضرورت رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محبت انسانی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ جس دل میں محبت نہ ہو وہ بنجر زمین کی مانند ہوتا ہے جہاں نہ خوشیوں کے پھول کِھلتے ہیں اور نہ سکون کی فصل اُگتی ہے۔ بدقسمتی سے اکیسویں صدی میں محبت کی جگہ نفرت، بے حِسی، خود غرضی اور مفاد پرستی نے لے لی ہے۔ لوگ چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھتے ہیں مگر دلوں میں فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہر شخص اپنی ذات کے خول میں قید ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسانوں کا ہجوم تو موجود ہے مگر انسانیت کہیں راستہ بھول گئی ہے۔

آج کا انسان چاند پر پہنچ گیا مگر اپنے ہی گھر کے صحن میں بیٹھے ہوئے اُداس انسان کے دل تک نہ پہنچ سکا۔ مادی ترقی نے آسائشیں تو بڑھا دیں مگر سُکون چھین لیا۔ سوشل میڈیا نے دُنیا کو گلوبل ولیج بنا دیا لیکن دلوں کے درمیان دیواریں بھی کھڑی کر دیں۔ اب لوگ ایک دوسرے سے ملنے کی بجائے صرف سکرینوں سے بات کرتے ہیں۔ رشتے تصویروں میں قید ہو گئے ہیں اور جذبات ایموجیز کے محتاج بن چکے ہیں۔ لوگ ہزاروں دوستوں کی فہرست رکھتے ہیں مگر دُکھ کی گھڑی میں کندھا دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔ یہی وہ دور ہے جہاں انسان ہنستے ہوئے بھی اندر سے ٹوٹا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

محبت صرف ایک لفظ نہیں بلکہ زندگی کی روح ہے۔ جس معاشرے میں محبت ہوتی ہے وہاں نفرتیں دم توڑ دیتی ہیں۔ محبت انسان کو انسان سے جوڑتی ہے۔ یہ وہ خوشبو ہے جو دلوں کے صحن کو مہکا دیتی ہے۔ محبت کرنے والا انسان دریا دل ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کے دُکھ کو اپنا دُکھ سمجھتا ہے۔ وہ ٹوٹے ہوئے دلوں پر مرہم رکھتا ہے۔ ایسے لوگ اندھیروں میں چراغ کی مانند ہوتے ہیں۔ ان کی باتیں سوکھے درخت پر بہار کی بارش کی طرح اثر کرتی ہیں۔ محبت انسان کو بڑا بناتی ہے۔ جو شخص دوسروں سے پیار کرتا ہے وہ اپنی روح کو زندہ رکھتا ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں نفرت کا بازار گرم ہے۔ معمولی اختلافات دُشمنی میں بدل جاتے ہیں۔ خاندان بکھر رہے ہیں۔ دوستیاں مفاد کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں۔ حسد، لالچ اور اَنا نے محبت کے چراغ بُجھا دیے ہیں۔ حالانکہ زندگی چار دن کی چاندنی ہے۔ انسان خالی ہاتھ آیا تھا اور خالی ہاتھ ہی چلا جائے گا۔ پھر یہ غرور، نفرت اور فاصلے کس کام کے؟ وقت ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل جاتا ہے۔ جو لوگ آج ہمارے ساتھ ہیں ممکن ہے کل نہ ہوں۔ اس لیے دلوں کو جوڑنا سیکھنا چاہیے توڑنا نہیں۔

ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے: "میٹھے بول دل جیت لیتے ہیں"۔ یہ حقیقت ہے کہ نرم لہجہ پتھر دل انسان کو بھی موم کر دیتا ہے۔ کبھی کسی غریب سے محبت سے بات کرکے دیکھیے اس کی آنکھوں میں چمک آ جائے گی۔ کبھی کسی اداس شخص کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دیکھیے اس کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا۔ محبت بانٹنے سے کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے۔ یہ چراغ سے چراغ جلانے جیسی نعمت ہے۔ اگر ہر انسان صرف اپنے اِردگِرد کے چند لوگوں سے بھی خلوص اور محبت سے پیش آئے تو معاشرے کی تصویر بدل سکتی ہے۔

آج نوجوان نسل شدید تنہائی کا شکار ہے۔ سوشل میڈیا نے انہیں وقتی تفریح تو دی مگر حقیقی تعلقات چھین لیے۔ لوگ اب ایک دوسرے کے دُکھ سُننے کی بجائے صرف اپنی تصویریں دکھانے میں مصروف ہیں۔ ہر شخص اپنی زندگی کو دوسروں سے بہتر ثابت کرنے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ یہی مقابلہ بازی دلوں میں فاصلے پیدا کر رہی ہے۔ حالانکہ اصل خوشی دوسروں کو خوش دیکھنے میں ہے۔ جو شخص صرف اپنی ذات کے لیے جیتا ہے وہ آخر تنہائی کے اندھیروں میں کھو جاتا ہے۔ انسان پھول کی طرح ہے جو دوسروں کے لیے خوشبو بکھیرے تو خوبصورت لگتا ہے۔

محبت صرف خاندان یا دوستوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں ہر انسان کے لیے دل میں احترام پیدا کرنا ہوگا۔ مذہب، رنگ، نسل، زبان اور طبقے کے فرق سے اوپر اٹھ کر سوچنا ہوگا۔ یہ دنیا نفرت سے نہیں بلکہ محبت سے چلتی ہے۔ اگر بارش صرف امیروں کے گھروں پر برسے اور سورج صرف طاقتور لوگوں کے لیے نکلے تو دُنیا کا نظام بگڑ جائے۔ قدرت سب کے لیے یکساں ہے تو انسان کیوں نہیں؟ ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننا چاہیے۔ جو شخص دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے تب تعالیٰ اس کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوبارہ محبت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اپنے گھروں میں پیار بانٹیں۔ بچوں کو اخلاق سکھائیں۔ بزرگوں کی عزت کریں۔ دوستوں کے ساتھ خلوص سے پیش آئیں۔ پڑوسیوں کا خیال رکھیں۔ بھوکے کو کھانا کھلائیں۔ دُکھی انسان کو تسلی دیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے عمل معاشرے میں محبت کے بیج بوتے ہیں۔ یاد رکھیے! نفرت آگ کی طرح ہوتی ہے جو سب کچھ جلا دیتی ہے جبکہ محبت ٹھنڈی ہوا کی مانند ہے جو تھکے ہوئے دلوں کو سکون دیتی ہے۔

زندگی کا اصل حُسن محبت میں ہے۔ اگر انسان دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے تو دُنیا جنت کا نمونہ بن سکتی ہے۔ لوگوں سے پیار کرنا کمزوری نہیں بلکہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو شِکست دیتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے ایک خوبصورت معاشرے میں سانس لیں تو ہمیں محبت کے چراغ جلانے ہوں گے کیونکہ انسان کو انسان ہی کے کام آنا ہے۔

Check Also

Munafiqat Ka Mausam Aur Atomi Siasat

By Wusat Ullah Khan